مشرق وسطیٰ کا بحران سیاسی ہے یا مذہبی؟ ایک الہیاتی جنگ کا مقدمہ

0
14
ڈاکٹر مقصود جعفری
ڈاکٹر مقصود جعفری

مشرق وسطیٰ کا موجودہ بحران محض زمین کے ایک ٹکڑے کا تنازع نہیں بلکہ اس کی جڑیں اس گہری نظریاتی اور الہیاتی کشمکش میں پیوست ہیں جو صدیوں پرانی تاریخ اور مذہبی عقائد سے جڑی ہوئی ہیں۔ عالمی سیاست کے نقشے پر فلسطین اور اسرائیل کا معاملہ ایک ایسے موڑ پر آ کھڑا ہوا ہے جہاں سیاسی سمجھوتے مذہبی جنونیت کے سامنے بے بس نظر آتے ہیں۔ اس صورتحال کو محض سرحدی تنازع قرار دینا حقیقت سے آنکھیں چرانے کے مترادف ہے کیونکہ صیہونی تحریک کے پس پردہ وہ توسیع پسندانہ عزائم کارفرما ہیں جن کا مقصد ایک ایسی ریاست کی تشکیل ہے جو نیل سے فرات تک پھیلی ہوئی ہو۔ اس نظریے کو گریٹر اسرائیل کا نام دیا جاتا ہے جو کہ تھیوڈور ہرزل کے اس ایجنڈے کا تسلسل ہے جس نے صیہونیت کو ایک سیاسی اور مذہبی تحریک کے طور پر ابھارا۔
تاریخی اعتبار سے 1992 میں پیش کی گئی وہ تجاویز جن میں ایک جمہوری فلسطین کا تصور دیا گیا تھا اب ماضی کا قصہ معلوم ہوتی ہیں۔ اس تصور کے مطابق اگر مسلمان، مسیحی اور یہودی ایک ہی پارلیمانی نظام کے تحت اپنے تناسب سے اقتدار میں شریک ہوتے تو شاید خطہ امن کا گہوارہ بن سکتا تھا لیکن اسرائیل کی موجودہ پالیسیوں اور اقوام متحدہ کی دو ریاستی فارمولے پر مبنی قراردادوں کی مسلسل خلاف ورزی نے ان امکانات کو معدوم کر دیا ہے۔ لبنان اور نائیجیریا کی مثالیں موجود ہیں جہاں مختلف مذاہب کے پیروکار سیاسی اشتراک کے ذریعے پرامن زندگی گزار رہے ہیں لیکن اسرائیل نے ایسے تمام فارمولوں کو ردی کی ٹوکری میں ڈال کر ایک جارح اور دہشت گرد ریاست کا روپ دھار لیا ہے۔ صیہونیت کا انتہا پسندانہ ایجنڈا نہ صرف مسلمانوں بلکہ معتدل یہودیوں اور مسیحیوں کے لیے بھی ایک چیلنج بن چکا ہے کیونکہ یہ نظریہ مذہبی ہم آہنگی کے بجائے تسلط پسندی پر یقین رکھتا ہے۔
مذہبی بیانیے کی جنگ میں یہ تاثر عام کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ اسلام دیگر ابراہیمی مذاہب کے پیشواؤں کا احترام نہیں کرتا جبکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ قرآن کریم میں حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ذکر انتہائی عقیدت اور بلند مرتبے کے ساتھ کیا گیا ہے۔ سورہ بقرہ، سورہ اعراف اور سورہ آل عمران کی آیات اس بات کی گواہی دیتی ہیں کہ مسلمانوں کے نزدیک حضرت مریم اور ان کے فرزند حضرت عیسیٰ کی شان بے حد بلند ہے۔ سورہ آل عمران کی آیت 42 میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے مریم بے شک اللہ نے تجھے چن لیا اور تجھے پاک کیا اور تجھے جہان کی تمام عورتوں پر فضیلت عطا کی۔ اسی طرح آیت 45 میں حضرت عیسیٰ کو کلم? اللہ اور روح اللہ کے القاب سے نوازا گیا ہے۔ اس کے باوجود مسیحی بنیاد پرستوں کو یہ باور کرا کے گمراہ کیا جا رہا ہے کہ ان کے مفادات صیہونیت کے ساتھ جڑے ہیں حالانکہ تاریخی طور پر ان مذاہب کے درمیان تعلقات کی نوعیت یکسر مختلف رہی ہے۔ ہیرالڈ لیمب نے اپنی کتاب دی کروسیڈز میں لکھا ہے کہ پوپ اربن نے اسلام کو مسیح دشمن قرار دے کر مسیحی دنیا کو اشتعال دلایا تھا اور آج وہی پرانی کہانی دہرائی جا رہی ہے تاکہ مسلمانوں کے خلاف نفرت کی آگ بھڑکائی جا سکے۔
2026 کے معاشی اور سیاسی تناظر میں دیکھا جائے تو امریکی عوام کے مفادات کو بھی اس جنگ کی بھینٹ چڑھایا جا رہا ہے۔ ایک طرف عام امریکی شہری روزگار کی کمی اور صحت کی سہولیات نہ ہونے کے باعث معاشی زبوں حالی کا شکار ہے تو دوسری طرف واشنگٹن کی قیادت اسرائیل کو 19.8 بلین ڈالر اور دیگر جنگی اخراجات کے لیے کھربوں ڈالر کے فنڈز فراہم کر رہی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ اور بنجمن نیتن یاہو کا گٹھ جوڑ عالمی امن کے لیے ایک ایسے خطرے کی شکل اختیار کر چکا ہے جو دنیا کو تیسری عالمی جنگ کی طرف لے جا سکتا ہے۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ امریکی ٹیکس دہندگان کا پیسہ ان کی اپنی فلاح و بہبود کے بجائے جنگی جنون کی نذر ہو رہا ہے جبکہ ان کے اپنے بچے تعلیم اور رہائش کی بنیادی سہولیات سے محروم ہو رہے ہیں۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ براہ راست تصادم نے تیل کی عالمی منڈیوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے جس کے اثرات پوری دنیا کی معیشت پر مرتب ہو رہے ہیں اور عالمی مالیاتی نظام شدید دباؤ کا شکار ہے۔
انسانیت کی بقا اب اس بات میں ہے کہ عالمی برادری خواب غفلت سے بیدار ہو اور ان قوتوں کا ہاتھ روکے جو اپنے ذاتی اور سیاسی مفادات کے لیے کرہ ارض کو تباہی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔ برٹرینڈ رسل جیسے مفکرین نے بہت پہلے ایٹمی دور میں جنگ کے ہولناک نتائج سے خبردار کیا تھا لیکن موجودہ عالمی قیادت ان اسباق کو فراموش کر چکی ہے۔ ٹرمپ کی پالیسیاں امریکہ کو بین الاقوامی سطح پر تنہا کر رہی ہیں اور اسے ایک فاشسٹ ریاست کے طور پر پیش کر رہی ہیں۔ امن کا واحد راستہ یہی ہے کہ بین الاقوامی قوانین کا احترام کیا جائے اور طاقت کے زور پر کمزور قوموں کو کچلنے کا سلسلہ بند کیا جائے۔ دنیا کو اب ایسے مصلحین کی ضرورت ہے جو انسانیت، مساوات اور انصاف کی بنیاد پر نئے عالمی نظام کی بنیاد رکھ سکیں تاکہ آنے والی نسلیں ایک محفوظ اور پرامن ماحول میں سانس لے سکیں۔ اسرائیل کی جانب سے غزہ میں معصوم شہریوں، ہسپتالوں اور سکولوں پر حملے کسی بھی الہامی مذہب کی تعلیمات کے مطابق درست نہیں قرار دیے جا سکتے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ جنگی مجرموں کا محاسبہ کیا جائے اور مشرق وسطیٰ کے مسئلے کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق فوری طور پر حل کیا جائے۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here