اقوامِ عالم کے درمیان جنگوں کا بنیادی سبب ہمیشہ زر اور زمین یعنی وہ وسائل رہے ہیں جنہیں اللہ رب العالمین نے اپنی خاص قدرت سے انسان کو مہیا کیا ہے۔ ان وسائل پر کبھی کسی ایک قوم کا تصرف بڑھ جاتا ہے تو کبھی کوئی دوسری قوم محنت کے بل بوتے پر انہیں زیادہ مقدار میں حاصل کر لیتی ہے۔ اقتدار کی منتقلی کا یہ قدرتی عمل اگر امن و امان کے ساتھ جاری رہے تو یہ دنیا امن کا گہوارہ بن جاتی ہے لیکن جب کوئی قوم محنت کی بجائے ناجائز ذرائع کا استعمال کر کے غاصب بننے کی کوشش کرتی ہے تو دنیا کا پورا نظام درہم برہم ہو کر رہ جاتا ہے۔ افتخار عارف نے اس صورتحال کی عکاسی کچھ یوں کی ہے کہ!
جاہ و جلال, دام و درم اور کتنی دیر
ریگِ رواں پہ نقش قدم اور کتنی دیر
اب اور کتنی دیر یہ دہشت، یہ ڈر، یہ خوف
گرد و غبار عہدِ ستم اور کتنی دیر
بظاہر تو امریکہ اس وقت دنیا کی معیشتوں میں سرِ فہرست نظر آتا ہے لیکن اپنی 250 ویں سالگرہ مناتے ہوئے اسے اپنا زوال بھی روزِ روشن کی طرح واضح دکھائی دے رہا ہے۔ جب امریکی صدر بیرونی ممالک کے دورے صرف اس لئے کرنے پر مجبور ہو جائے کہ وہ اپنے عسکری اثر و رسوخ کے زور پر انہیں امریکہ میں سرمایہ کاری کیلئے راضی کر سکے، تو اربابِ دانش بخوبی سمجھ جاتے ہیں کہ طاقت کا یہ مرکز اب اندرونی طور پر کھوکھلا ہو رہا ہے۔ 1986 میں جس امریکہ کا قرض 5 ٹرلین ڈالر تھا، اب وہی قومی قرضہ 39 ٹرلین ڈالر سے بھی تجاوز کر چکا ہے۔ بالفاظِ دیگر اب امریکہ کا ہر شہری اوسطاً 114000 ڈالر کا مقروض ہے۔ افراطِ زر کے باعث شرحِ سود اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ سالانہ بجٹ کا ایک بہت بڑا حصہ صرف اس قرض پر سود کی ادائیگی کی نذر ہو جاتا ہے۔ موجودہ سال 2026 میں امریکی حکومت اپنے سالانہ اخراجات کا سترہ فیصد حصہ صرف سود چکانے پر خرچ کر رہی ہے۔ کسی شاعر نے اسی معاشی غلامی پر کہا تھا کہ
سودی اداروں کی قسطوں سے بچ سکو تو چلو
یہاں تو سانس بھی ملتی ہے اب گروی رکھ کر
امریکہ کی ابتدائی نسلوں نے انتھک محنت و مشقت کر کے دنیا میں ایک اعلیٰ مقام حاصل کیا تھا لیکن اب نئی نسل کی عدم توجہی اور معاشی پالیسیوں کے سبب ملک زبوں حالی کا شکار ہو رہا ہے۔ اس معاشی دباؤ کو کم کرنے اور مشرقِ وسطیٰ کے معدنی وسائل سے فائدہ اٹھانے کے لئے متعدد جنگی محاذ کھولے گئے ہیں، جس کے نتیجے میں غزہ، عراق، لیبیا، یمن، شام، لبنان اور ایران جیسے خطے براہِ راست متاثر ہو رہے ہیں اور ہزاروں بے گناہ انسان لقمہِ اجل بن چکے ہیں۔ اس خطے کی موجودہ صورتحال اور بڑھتی ہوئی مزاحمت ممکنہ طور پر اس عالمی جارحیت کے سامنے ایک مضبوط بند باندھنے کا باعث بن جائے، کیونکہ جو اقوام الہیٰ قوانین سے انحراف کرتی ہیں وہ زوال کا شکار ہوتی ہیں، جیسا کہ سورة طحہ میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ جس نے میری یاد سے منہ پھیرا تو بیشک اس کے لیے تنگ زندگانی ہے۔
سود کی بنیاد پر قائم سرمایہ دارانہ نظام اس وقت پوری دنیا کی معیشت کے لئے تباہی کا پیش خیمہ بن چکا ہے۔ اس بحران کی زد میں صرف امریکہ ہی نہیں بلکہ دنیا کی بڑی معیشتوں پر مشتمل جی سیون کے تمام ممالک بھی شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ اسلام میں سود کو اللہ اور اس کے رسول کے خلاف جنگ قرار دیا گیا ہے اور سورہ البقرہ کی آیت 275 میں واضح طور پر ارشادِ باری تعالیٰ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خرید و فروخت کو حلال اور سود کو حرام قرار دیا ہے۔ معاشی بقا کا واحد راستہ اب یہی بچا ہے کہ عصرِ حاضر کے تمام خوشحال اور امیر ممالک اپنی معیشتوں کو سود جیسی لعنت سے پاک کریں، ورنہ موجودہ عالمی معاشی بحران عارف شفیق کے اس شعر کا عملی مصداق بن جائے گا کہ
غریبِ شہر تو فاقے سے مر گیا، عارف
امیرِ شہر نے ہیرے سے خودکشی کر لی















