کائنات کی تمام تر رعنائیاں، چہل پہل اور رنگینیاں تبھی تک معنی رکھتی ہیں جب تک انسان کے اندر ان کو محسوس کرنے کی سکت اور جسم میں توانائی موجود ہو۔ زندگی کی سب سے پہلی راحت تندرستی ہے۔ اردو ادب میں صحت کی اہمیت پر بہت کچھ لکھا گیا، لیکن مشہور شعر جو مرزا غالب سے منسوب ہو کر زبان زدِ عام ہوا، اس حقیقت کو نہایت سادہ مگر پر اثر انداز میں بیان کرتا ہے کہ”تندرستی ہزار نعمت ہے، جس کو مل جائے وہ غنیمت ہے”۔گزشتہ دنوں 7 اپریل کو دنیا بھر میں عالمی ادارہ صحت کے زیرِ اہتمام عالمی یومِ صحت منایا گیا۔ اس دن کا مقصد محض طبی سیمینارز کا انعقاد نہیں، بلکہ دنیا کو یہ باور کرانا ہے کہ صحت کوئی عیش و آرام کی چیز نہیں بلکہ ہر انسان کا بنیادی پیدائشی حق ہے۔ سال 2026 کا موضوع ہے کہ صحت کے لیے متحد ہو کر سائنس کا ساتھ دیا جائے۔ صحت مند آغازِ زندگی روشن مستقبل کی ضمانت ہے اور ایک مضبوط قوم کی عمارت صرف اسی صورت کھڑی کی جا سکتی ہے جب اس کی بنیاد، یعنی ہماری آنے والی نسلوں کی صحت پر سمجھوتہ نہ کیا جائے۔ انسانی زندگی کا ابتدائی دور، جس میں ماں کی صحت، محفوظ زچگی اور نومولود کی غذائیت شامل ہے، دراصل پورے مستقبل کا نقشہ مرتب کرتا ہے۔ اگر بچپن بیماریوں اور غذائی قلت کی نذر ہو جائے، تو روشن مستقبل کا خواب محض ایک سراب بن کر رہ جاتا ہے۔ عالمی یومِ صحت کی تاریخ 1948 میں عالمی ادارہ صحت کے قیام سے جڑی ہے اور 1950 سے یہ دن باقاعدگی سے منایا جا رہا ہے تاکہ عالمی سطح پر طبی مساوات قائم کی جا سکے۔ ترقی یافتہ ممالک جیسے امریکہ، جاپان اور کینیڈا نے ثابت کیا ہے کہ اگر ریاست اپنی عوام کی صحت کو ترجیح دے، تو اوسط عمر میں اضافہ اور معاشی خوشحالی خود بخود قدم چومتی ہے۔ وہاں صحت مند طرزِ زندگی، ورزش اور ذہنی سکون کو نظامِ تعلیم کا حصہ بنایا جاتا ہے، جبکہ ترقی پذیر ممالک میں اب بھی بنیادی طبی سہولیات کا حصول ایک کٹھن سفر ہے۔ پاکستان جیسے ممالک میں جہاں دیہی علاقوں میں ہسپتالوں کی کمی اور شہروں میں آلودگی کے مسائل ہیں، وہاں تندرستی کا حصول ایک جہدِ مسلسل ہے۔ خاص طور پر خواتین کی صحت کے حوالے سے شعور کی کمی ایک بڑا المیہ ہے جہاں زچگی کے دوران پیچیدگیاں اور بروقت طبی امداد نہ ملنا کئی قیمتی جانوں کے ضیاع کا سبب بنتا ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ایک صحت مند ماں ہی ایک صحت مند معاشرے کو جنم دیتی ہے۔ موجودہ دور کے بدلتے ہوئے حالات میں، جہاں ذہنی دباؤ اور نفسیاتی مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے، وہاں صحت کا تصور محض جسمانی بیماریوں سے نجات تک محدود نہیں رہا بلکہ اب ذہنی فلاح و بہبود کو بھی اتنی ہی اہمیت حاصل ہے جتنی کہ جسمانی توانائی کو۔ کم وسائل رکھنے والے افراد کے لیے بھی صحت مند رہنا ناممکن نہیں۔ صاف پانی کا استعمال، سادہ غذا، صفائی ستھرائی اور روزانہ کی ہلکی ورزش وہ نسخے ہیں جو مہنگے ہسپتالوں کے چکروں سے بچا سکتے ہیں۔ عالمی یومِ صحت 2026 ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ تندرستی وہ تاج ہے جو صرف تندرست لوگوں کے سروں پر ہوتا ہے اور اسے صرف بیمار شخص ہی دیکھ سکتا ہے۔ آئیے عہد کریں کہ ہم اپنی زندگیوں میں نظم و ضبط لائیں گے، متوازن غذا کو ترجیح دیں گے اور اپنے اردگرد کے لوگوں میں صحت کے حوالے سے شعور بیدار کریں گے کیونکہ جب آغاز صحت مند ہوگا، تبھی مستقبل روشن ہوگا۔ یاد رکھیے، صحت مند جسم ہی وہ واحد مقام ہے جہاں آپ کی روح کو سکون سے رہنے کا موقع ملتا ہے۔ اگر آج ہم نے اپنی اور اپنی نسلوں کی صحت پر سرمایہ کاری نہ کی، تو آنے والا کل ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گا۔ تندرستی کی اس نعمت کی قدر کیجیے کہ یہی زندگی کا اصل اثاثہ ہے۔














