ادھوری کامیابی!!!

0
13
جاوید رانا

شکر الحمد اللہ جس وقت ہم یہ سطور تحریر کر رہے ہیں ٹرمپ اور عراقچی کی جانب سے اس امر پر اتفاق ظاہر کر دیا گیا ہے کہ معاہدہ ہو گیا ہے اور19 جون کو جینیوا میں دستخط ہونگے، وزیراعظم پاکستان نے بھی دو بجے ایکس پر خوشخبری سنائی، بعد ازاں سوموار کو پارلیمان کے اجلاس میں اس حوالے سے خطاب کیا جہاں سفیر ایران (جو وہاں موجود تھے) کیلئے مبارکباد پیش کی گئی۔ بلا شبہ پاکستان کیلئے یہ فخر و انبساط کا مقام ہے اور دنیا پاکستان کے کردار کو تسلیم بھی کر رہی ہے۔ پاکستانی ہونے کے ناطے ہمارے لئے بھی یہ کامیابی باعث افتخار و مسرت ہے۔ دنیا میں کامیاب ڈپلومیسی اور قیام امن کے حوالے سے منفرد و مثالی مقام کے امتیاز کی حامل ریاست کو خود اپنے گھر میں اس وقت امن و امان اور ملک دشمن قوتوں اور ان کے گماشتوں کے ناطے جن حالات کا سامنا ہے وہ کسی بھی طرح موافق نہیں کہے جا سکتے ہیں۔ بھارتی سپورٹ اور ازلی دشمنی کے تناظر میں پروردہ فتنوں کی وجہ سے بلوچستان اور پختونخواہ سمیت وطن عزیز شدید حالات سے دوچار ہے، اب آزاد کشمیر بھی شدید بحران سے دو چار ہو رہا ہے۔ ہم اپنے گزشتہ کالموں میں اس بحران کی وجوہ اور بھارتی سپورٹ پر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی کارروائیوں پر اظہار کرتے رہے ہیں، حقیقت یہ ہے کہ مئی 2025ء میں بدترین و عبرتناک شکست اور عالمی رسوائی و سفارتی ناکامی کے بعد بھارت اب کشمیر کے ایشو پر اپنی عالمی سیاست کو بحال کرنے پر اُتر آیا ہے، گزشتہ 78 برسوں سے عالمی سطح پر متنازعہ اور اقوام متحدہ کے استصواب رائے کی قرارداد کے باوجود 2023ء میں آرٹیکل 370 کے ذریعے مقبوضہ جموں و کشمیر کو بھارت کا حصہ بنانے کے سازشی اقدام کے بعد اب بھارت آزاد کشمیر میں جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے توسط سے سازش کیلئے متحرک ہوا ہے کہ اس طرح وہ نہ صرف آزاد کشمیر کو بحران سے دوچار کر سکے بلکہ عالمی سطح پر باور کرا سکے کہ آزاد کشمیر کے عوام پاکستان سے نالاں ہیں۔ اس سازش کی تکمیل کیلئے جوائنٹ ایکشن کمیٹی کو آلۂ کار بنایا گیا اور یہ حقائق و ثبوت بھی سامنے آچکے ہیں کہ اجیت ڈوول اس سازش کے پیچھے مکمل طور سے متحرک ہے۔
قارئین اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہیں اور ہم بھی اپنے گزشتہ کالم میں واضح کر چکے ہیں کہ ایکشن کمیٹی کے مطالبات مہاجرین کی 12 نشستوں کو بنیاد بنا کر احتجاج اور بعد میں فسادات کا اقدام سوچا گیا، ایک سچ یہ بھی سامنے آیا ہے کہ کمیٹی کی جانب سے حکومتی، آزاد کشمیر پارلیمنٹ کے حلف میں موجود ”استصواب رائے و پاکستان سے الحاق” کے پوائنٹ کونکال دیا جائے۔ یہ سراسر کشمیر کاز اور جموں و کشمیر کے بھارتی تسلط سے آزادی کے قطعی انحراف کے سواء اور کچھ بھی نہیں ہو سکتا ہے۔ آزاد کشمیر کے سابق وزیراعظم ،سردار عبدالقیوم کے صاحبزادے اور مسلم کانفرنس کے صدر سردار عتیق احمد کے مطابق عوام کی مشکلات و مسائل کے حل کیلئے بننے والی ایکشن کمیٹی نہ صرف بھارت کے ایجنڈے پر بک چکی ہے بلکہ پاکستان کیخلاف بھارتی پراکسی بن کر کار فرما ہے اور اسلحہ بردار دستے اس مقصد کیلئے تیار ہیں۔ انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ جوڑی کی سرحد پر بھارتی و اسرائیلی فوج ایکشن کمیٹی کی مدد کیلئے موجود ہے۔
ہمیں یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ آزاد کشمیر ہی نہیں مقبوضہ کشمیر کے عوام اپنی آزادی اور پاکستان سے الحاق کے حامی ہیں بلکہ ان کے دل کشمیر بنے گا پاکستان کے نعروں سے دھڑکتے ہیں، شہیدوں کے جسد پاکستانی پرچم میں لپیٹے جاتے ہیں لیکن یہ صورتحال بھی سامنے ہے کہ ایکشن کمیٹی کی صورت میں بھارت کے ہاتھوں بکنے والے چند دہشتگرد پاکستان کے تمام تر احسانات، 8 عشروں کی جدوجہد اور شہادتوں کو بھلا کر کشمیر وپاکستان دشمنی میں کمر بستہ ہیں۔
یہ وہی ایکشن کمیٹی ہے جس کے مطالبات پر وفاق پاکستان نے آزاد کشمیر کے عوام کو بجلی و آٹا سمیت متعدد سہولتیں اور رعایتیں دی ہیں اور اس کمیٹی کے نام نہاد رہنما بھارت کے ہاتھوں بک کر کشمیر و پاکستان سے غداری کر رہے ہیں۔ ہمیں حضرت علی کا قول یاد آرہا ہے، ”جس پر احسان کرو اس کے شر سے بچو”۔ سچ یہ ہے کہ اس قول کے حوالے سے افغان طالبان، ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور ایکشن کمیٹی سمیت بہت شر پسند عوامل پاکستان دشمنی میں مصروف ہیں اور وطن عزیز کو اس کے نتائج بھگتنا پڑ رہے ہیں۔
ہمیں سوچنا ہوگا کہ آخر وہ کون سے عوامل ہیں جن کے سبب وطن عزیز کو نہ صرف بیرونی بلکہ اندرونی مصائب، کٹھنائیوں اور بحرانوں سے دوچار ہونا پڑتا ہے جبکہ الحمد اللہ ہمارا وطن عسکری، سفارتی، باشعور عوام اور وسائل کے حوالے سے ممتاز حیثیت کا حامل قرار دیا جاتاہے؟ کیا یہ کہنا درست نہ ہوگا کہ اندرون خانہ سیاسی، انتظامی ،غیر متعینہ و ذاتیات پر مبنی غلط پالیسیز ہماری مشکلات کا سبب ہیں جن کی وجہ سے ہمارے بیرونی دشمن اور ان کے پٹھو وطن عزیز کے درپے رہتے ہیں بلکہ ہمارے انتظامی و معاشرتی امور بھی متاثر ہوتے ہیں اور آئے دن خبروں کی زینت بنتے ہیں۔ حج سے آئی ہوئی فیملی پر سی سی ڈی کی فائرنگ اور نو سالہ بچی کی ہلاکت نا اہلی کی تازہ ترین مثال اور ذمہ داروں کے متضادات بیانات اور چڑھتے پنجاب کے دعوے کی تکفیر سے عبارت کی جا سکتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ایران امریکہ معاہدے پر بغلیں بجانے یا من مانی کرنے کی روایت سے ہٹ کر انتظامی، سیاسی، معاشرتی، معاشی و ریاستی حوالوں سے وطن و عوام کے مفاد و راستی پر عمل کیا جائے کہ یہی سالمیت، عزت و افتخار کا راستہ ہے۔
٭٭٭٭٭٭

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here