عیدالاضحی:امریکہ میںمسلمان مہنگائی سے شدید متاثر!!!

0
18
کوثر جاوید
کوثر جاوید

آج کا دن انتہائی بابرکت اور مقدس ہے کیونکہ نو ذوالحجہ کو دنیا بھر سے بیس لاکھ سے زائد مسلمان میدان عرفات میں جمع ہو کر اللہ رب العزت کے حضور لبیک اللہم لبیک کی صدائیں بلند کر رہے ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ پاک تمام حاجیوں کا حج اور ان کی عبادات قبول فرمائے اور جو لوگ اس سعادت سے محروم رہ گئے ہیں ان کے لیے مستقبل میں اسباب فراہم فرمائے۔ اس کے اگلے دن دس ذوالحجہ کو حاجیوں کے علاوہ پوری دنیا میں عید الاضحیٰ کی نماز ادا کی جاتی ہے اور سنت ابراہیمی کی پیروی میں قربانی کا اہم فریضہ سرانجام دیا جاتا ہے۔
امریکہ میں بھی وقت کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور حلال غذا کا کاروبار امریکی معیشت میں اربوں ڈالر کا حصہ ڈال رہا ہے۔ تقریباً تمام امریکی ریاستوں میں مسلمان آباد ہیں جن میں ریاست میری لینڈ نمایاں ہے جہاں لاکھوں مسلمان مقیم ہیں اور وہاں کے بڑے اسلامک سینٹرز انتہائی موثر انداز میں دین اور دنیا دونوں کا کام کر رہے ہیں۔ حال ہی میں اکنا کا سالانہ کنونشن بالٹی مور میری لینڈ میں منعقد ہوا جس میں بیس ہزار سے زائد مسلمانوں نے خاندانوں کے ساتھ شرکت کی اور یہ ایک کامیاب اجتماع ثابت ہوا۔ تاہم اس ایونٹ کو مزید موثر اور جامع بنانے کے لیے چند گزارشات پر عمل کرنا ضروری ہے کیونکہ ان کنونشنز میں اہل بیت اطہار اور اولیائے کرام کے تذکرے پر مبنی سیشنز کا فقدان نظر آتا ہے۔ ہمیں یہ ذہن نشین کرنے کی ضرورت ہے کہ اسلام کی بقا قربانیوں مرہون منت ہے جیسا کہ نواسہ رسول اور ان کے جلیل القدر ساتھیوں نے کربلا میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے حق کو ہمیشہ کے لیے زندہ کر دیا۔ اس کے ساتھ ساتھ برصغیر کے صوفیائے کرام اور اولیائے کرام بالخصوص خواجہ غریب نواز کی تاریخ سے نئی نسل کو آگاہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے جنہوں نے محبت اور معرفت کے ذریعے لاکھوں غیر مسلموں کو دائرہ اسلام میں داخل کیا۔ امید ہے کہ اکنا انتظامیہ آئندہ کی تقریبات میں تمام مکاتب فکر کے مسلمانوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اہل بیت اور اولیائے کرام کی سیرت پر خصوصی سیشنز کا اہتمام کرے گی۔
دوسری جانب حالیہ عالمی تنازعات کے نتیجے میں امریکہ کو بھی مہنگائی کے شدید طوفان کا سامنا ہے۔ اگرچہ امریکہ دنیا کا وہ ملک ہے جہاں روزمرہ کی اشیاء مہنگی ہونے کے بعد دوبارہ پرانی قیمتوں پر واپس آ جاتی ہیں لیکن حالیہ دنوں میں پٹرول کی قیمتوں میں اچانک بڑا اضافہ ہوا ہے اور محض دو ہفتوں میں دو ڈالر فی گیلن تک قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔ کاروباری حضرات نے امپورٹ ٹیرف کے باوجود اپنا منافع کم کر کے قیمتوں کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی لیکن پٹرول کی گرانی نے امریکی شہریوں کو سخت پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔ اس مہنگائی کا سب سے زیادہ اثر تارکین وطن پر پڑتا ہے کیونکہ جب وہ اپنے آبائی ملک پاکستان جاتے ہیں تو انہیں جہاز کے ٹکٹوں سے لے کر تحائف اور دیگر ضروریات زندگی کی خریداری تک ہر چیز آسمان کو چھوتی ہوئی ملتی ہے۔ امریکی سیاستدان عوام کو سہولیات دینے اور قیمتوں میں کمی کے لیے مسلسل کوششوں میں مصروف رہتے ہیں جبکہ اس کے برعکس پاکستان میں حکمران طبقہ عوامی مسائل سے لاپرواہ ہو کر ذاتی مفادات اور بیرونی قرضوں پر انحصار کر رہا ہے جس کی وجہ سے وہاں ایک بار قیمتیں بڑھ جائیں تو واپسی ناممکن ہو جاتی ہے۔
امریکہ میں عید کے اس موقع پر مسلمان مہنگائی سے شدید متاثر دکھائی دے رہے ہیں جس کے باعث حلال فوڈ اسٹورز اور ریسٹورنٹس پر ویسی رونق نظر نہیں آ رہی اور لوگوں نے طویل سفر اور تفریحی مقامات پر جانے کا سلسلہ بھی کم کر دیا ہے۔ قربانی کے جانوروں کی قیمتیں بھی متوسط طبقے کی پہنچ سے باہر ہو چکی ہیں جس کا بہترین حل یہ ہے کہ امریکی مسلمان قربانی کے پیسے پاکستان بھیج دیں تاکہ وہاں ڈالر کی قدر کے باعث آسانی سے فریضہ ادا ہو سکے اور گوشت بھی مستحق لوگوں تک پہنچ جائے۔ توقع ہے کہ امریکی حکومت پٹرول پر ٹیکسز کم کر کے شہریوں کو جلد ریلیف فراہم کرے گی کیونکہ اس وقت عید کے موقع پر مقامی امریکیوں کے ساتھ ساتھ تارکین وطن کی کمیونٹیز بھی شدید متاثر ہیں۔ اس مبارک مہینے میں دعا ہے کہ اللہ پاک پوری دنیا میں امن قائم فرمائے اور پاکستان کو ایماندار قیادت سے نوازنے کے ساتھ ساتھ امریکہ میں بھی سب کے لیے مزید بہتری اور آسانی پیدا فرمائے۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here