تعلیم یافتہ حضرت عائشہ !!!

0
18
رعنا کوثر
رعنا کوثر

تعلیم یافتہ حضرت عائشہ !!!

آج کا مضمون موجودہ دور کی خواتین کی تعلیمی اور سماجی صورتحال کے ایک اہم پہلو کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ زمانہ ایک ایسا زمانہ ہے جہاں عورتوں کو تعلیم اور نوکریوں کی بہت سہولت حاصل ہے جبکہ ایک طویل عرصے تک عورتوں پر تعلیم کے دروازے بند رہے اور وہ علم کے حصول کو ترستی رہیں۔ ماضی میں ان پر علم کے دروازے یہ سوچ کر بند کیے گئے کہ وہ عورتیں ہیں اور اگر چار جماعتیں پڑھ لیں گی تو ان کے اندر بیداری پیدا ہو جائے گی۔ عام خیال یہ تھا کہ ویسے بھی عورتوں کو پڑھا لکھا کر کیا کرنا ہے کیونکہ ان کو تو صرف بچے ہی پالنے ہیں۔ بعد میں مسلمان گھرانوں میں یہ رواج ہو گیا کہ لڑکیوں کو صرف قرآن پڑھا دیا جائے اور وہ بھی چونکہ عربی زبان میں ہوتا تھا اس لیے اگر عربی کی سمجھ ہوتی تو شاید کچھ دنیا کی تعلیم بھی حاصل ہو جاتی۔ نہ جانے ہمیشہ دنیا عورتوں کی تعلیم کے خلاف کیوں رہی جبکہ عرب خواتین میں سب سے زیادہ سمجھ دار اور بلند علمی حیثیت جس ہستی کو حاصل رہی وہ حضرت عائشہ تھیں جن کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بہترین تعلیم و تربیت دی۔ رسول اللہ نے ان کو اس لیے سکھایا تاکہ وہ دوسری عورتوں کو دین سکھا سکیں۔ ان کو نہ صرف عام عورتوں پر اور نہ صرف امہات المومنین پر بلکہ چند بزرگوں کو چھوڑ کر تمام صحابہ پر بھی فوقیت حاصل تھی۔ ایک صحابی کا کہنا ہے کہ ہم صحابیوں کو کوئی ایسی مشکل بات کبھی پیش نہیں آئی کہ جس کو ہم نے حضرت عائشہ سے پوچھا ہو اور اس کے پاس اس سے متعلق کچھ معلومات ہم کو نہ ملی ہوں۔
دیگر صحابہ کا بھی یہی کہنا ہے کہ حضرت عائشہ سب سے زیادہ فقیہ یعنی فقہ کو جاننے والی، سب سے زیادہ صاحب علم اور عوام میں سب سے زیادہ اچھی اور صائب رائے دینے والی تھیں۔ امام زہری جنہوں نے بڑے بڑے صحابہ کی آغوش میں تربیت پائی تھی وہ کہتے ہیں کہ حضرت عائشہ تمام لوگوں میں سب سے زیادہ عالم تھیں اور بڑے بڑے صحابہ ان سے مسائل پوچھا کرتے تھے۔ اسی طرح ابومسلمہ جو ایک جلیل القدر تابعی تھے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ کی سنتوں کا جاننے والا اور ضرورت پڑنے پر صائب رائے دینے والا حضرت عائشہ سے بڑھ کر کسی کو واقف کار نہیں دیکھا۔ عروہ بن زبیر کا قول ہے کہ میں نے حلال و حرام، علم، شاعری اور طب میں حضرت عائشہ سے بڑھ کر کسی کو نہیں دیکھا۔ ایک اور روایت میں یہ الفاظ اس طرح ملتے ہیں کہ قرآن، فرائض، حلال و حرام، فقہ، شاعری، طب، عرب کی تاریخ اور علم نسب کا حضرت عائشہ سے بڑھ کر عالم کسی کو نہیں دیکھا گیا۔
حفظ حدیث اور سنن نبوی کی اشاعت کا فرض گو کہ دیگر ازواج مطہرات بھی ادا کرتی تھیں تاہم حضرت عائشہ کے رتبہ کو ان میں سے کوئی بھی نہیں پہنچ سکا۔ تاریخ دانوں کا بیان ہے کہ ازواج مطہرات بہت سی حدیثیں زبانی یاد رکھتی تھیں لیکن اس معاملے میں کوئی بھی حضرت عائشہ اور حضرت ام سلمہ کے برابر نہیں تھا۔ ان تمام تاریخی باتوں سے یہی مقصد اور نتیجہ نکلتا ہے کہ اس زمانے کی خواتین کو کسی ایک کونے میں نہیں بٹھا دیا گیا تھا کہ یہ تو صرف کھانے پکانے، بچے پالنے اور برقعہ پہن کر گھر کی چار دیواری میں بند رہنے کے لیے ہیں بلکہ ان کو بہترین علم حاصل کرنے اور اپنی رائے دینے کا پورا حق حاصل تھا۔ وہ باقاعدہ باعلم اور پردہ دار تھیں، گھر کی چار دیواری میں سکون سے رہتی تھیں مگر جاہل نہیں تھیں۔ وہ بارعب، سمجھ دار، باعلم اور خود اعتماد خواتین تھیں اور دور جاہلیت کی طرح ڈری سہمی خواتین نہیں تھیں۔ مسلمان عورت ہونے کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ آپ کو علم ہی نہ حاصل کرنے دیا جائے۔ ہمارے سامنے تاریخ کی بہترین مثالیں موجود ہیں جن میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام بیویاں اور خاص طور سے حضرت عائشہ صاحب علم اور بہادر تھیں اور اسی وجہ سے وہ انتہائی بااعتماد تھیں۔ ان مثالوں کو دینا اس لیے مناسب سمجھا گیا تاکہ وہ مسلمان مرد جو عورتوں کی تعلیم کے آج کے دور میں بھی مخالف ہیں وہ عہد نبوی کی روشنی میں اپنی لڑکیوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کر دیں کیونکہ اس دور میں عورتوں کو ہمارے پیارے رسول نے تعلیم حاصل کرنے سے کبھی نہیں روکا بلکہ ان کی حوصلہ افزائی فرمائی۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here