امریکی آئین کی چودہویں ترمیم جو 1868 میں منظور ہوئی تھی دراصل برطانوی نوآبادیاتی نظام سے آزادی حاصل کرنے والی ان 13 ریاستوں کے ایک بڑے تنازع کا حل تھی جنہیں اب ریاست ہائے متحدہ امریکہ کہا جاتا ہے۔ اس ترمیم کا بنیادی مقصد یہ طے کرنا تھا کہ اس ملک کا شہری کہلانے کا حقدار کون ہے۔ اس سے قبل سیاہ فام افراد، مقامی امریکی باشندے اور عارضی طور پر آنے والے افراد شہریت کے حق سے محروم تھے اور یہ وہ دور تھا جب انسانی منڈیوں میں سیاہ فاموں کی خرید و فروخت ایک عام فعل تھا۔ یورپی ممالک سے معاشی بدحالی، مذہبی جبر اور سیاسی انتقام سے تنگ آکر ہجرت کرنے والے پناہ گزینوں کو ایک قوم بنانے کے لیے آئین سازوں نے اس ترمیم کے ذریعے ملک میں پیدا ہونے والے تمام افراد کو شہریت عطا کی تاکہ وہ متحد ہو کر ریاست کا دفاع کر سکیں۔ تاہم اس قانون میں ایک اہم استثنیٰ رکھا گیا تھا کہ غیر ملکی سفارت کاروں، حملہ آوروں یا ریاست کے خلاف سازش کرنے والوں کے ہاں پیدا ہونے والے بچوں کو شہریت نہیں دی جائے گی کیونکہ وہ امریکی دائرہ اختیار کے مکمل تابع نہیں سمجھے جاتے تھے۔موجودہ دور میں اسی قانونی نکتے کی تشریح کے لیے امریکی سپریم کورٹ میں ایک اہم مقدمہ زیر بحث ہے جس میں غیر قانونی یا عارضی طور پر مقیم افراد کے بچوں کو ملنے والی پیدائشی شہریت پر سوال اٹھایا گیا ہے۔ اگرچہ اصولی طور پر شہریت کے قوانین میں تبدیلی کا اختیار صرف کانگریس کے دونوں ایوانوں کے پاس ہے جو کسی نئی ترمیم کے ذریعے اس حق کو محدود کر سکتے ہیں لیکن سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک انتظامی حکم نامے کے ذریعے اس روایت کو ختم کرنے کی کوشش کی۔ جب ایک وفاقی عدالت نے اس صدارتی حکم کو کالعدم قرار دیا تو معاملہ سپریم کورٹ تک پہنچا جہاں گزشتہ بدھ یکم اپریل کو اس پر طویل بحث ہوئی۔ اب عدالت عالیہ اس مقدمے کا فیصلہ جون یا جولائی تک سنانے والی ہے جس کے نتائج کے بارے میں حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا۔عالمی قوانین کے عمومی تناظر میں یہ تصور موجود رہا ہے کہ کسی بھی ریاست کی حدود میں چاہے وہ بحری جہاز ہو، ہوائی جہاز ہو یا کوئی اور ذریعہ سفر، وہاں پیدا ہونے والا بچہ اس سرزمین کا شہری تصور کیا جاتا ہے چاہے اس کے والدین کی قومیت کچھ بھی ہو۔ امریکہ میں اس قانون کا اطلاق نہایت وسیع رہا ہے جس کے تحت ہر پیدا ہونے والا بچہ امریکی شہریت کا حامل قرار پاتا ہے۔ امریکہ کی بنیاد ہی نوآبادکاروں پر رکھی گئی ہے جس کی تاریخ چند صدیوں پر محیط ہے اور جہاں جارج واشنگٹن کی قیادت میں برطانوی تسلط کے خلاف جنگ آزادی جیت کر ایک نئی ریاست قائم کی گئی تھی۔ اس ملک کے اصل باشندے مقامی انڈین تھے جنہیں طاقت کے زور پر بے دخل کیا گیا اور بعد ازاں یہ ملک مہاجرین کی پناہ گاہ بن گیا۔ سابق صدر کینیڈی نے بھی امریکہ کو مہاجرین کی قوم قرار دیا تھا اور دلچسپ بات یہ ہے کہ خود موجودہ مخالفین کے آباؤ اجداد کا تعلق بھی جرمنی جیسے ممالک سے رہا ہے۔ اب جبکہ عدالت اس دیرینہ قانون پر نظرثانی کر رہی ہے تو پوری دنیا کی نظریں اس فیصلے پر لگی ہیں جو امریکہ میں مستقبل کی آبادکاری اور شہریت کے تصور کو تبدیل کر سکتا ہے۔
٭٭٭

![2021-04-23 18_32_09-InPage - [EDITORIAL-1-16] رمضان رانا](https://weeklynewspakistan.com/wp-content/uploads/2021/04/2021-04-23-18_32_09-InPage-EDITORIAL-1-16.png)










