حضرت امام زین العابدین رحمہ اللہ نے اپنے صاحبزادے امام باقر کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ بیٹا چار قسم کے لوگوں کی صحبت سے پرہیز کرنا اور راستہ چلتے ہوئے بھی تھوڑی دیر کے لیے ان کا ساتھ نہ اختیار کرنا۔ امام باقر نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے پوچھا کہ وہ کون لوگ ہیں جو اتنے خطرناک ہیں ؟تو امام زین العابدین نے وضاحت فرمائی کہ پہلا شخص بخیل ہے جس سے کبھی دوستی نہ کرنا کیونکہ وہ تمہیں ایسے نازک وقت میں دھوکہ دے گا جب تمہیں اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہوگی۔ دوسرا شخص جھوٹا ہے جو دور کو قریب اور قریب کو دور دکھا کر گمراہ کرتا ہے۔ تیسرا شخص فاسق ہے کیونکہ وہ تمہیں ایک لقمے یا اس سے بھی کم قیمت کے بدلے بیچ دے گا۔ جب امام باقر نے پوچھا کہ ایک لقمے سے بھی کم میں بیچنے کا کیا مطلب ہے ؟تو انہوں نے فرمایا کہ وہ تمہیں محض ایک لقمے کی امید پر ہی بیچ ڈالے گا۔ چوتھا شخص قطع رحمی یعنی رشتوں کو توڑنے والا ہے کیونکہ قرآن پاک میں متعدد مقامات پر ایسے شخص پر لعنت کی گئی ہے۔ یہ وہ انمول موتی تھے جو ایک دور اندیش باپ اپنے بیٹے کو منتقل کر رہا تھا۔
اس نصیحت کی عملی اہمیت کو واضح کرنے کے لیے ایک اور واقعہ قابل ذکر ہے جس کے مطابق ایک گاؤں کے کنویں پر عجیب ماجرا پیش آیا کہ جو بھی ڈول پانی کے لیے کنویں میں ڈالا جاتا وہ غائب ہو جاتا اور صرف رسی واپس آتی۔ تمام اہل دیہات اس خوف میں مبتلا ہو گئے کہ اندر کوئی جن یا آسیب ہے جو یہ حرکت کرتا ہے۔ بالاآخر اعلان کیا گیا کہ جو شخص اس راز کا پتا لگائے گا اسے انعام دیا جائے گا۔ ایک صاحب مروت شخص نے کہا کہ انہیں کسی انعام کی ضرورت نہیں ہے بلکہ وہ گاؤں والوں کی اس مشکل کو دور کرنے کے لیے یہ خطرہ مول لینے کو تیار ہیں مگر ان کی ایک شرط ہے کہ وہ کنویں میں اسی صورت اتریں گے جب رسی پکڑنے والوں میں ان کا اپنا بھائی بھی شامل ہو۔ چنانچہ ان کے بھائی کو بلایا گیا اور دیگر لوگوں کے ساتھ مل کر رسی تھامنے کے بعد اس شخص کو ڈول میں بٹھا کر کنویں میں اتار دیا گیا۔کنویں کے اندر پہنچ کر اس شخص نے دیکھا کہ وہاں ایک چالاک بندر بیٹھا ہوا ہے جو ڈول کے پہنچتے ہی فوراً رسی کھول دیتا ہے۔ اس شخص نے اپنی جیب ٹٹولی تو اسے گڑ مل گیا جو اس نے بندر کو دیدیا۔ گڑ کھا کر بندر اس سے مانوس ہو گیا جس پر اس شخص نے بندر کو اپنے کندھے پر بٹھایا اور نیچے سے رسی کو زور زور سے ہلایا۔ گاؤں والوں نے اشارہ پاتے ہی رسی کو اوپر کھینچنا شروع کر دیا۔ جیسے ہی ڈول اندھیرے سے نکل کر روشنی میں آیا تو اوپر موجود لوگ کندھے پر بندر کو بیٹھا دیکھ کر دہشت زدہ ہو گئے اور سمجھے کہ یہ کوئی بلا ہے جو اس شخص کو کھا کر اب اوپر آ رہی ہے۔ اس خوف کے عالم میں تمام لوگ رسی چھوڑ کر بھاگ کھڑے ہوئے لیکن اس شخص کا بھائی اپنی جگہ ڈٹا رہا اور اس نے مضبوطی سے رسی تھامے رکھی یہاں تک کہ اپنے بھائی کو کنویں کے کنارے تک محفوظ پہنچا دیا۔کنویں سے باہر نکل کر اس شخص نے بندر کو نیچے اتارا اور لوگوں کو اس کی تمام کارستانی بتائی۔ اس کے بعد انہوں نے واضح کیا کہ انہوں نے اپنے بھائی کو ساتھ رکھنے کی شرط اسی لیے لگائی تھی کیونکہ انہیں معلوم تھا کہ اگر کنویں میں کوئی غیر معمولی صورتحال پیش آئی تو عام لوگ خوفزدہ ہو کر بھاگ جائیں گے جبکہ بھائی کو خون کا رشتہ اور محبت پیچھے ہٹنے سے روکے رکھے گی۔ یہ واقعہ اس حقیقت کو ثابت کرتا ہے کہ دنیا میں کوئی کتنی ہی اچھائی کیوں نہ کرے لیکن خونی رشتے اپنی جگہ اٹل اور بے مثل ہوتے ہیں جن کی ہمیشہ قدر کرنی چاہیے۔
٭٭٭
















