الہان عمر کی خارجہ امور کمیٹی سے بیدخلی کی اندرونی کہانیمنظر عام پر

0
10

نیویارک (پاکستان نیوز)امریکی ایوانِ نمائندگان میں ڈیموکریٹک پارٹی کی مسلم خاتون رکن الہان عمر کو خارجہ امور کمیٹی سے ہٹانے کے معاملے پر ہونے والی رائے شماری کی مکمل تفصیلات منظرِ عام پر آ گئی ہیں جس نے ملکی سیاست میں ایک نیا رخ اختیار کر لیا ہے۔ اس انتہائی اہم فیصلے کے حق میں 218 ووٹ ڈالے گئے جو کہ تمام کے تمام ریپبلکن ارکان کے تھے جبکہ اس کے مقابلے میں 211 ڈیموکریٹک ارکان نے اس فیصلے کی سخت مخالفت میں ووٹ دئیے۔ رائے شماری کے دوران ایوان میں شدید سیاسی تناؤ اور گرما گرمی دیکھنے کو ملی کیونکہ دونوں جماعتیں اس معاملے پر بالکل واضح اور مختلف موقف رکھتی تھیں۔ ریپبلکن قیادت نے اس کارروائی کا دفاع کرتے ہوئے الہان عمر کے ماضی کے 6 مختلف بیانات اور سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر کی جانے والی تحریروں کو بنیاد بنایا ہے۔ ان کا موقف ہے کہ اسرائیل اور امریکی خارجہ پالیسی کے خلاف دئیے گئے یہ بیانات قومی سلامتی کے تقاضوں کے منافی ہیں اس لیے انہیں خارجہ امور جیسے حساس ترین پلیٹ فارم سے دور رکھنا ملک کے بہترین مفاد میں ہے۔ دوسری جانب الہان عمر نے ایوان میں اپنے دفاع میں گرجدار تقریر کی اور کہا کہ وہ ماضی میں دئیے گئے بیانات پر پہلے ہی معافی مانگ چکی ہیں۔ ان کا اور ڈیموکریٹک قیادت کا ماننا ہے کہ انہیں ایک مسلم، تارکِ وطن اور سیاہ فام خاتون ہونے کی وجہ سے نشانہ بنایا جا رہا ہے تاکہ خارجہ پالیسی پر ان کی منفرد اور تنقیدی آواز کو دبایا جا سکے۔ سیاسی ماہرین کے مطابق اس فیصلے کے بعد دونوں بڑی جماعتوں کے درمیان قانون سازی کے عمل میں تلخی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here