محترم قارئین، سید کاظم رضا نقوی کی طرف سے آپ کی خدمت میں سلام پہنچے۔ آج ایک ایسے اہم اور حساس مسئلے کی طرف توجہ مبذول کروائی جا رہی ہے جو ازل سے عورت اور مرد کے مابین بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔ جب انسان شیطان کے بہکاوے میں آ کر جنت سے زمین پر اتارا گیا، تو وہ اسی عورت کے ساتھ رہا اور ہر مشکل گھڑی میں اس کا ساتھ دیتا رہا۔ وقت گزرنے کے ساتھ جب نبوت کا سلسلہ مختلف انبیاء سے ہوتا ہوا حضرت عیسیٰ علیہ السلام تک پہنچا، تو اہل کتاب عیسائی بھی نظریاتی طور پر دو بڑے گروہوں میں تقسیم ہو گئے۔ ان کا ایک فریق کیتھولک کہلایا جو حضرت مریم علیہا السلام کی پاکدامنی اور ان کی عظمت کا قائل رہا، جبکہ دوسرے فریق نے اس کا انکار کیا، اگرچہ دونوں کا شمار عیسائیت ہی میں ہوتا ہے۔
ان تمام نبوتی سلسلوں کے متوازی دنیا میں بتوں کے پجاری بھی موجود رہے جنہوں نے عورت کے وجود کے خلاف نفرت اور حقارت کا بیج بویا۔ اس سلسلے میں رہی سہی کسر سرزمین عرب کے بدوؤں نے پوری کر دی، جہاں ایک طرف دنیا کی بعض تہذیبوں نے عورت کو ستی کے نام پر شوہر کی چتا کے ساتھ جلانے کی قبیح رسم ایجاد کی، تو دوسری طرف عرب معاشرے نے بیٹی کی پیدائش کو ننگ و عار سمجھ کر اسے زندہ درگور کرنے میں فخر محسوس کیا۔ اس تاریک دور میں جب عرب کی دھرتی پر نبی آخرالزمان حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ظہور ہوا، تو آپ نے نہ صرف عورت پر ہونے والے ان مظالم کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کیا، بلکہ اسے ماں، بہن، بیوی اور بیٹی کے روپ میں ایک عظیم اور معزز مقام عطا فرمایا۔ اسلام نے معاشرے میں عورت کے حقوق کو دستوری اور قانونی شکل دی، جس کے بعد بیٹی کو زندہ دفنانے کے بجائے گھر کی برکت اور عزت تسلیم کیا جانے لگا۔
تاہم، ابلیس اور اس کے پیروکاروں کو انسانیت کی یہ فلاح پسند نہ آئی۔ انہوں نے حقوق نسواں اور مردانہ اجارہ داری کے خاتمے کا ایک دلکش نعرہ بلند کیا اور عورت کو ایک مظلوم مخلوق کے طور پر پیش کرتے ہوئے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ معاذ اللہ دین اسلام اور مسلمانوں نے اس کے ساتھ بڑی زیادتی کی ہے۔ اگر یہ بات صرف الزام تراشی تک محدود رہتی تو شاید قابل برداشت ہوتی، لیکن دنیا جب عالمی جنگوں کی لپیٹ میں آئی اور دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا کے نقشے پر کمیونزم، سوشلزم، جمہوریت اور سیکولرزم جیسے مختلف نظام سامنے آئے، تو ان سب پر حاوی ہو کر ایک بڑی طاقت کی شکل میں سرمایہ دارانہ نظام یعنی کیپیٹل ازم نمودار ہوا۔ اس پورے منظر نامے میں اسلامی تاریخ اور اس کے سنہری ادوار پر روشنی نہیں ڈالی گئی، جو کہ بذات خود ایک الگ اور وسیع موضوع ہے۔
جب یہ نیا سرمایہ دارانہ نظام وضع ہوا، تو اس میں روایتی غلامی کا خاتمہ بظاہر آزادی کی شکل میں ہوا، لیکن حقیقت میں انسانوں کو جدید طریقوں سے غلام بنانے کے نئے اصول طے کر دیے گئے۔ سرمایہ داروں کو معاشرے کا خاندانی اور مشترکہ خاندانی نظام سب سے زیادہ کھٹکتا تھا، کیونکہ خاندان کی موجودگی میں بیوی، بچوں کی کفالت، ان کی بیماری، تیمار داری اور دیگر سماجی ذمہ داریاں لازم آتی ہیں جو سرمایہ دارانہ منافع کی راہ میں رکاوٹ بنتی ہیں۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے ایک ایسی حکمت عملی تیار کی گئی جس سے سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔ چنانچہ صنف نازک کے جذبات اور ذہن سے کھیلتے ہوئے اسے آزادی نسواں کے نام پر ایسے سبز باغ دکھائے گئے جس کے نتیجے میں مغرب میں شادی کے رحجان میں نمایاں کمی آئی اور طلاق کی شرح میں خوفناک حد تک اضافہ ہو گیا۔
اس ذہنی تبدیلی کے نتیجے میں معاشرے میں سنگل مام یعنی تنہا ماں کا رواج عام ہو گیا، جہاں عورت مادی وسائل حاصل کرنے کے باوجود اپنے حقیقی محافظ اور خاندانی تحفظ سے دور ہو گئی۔ اس کے نتیجے میں اخلاقی حدود پامال ہوئیں اور ترقی کی دوڑ میں شامل ہونے کے لیے باس کو خوش کرنے کی مجبوری جیسی اخلاقی خرابیاں پیدا ہوئیں، کیونکہ معاشرہ روایتی اقدار سے آزاد ہو چکا تھا۔ جس طلاق کی دھمکی ماضی میں مرد دیا کرتے تھے، اب جدید قوانین کے تحت عورتوں نے اسے ایک ہتھیار بنا لیا۔ اس پورے عمل میں مادی آسائشیں تو حاصل ہو گئیں لیکن عزت، وقار اور خاندانی روایات ایک ایک کر کے دم توڑ گئیں، یہاں تک کہ اب کسی گھر میں طلاق کا نہ ہونا دقیانوسی خیال تصور کیا جانے لگا ہے۔ دوسری طرف جب طلاق یا علیحدگی ہوتی ہے، تو شوہر کے ذمہ بچوں کے اخراجات اور نان نفقہ کے قانونی مطالبات سامنے آتے ہیں، جنہیں عین اسلامی کہہ کر نافذ کیا جاتا ہے۔ اب یہ حالت ہو چکی ہے کہ مسلم معاشروں میں بھی شادیوں اور بچوں کی پیدائش کے تناسب میں واضح کمی دیکھی جا رہی ہے، جبکہ یہ نظام وضع کرنے والے مغربی ممالک میں طلاق کے مذہبی اور قانونی پہلوؤں کو ججوں کی مرضی اور باہمی دستخطوں سے مشروط کر دیا گیا ہے۔ ہم خواہ مشرق میں ہوں یا مغرب میں، ہم سب انھی وضع کردہ مصنوعی نظاموں کے حصار میں زندگی گزار رہے ہیں۔
اب اگر ہم آخر زمانہ کی پیش گوئیوں کی طرف آئیں، تو ان میں واضح طور پر ان حالات کا تذکرہ ملتا ہے کہ ایک ایسا دور آئے گا جب عورتوں کی حکمرانی ہوگی، فواحش کو معاشرے میں عزت کی نگاہ سے دیکھا جائے گا، اور مرد و عورت کے درمیان تمیز کرنا مشکل ہو جائے گا۔ اس دور میں مرد عورتوں کی طرح اور عورتیں مردوں کی طرح بالوں کی آرائش اور وضع قطع اختیار کریں گی۔ آج کے نام نہاد اسلامی معاشروں میں خاندانی اقدار اور نکاح کے فطری قوانین کا مذاق اڑایا جا رہا ہے اور روایتی طبقہ ان مسائل پر خاموش دکھائی دیتا ہے۔ عام انسان کے لیے خاندانی زندگی کو اجیرن بنا دیا گیا ہے۔ دعا ہے کہ مرد اور عورت کے درمیان جو ایک پاک اور فطری رشتہ قائم کیا گیا تھا، اسے اپنی اصل حالت میں برقرار رہنے دیا جائے اور اسے ان مادی قوانین کے منفی اثرات سے بچایا جائے جہاں محض استحصال اور زیادتی ہے، کیونکہ کوئی بھی شخص خود کو اس نظام کے اثرات سے محفوظ نہیں رکھ پا رہا اور مہذب قومیں انھی مادی قوانین کی پاسداری کو اپنا فرض سمجھتی ہیں۔












