واشنگٹن (پاکستان نیوز)سینیٹ کے حالیہ اجلاس کے دوران ایران سے متعلق حکومتی پالیسی پر شدید گرما گرمی دیکھنے میں آئی ہے۔ ڈیموکریٹک سینیٹر کوری بکر نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کو سخت اور چبھتے ہوئے سوالات کا نشانہ بنایا۔ کوری بکر نے موجودہ امریکی انتظامیہ کی ایران پالیسی پر کڑی تنقید کرتے ہوئے یہ سوال اٹھایا کہ اخر امریکا کیوں ایران کے ساتھ دوبارہ کسی معاہدے کی طرف بڑھ رہا ہے، جبکہ ماضی میں خود واشنگٹن نے اس ڈیل کو ناقابل قبول قرار دے کر مسترد کر دیا تھا۔ سینیٹر بکر نے طنزیہ انداز اختیار کرتے ہوئے سوال کیا کہ کیا اب واشنگٹن کسی دباؤ کا شکار ہو کر اس معاہدے کے لیے مجبور ہو رہا ہے جسے پہلے خود ہی مسترد کیا جا چکا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں حالیہ اقدامات اور خطے کی مجموعی صورتحال پہلے ہی انتہائی کشیدہ ہے۔ ایسے نامساعد حالات کے باوجود تہران کے ساتھ دوبارہ سفارتی راستہ اختیار کرنے کی کیا بنیاد ہے اور اس کے پیچھے کیا مقاصد ہیں۔اس بحث نے واشنگٹن کے سیاسی حلقوں میں ایک نئی ہلچل پیدا کر دی ہے، جہاں اب یہ سوالات اٹھ رہے ہیں کہ کیا امریکا واقعی خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے ایران کے ساتھ کسی خفیہ یا اعلانیہ سمجھوتے کی طرف قدم بڑھا رہا ہے یا پھر یہ محض داخلی سیاست کا ایک حصہ ہے۔ دوسری جانب وزارت خارجہ کو اس کڑے امتحان کا سامنا ہے جہاں انہیں سینیٹ کے اراکین کو مطمئن کرنا ہے۔












