عمران خان کی سیاسی جدوجہد محض ایک فرد کی اقتدار کی جنگ نہیں رہی بلکہ یہ پاکستان کے سیاسی، عدالتی اور آئینی نظام کی ایک ایسی آزمائش بن چکی ہے جس نے ریاستی اداروں کے کردار پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ایک سابق وزیر اعظم جو کبھی اقتدار کے ایوانوں میں فیصلہ ساز قوتوں کے قریب سمجھے جاتے تھے، آج اسی نظام کے سامنے انصاف کے لیے دستک دے رہے ہیں مگر ان کی فریاد سننے والا کوئی دکھائی نہیں دیتا۔ عمران خان کی گرفتاری، مختلف مقدمات میں سزائیں اور پھر ان سزاؤں کے خلاف اپیل دائر کرنے میں پیش آنے والی رکاوٹیں ایک ایسی تصویر پیش کرتی ہیں جس میں قانون کمزور اور مقتدر حلقے زیادہ نمایاں نظر آتے ہیں۔
قانونی ماہرین بارہا یہ سوال اٹھا چکے ہیں کہ اگر کسی قیدی کو اپنے وکیل تک رسائی نہ دی جائے، وکالت نامے پر دستخط تک نہ کروائے جا سکیں اور اپیل کے بنیادی حق کو عملاً معطل کر دیا جائے تو پھر انصاف کا تصور کہاں باقی رہ جاتا ہے۔ یہ محض ایک سیاسی مقدمہ نہیں بلکہ آئین کے اس بنیادی اصول کا امتحان ہے جس کے تحت ہر شہری کو منصفانہ سماعت اور دفاع کا حق حاصل ہوتا ہے۔ یہاں سوال یہ نہیں کہ عمران خان کے بیانیے سے اتفاق کیا جاتا ہے یا اختلاف، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان میں قانون سب کے لیے برابر ہے۔ اگر ایک سابق وزیر اعظم کو اپنے وکیل سے ملنے، دستاویزات پر دستخط کرنے اور اپیل دائر کرنے میں اس قدر مشکلات کا سامنا ہے تو پھر ایک عام شہری کے ساتھ کیا سلوک ہوتا ہوگا جس کے پاس نہ سیاسی طاقت ہے، نہ ابلاغی ذرائع کی توجہ اور نہ ہی عوامی حمایت حاصل ہے۔
حالیہ عدالتی کارروائیوں اور پسِ پردہ سرگرمیوں کو دیکھتے ہوئے یہ تاثر مزید گہرا ہو رہا ہے کہ اس تمام عمل میں مقتدر قوتوں کا کردار محض غیر جانبدار مبصر کا نہیں ہے۔ سیاسی درجہ حرارت کو قابو میں رکھنے، ایک خاص سیاسی قوت کو محدود کرنے اور عدالتی عمل پر غیر محسوس دباؤ برقرار رکھنے کے الزامات مسلسل گردش میں ہیں۔ اگرچہ ان الزامات کی کھلی تصدیق کبھی سامنے نہیں آتی مگر واقعات کا تسلسل ان شکوک کو جنم دیتا ہے۔ عدلیہ کی آزادی صرف فیصلوں سے نہیں بلکہ انصاف تک عام رسائی سے بھی ثابت ہوتی ہے۔ اگر عدالتیں احکامات جاری کریں اور ان پر عملدرآمد نہ ہو، اگر وکلا کو اپنے مؤکل تک پہنچنے سے روکا جائے اور اگر سماعتوں کو التوا اور رکاوٹوں کی نذر کر دیا جائے تو یہ محض ایک فرد کے حقوق کی پامالی نہیں بلکہ عدالتی وقار کے لیے بھی ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ یہ صورتحال خود عدلیہ کی توہین کے مترادف ہے کہ اس کے احکامات زمینی سطح پر بے اثر دکھائی دیں۔
پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی سیاسی مسائل کا حل سیاسی میدان کے بجائے طاقت کے ذریعے نکالنے کی کوشش کی گئی تو نتیجہ مزید انتشار کی صورت میں نکلا۔ بے چینی، محرومی اور ناانصافی کا احساس جب عوامی شعور میں راسخ ہو جائے تو معاشرے تبدیلی اور بیداری کی طرف بڑھتے ہیں۔ طاقت وقتی سکوت تو پیدا کر سکتی ہے مگر دیرپا استحکام نہیں لا سکتی۔ علی ابن ابی طالب کا یہ قول آج بھی ریاستی نظاموں کے لیے ایک اٹل حقیقت ہے کہ کفر کا نظام تو چل سکتا ہے مگر ظلم اور بے انصافی کا نظام نہیں چل سکتا۔ اگر انصاف کے دروازے بند ہوں، اگر قانون کی تشریح طاقت کے ترازو میں ہونے لگے اور اگر شہریوں کا اعتماد عدلیہ اور ریاستی اداروں سے اٹھنے لگے تو پھر ریاستیں صرف آئین سے نہیں بلکہ اعتماد کے فقدان سے کمزور ہوتی ہیں۔ پاکستان کو اس وقت سب سے زیادہ ضرورت انصاف کے اس تصور کو زندہ کرنے کی ہے جہاں اختلاف رکھنے والا بھی خود کو محفوظ سمجھے اور قانون طاقتور اور کمزور کے درمیان کوئی فرق نہ کرے۔














