برطانیہ سے دس ہزار افراد کی بے دخلی: تارکین وطن کے مستقبل پر گہرے اثرات

0
10

تجزیہ نگار؛ مجیب ایس لودھی
موجودہ دور میں بین الاقوامی سطح پر آبادی کی منتقلی اور ہجرت کے قوانین میں غیر معمولی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ حال ہی میں برطانوی حکومت کی جانب سے تقریباً دس ہزار افراد کو زبردستی ملک بدر کرنے کا اقدام محض ایک انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ یہ اس گہری سیاسی اور سماجی تبدیلی کا مظہر ہے جو یورپی ممالک میں تارکین وطن کے حوالے سے جنم لے رہی ہے۔ اس بڑے قدم نے نہ صرف تارکین وطن برادریوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے بلکہ خود برطانوی معاشرے کے اندر بھی انسانی حقوق اور معاشی ضرورتوں کے مابین ایک نئی بحث کا آغاز کر دیا ہے۔ ان بے دخل کیے جانے والے افراد میں اکثریت ان لوگوں کی ہے جن کے قانونی کاغذات مکمل نہیں تھے یا جنہوں نے ویزا کی مدت ختم ہونے کے بعد بھی وہاں قیام جاری رکھا، جبکہ ایک بڑی تعداد ان بیرونی ممالک کے شہریوں کی بھی ہے جو وہاں سنگین جرائم میں ملوث پائے گئے۔ حکومت نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی افرادی قوت میں زبردست اضافہ کر کے اس مہم کو تیز کیا ہے تاکہ غیر قانونی طور پر مقیم افراد کو فوری طور پر ان کے آبائی ممالک واپس بھیجا جا سکے۔
اس نئی حکمت عملی کے اثرات خاص طور پر جنوبی ایشیا اور بالخصوص پاکستانی برادری پر گہرے مرتب ہو رہے ہیں۔ ماضی میں برطانیہ جانے کے لیے محنت مزدوری اور دیکھ بھال کے شعبوں کو آسان ترین ذریعہ سمجھا جاتا تھا، لیکن اب حکومت نے ان شعبوں میں بیرونی بھرتیوں پر سخت پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اب غریب اور ترقی پذیر ممالک کے لوگوں کے لیے وہاں روزگار حاصل کرنا پہلے سے کہیں زیادہ مشکل ہو چکا ہے۔ اس کے ساتھ ہی مستقل سکونت حاصل کرنے کے عمل کو بھی انتہائی کٹھن بنا دیا گیا ہے۔ جہاں پہلے پانچ برسوں میں مستقل رہائش کی اجازت مل جایا کرتی تھی، وہاں اب اس مدت کو بڑھا کر دس سال کر دیا گیا ہے۔ صرف وہی افراد جلد مستقل سکونت حاصل کر سکتے ہیں جن کی سالانہ آمدنی بہت زیادہ ہو یا جو اعلیٰ درجے کے پیشہ ورانہ شعبوں جیسے طب اور تدریس سے وابستہ ہوں۔ اس کے علاوہ معمولی جرائم یا قوانین کی معمولی خلاف ورزی پر بھی ویزا منسوخ کرنے اور ملک بدری کی کارروائی شروع کرنے کے قوانین کو نافذ کر دیا گیا ہے، جس کی وجہ سے تارکین وطن مسلسل عدم تحفظ کا شکار ہیں۔
پناہ گزینوں کے حوالے سے بھی برطانوی رویہ انتہائی سخت ہو چکا ہے۔ سیاسی یا جانی تحفظ کی بنیاد پر پناہ حاصل کرنے والے افراد کو اب مستقل رہائش دینے کے بجائے محض ڈھائی سال کا عارضی قیام دیا جا رہا ہے، جس کے بعد ان کے معاملات کا دوبارہ جائزہ لیا جائے گا۔ اس پالیسی کا بنیادی مقصد پناہ گزینوں کی حوصلہ شکنی کرنا اور غیر قانونی راستوں سے ملک میں داخل ہونے والوں کو یہ پیغام دینا ہے کہ برطانیہ اب ان کے لیے کوئی محفوظ پناہ گاہ نہیں رہا۔ ناقدین کا خیال ہے کہ حکومت کا یہ سخت گیر مؤقف اندرونی سیاسی دباؤ اور ووٹروں کو مطمئن کرنے کی ایک کوشش ہے، تاہم اس کے نتیجے میں ہزاروں خاندانوں کا مستقبل داؤ پر لگ گیا ہے۔ پاکستانی برادری جو دہائیوں سے برطانیہ کی تعمیر و ترقی میں اہم کردار ادا کرتی آئی ہے، اب اس نئے ماحول میں خود کو شدید دباؤ میں محسوس کر رہی ہے۔ آنے والے وقت میں یہ سخت قوانین نہ صرف نئے آنے والوں کے راستے مسدود کریں گے بلکہ پہلے سے مقیم لوگوں کے لیے بھی بقا کی جدوجہد کو مزید کٹھن بنا دیں گے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here