تاریخ کے اوراق شاہد ہیں کہ جب بھی انسانیت نے اپنی حدود سے تجاوز کیا اور طاقت کے نشے میں بدمست ہوکر توازنِ عالم کو بگاڑنے کی کوشش کی، تو قدرت نے اس کا جواب نہایت عبرتناک صورت میں دیا۔ آج ہم ایک ایسے ہی دوراہے پر کھڑے ہیں جہاں دو بڑی قوتوں کی کشمکش محض ان کے اپنے مفادات تک محدود نہیں رہی بلکہ اس کی تپش پوری دنیا کے چولہوں تک پہنچنے والی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کے تپتے ہوئے صحراؤں اور نیلگوں سمندروں کے درمیان واقع ایک ایسی آبی گزرگاہ جس کی اہمیت کسی انسانی شہ رگ سے کم نہیں، آج عالمی سیاست کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ اگر اس مقام پر جنگ کے شعلے بھڑک اٹھتے ہیں اور یہ سلسلہ ایک ماہ تک بھی محیط رہتا ہے، تو ہم ایک ایسی دنیا کا نقشہ دیکھیں گے جس کا تصور شاید ہم نے خوابوں میں بھی نہ کیا ہو۔ یہ محض دو ممالک کی جنگ نہیں ہوگی بلکہ یہ معیشت، خوراک اور انسانی بقا کے خلاف ایک عالمی اعلانِ جنگ ہوگا۔ جب ہم اس ممکنہ صورتحال کا گہرا جائزہ لیتے ہیں تو سب سے پہلا اور براہِ راست وار اس ایندھن پر پڑے گا جو دنیا کی ترقی کا پہیہ چلاتا ہے۔ مائع سونا یعنی تیل کی قیمتیں جس رفتار سے آسمان کو چھوئیں گی، وہ عالمی منڈیوں میں ایک زلزلہ برپا کر دے گا۔ ماہرینِ معیشت کی پیش گوئیوں کے مطابق اگر رسد کا یہ راستہ مسدود ہوتا ہے تو عام آدمی کی پہنچ سے یہ نعمت اتنی دور ہو جائے گی کہ روزمرہ کی زندگی مفلوج ہو کر رہ جائے گی۔ یہ صرف ایک خام مال کی کمی نہیں ہوگی بلکہ یہ اس زنجیر کی پہلی کڑی ہے جو پوری دنیا کو کسنے والی ہے۔ جب تیل مہنگا ہوگا تو نقل و حمل کے اخراجات میں کئی گنا اضافہ ہو جائے گا، جس کا براہِ راست اثر منڈیوں میں موجود اشیائے ضروریہ پر پڑے گا۔ یہ ایک ایسا طوفان ہوگا جو کسی سرحد یا کسی قوم کی تخصیص نہیں کرے گا بلکہ امیر اور غریب دونوں کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔ اسی طرح قدرتی گیس کا بحران ایک الگ ہیبت ناک تصویر پیش کر رہا ہے۔ دنیا کی بڑی صنعتیں اور وہ ممالک جہاں شدید سردی پڑتی ہے، ان کا دارومدار اسی توانائی پر ہے۔ اگر یہ سپلائی متاثر ہوتی ہے تو کارخانے بند ہو جائیں گے اور لاکھوں لوگ بیروزگاری کے اندھیروں میں دھکیل دئیے جائیں گے۔ صنعتی پیداوار میں کمی کا مطلب ہے کہ عالمی منڈی میں مصنوعات کی قلت پیدا ہونا اور جب طلب زیادہ اور رسد کم ہو جائے تو مہنگائی کا وہ جن بوتل سے باہر نکلتا ہے جسے قابو کرنا کسی بھی مرکزی بینک کے بس میں نہیں رہتا۔ عالمی مالیاتی نظام جو پہلے ہی مختلف بحرانوں کا شکار ہے، اس دباؤ کو برداشت کرنے کی سکت نہیں رکھتا۔ سرمایہ کاروں کا اعتماد متزلزل ہو جائے گا اور بچت کے تمام ذخائر مٹی میں ملنے کا خدشہ پیدا ہو جائے گا۔ یہ ایک ایسا معاشی قتلِ عام ہوگا جس کی مثال جدید تاریخ میں نہیں ملتی۔ لیکن اس جنگ کا سب سے المناک پہلو وہ ہوگا جو انسانی تھالی میں موجود نوالے پر اثر انداز ہوگا۔ زراعت کا براہِ راست تعلق توانائی اور مصنوعی کھاد سے ہے۔ جب گیس اور تیل کی قیمتیں بڑھیں گی تو کھاد کی تیاری ناممکن یا انتہائی مہنگی ہو جائے گی۔ کسان اپنی فصلوں کو وہ غذا فراہم نہیں کر سکیں گے جس کی انہیں ضرورت ہوتی ہے، نتیجتاً زمین اپنی پیداواری صلاحیت کھو دے گی۔ یہ صورتحال قحط اور بھوک کی اس وبا کو جنم دے گی جو گولیوں سے زیادہ مہلک ثابت ہوگی۔ غریب ممالک جہاں پہلے ہی وسائل کی کمی ہے، وہاں کے عوام کے پاس احتجاج کے سوا کوئی راستہ نہیں بچے گا۔ بھوک وہ آگ ہے جو تہذیب کے تمام آداب کو جلا کر راکھ کر دیتی ہے۔ جب لوگ بھوکے ہوں گے تو وہ سڑکوں پر نکلیں گے، جس سے خانہ جنگی اور داخلی انتشار کے وہ دروازے کھلیں گے جنہیں بند کرنا ناممکن ہو جائے گا۔ ریاستیں اندرونی طور پر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوں گی اور نظم و ضبط کا تصور ختم ہو جائے گا۔ اس تناظر میں اگر ہم اس ایک ماہ کے عرصے کا تصور کریں تو عالمی جی ڈی پی یعنی مجموعی قومی پیداوار میں اتنی بڑی گراوٹ آئے گی کہ دنیا کئی دہائیاں پیچھے چلی جائے گی۔ ہسپتالوں میں ادویات کی قلت ہوگی، تعلیمی ادارے بند ہو جائیں گے اور انسانی ترقی کا سفر الٹے قدموں چلنے لگے گا۔ یہ جنگ کسی ایک فریق کی جیت یا ہار کا فیصلہ نہیں کرے گی بلکہ یہ پوری انسانیت کی شکست ہوگی۔ طاقتور ممالک شاید اپنی فتوحات کے جھنڈے گاڑنے کا دعویٰ کریں لیکن ان جھنڈوں تلے سوائے ویرانی اور لاشوں کے کچھ نہیں ہوگا۔ یہ ایک ایسی تاریک سرنگ ہوگی جس کا دوسرا سرا روشنی سے محروم ہے۔ انسانیت کو آج اس موڑ پر یہ سوچنا ہوگا کہ کیا چند سیاسی مقاصد اور انا کی تسکین اس قدر قیمتی ہے کہ پوری زمین کو جہنم بنا دیا جائے؟ عقل و دانش کا تقاضا تو یہی ہے کہ طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات اور فہم و فراست سے کام لیا جائے کیونکہ جنگیں کبھی مسائل کا حل نہیں ہوتیں بلکہ وہ خود ایک نیا اور عظیم تر مسئلہ بن کر ابھرتی ہیں۔ اگر آج دنیا کے مقتدر حلقوں نے ہوش کے ناخن نہ لیے تو آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی اور تاریخ ہمیں ان مجرموں کے طور پر یاد رکھے گی جنہوں نے اپنے ہاتھوں سے اپنی بربادی کا سامان کیا۔ ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ امن محض جنگ کی عدم موجودگی کا نام نہیں بلکہ یہ انصاف اور معاشی استحکام کی وہ بنیاد ہے جس پر انسانیت کی عمارت کھڑی ہے۔ اس عمارت کو گرانے کی کوشش کرنا خود اپنے گھر کو آگ لگانے کے مترادف ہے اور اس آگ میں جلنے والے صرف سپاہی نہیں ہوں گے بلکہ وہ معصوم بچے اور بوڑھے بھی ہوں گے جن کا اس سیاست سے کوئی لینا دینا نہیں۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم تباہی کے اس راستے سے پیچھے ہٹ جائیں اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے۔
٭٭٭













