بھارت میں طلبا کا انقلاب!!!

0
19
حیدر علی
حیدر علی

بھارت میں طلبا تحریک کے آغاز کے ساتھ ہی پردھان منتری۔ نریندر مودی کی ہوا نکال کر رہ گئی ۔ اُن کے دماغ میں بنگلہ دیش منڈلانے لگا۔ اُنہوں نے فورا”پنچا وتی میں کابینہ کا اجلاس طلب کرلیاجس سے خطاب کرتے ہوے کہا کہ ” اب وہ دِن دور نہیں جب طلبا کی تحریک کا طوفان ہمیں بھی اپنے نرغے میں لے لیگا۔ یہ شان و شوکت ، یہ موٹر گاڑیوں پر بھارت ماتا کا لہلہاتا جھنڈا سب گرد و غبار کی طرح اُڑ جائینگے۔ ” پردھان منتری کی مداخلت کرتے ہوے ایک وزیر نے کہا کہ ” نیتا جی! اگر وزیر صحت استعفی دے دیں تو بات ختم ہوجائیگی۔”
” نہیں جی بات ختم نہیں ہوگی۔ طلباء کے نیتا کچھ اور مطالبہ کر دینگے۔ وہ ایسا مطالبہ کر دینگے جسے پاکستان نے بھی کبھی نہیں کیا تھا۔ وہ مطالبہ کردینگے کہ تمام بے روزگار نوجوانوں کو ڈپٹی کمشنر کی نوکری پر لگادیا جائے۔ میں تو کہتا ہوں کہ کھیل ختم ۔ تمام وزرا اپنی گاڑیوں پر بھارت ماتا کا جھنڈا لہرانا بند کردیں۔ ورنہ نرغے میں آجائینگے تو جوتے پڑینگے۔میری سیکورٹی کیلئے پنچاوتی میں سات جھونپریاں مشابہ شکل کی بنادی جائیں، جو تمام ضرورت کی اشیاء سے آراستہ ہوں۔ میںکسی بھی جھونپری میں اپنی خواہش کے مطابق گذر بسر کرونگا۔ یہ یقین دہانی کر لی جائے کہ ہیلی کاپٹر کی گیس ٹینک ہمیشہ بھری ہوئی ہو۔ ”نریندر مودی نے کہا۔
نیتا جی!” آپ مفرور ہو کر کہاں جائینگے۔ ”ایک دوسرے وزیر نے پوچھا۔ ” ہوسکتا ہے میں پاکستان چلا جاؤں، شہباز شریف سے ہماری بڑی دوستی ہے۔ ہم دونوں سے معاہدہ ہے کہ جب بھی کبھی ضرورت پڑی تو بھاگ کر ایک دوسرے کے ملک میں پناہ لینگے۔”
سال رواں کے مئی کے ماہ تک بھارت میں حالات سازگار تھے۔ لیکن میڈیکل کالج میں داخلے کے امتحان نے سب کا بیڑا غرق کردیا۔مذکورہ امتحان جس میں دو ملین سے زائد طلبانے حصہ لیا تھا بعد ازاں متنازع بن گیا۔ باوثوق ذرائع سے جو باتیں منظر عام پر آئیں وہ یہ تھیں کہ بھارت کے وزیر تعلیم دھر میندر پردھان نے دیدہ و دانستہ طور پر اِس کے پرچے کو اپنے منظو ر نظر طلبا، اپنے سالوں اور حتی کہ اپنے باورچی کو نظر کرم کردیا تھا تاکہ وہ بھی میڈیکل کالج میں داخلہ لے سکیں اور کالج کے اندر بی جے پی کا اثر و رسوخ وسیع ہوسکے۔ جب بات بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی تک پہنچی تو اُنہوں نے بھی اِسے دبانے کی کوشش کی اور اپنے وزرا کو یہ مشورہ دیا کہ وہ خود اِس کا فیصلہ کریں ۔ نریندر مودی فوری طور پر بھوٹان چلے گئے اور سرکاری طور پر یہ اعلانیہ جاری ہوا کہ وہ علیل ہیں لیکن سرکاری کام کاج نمٹارہے ہیں۔اُن کی عدم موجودگی میں بھارت کی وزارت صحت نے داخلے کے گذشتہ ٹیسٹ کے نتائج کو معطل کردیا اور دو لاکھ سے زائد طلبا کو یہ مشورہ دیا کہ وہ دوبارہ ٹیسٹ لیں یا میڈیکل کالج میں داخلے کی خواہش کو ہنومان جی کی مندر پر بھینٹ چڑھا دیں۔ یہ اطلاع بھارت کے طلباکیلئے آسمان بن کر ٹوٹ پڑی، کئی طلبا نے خودکشی کر لی اور سینکڑوں کی تعداد میں طلبا اپنی تعلیم کو خیر باد کہہ کر دبئی اور قطر محنت و مزدوری کیلئے چلے گئے۔ اُن کے والدین کی آخری آتما دم توڑ دی۔
بھارتی طلبا کو اُس وقت مزید دھچکا پہنچا جب بی جے پی کی حکومت میں نامزد ہونے والے چیف جسٹس سریا کانت نے اُنہیں کاکروچ سے تشبیہ دے دی اور کہا کہ وہ بیروزگار اور کاہل ہیں۔ بوسٹن سے تعلق رکھنے والے ایک طالب علم رہنما نے اُس کے جواب میں کاکروچ جنتا پارٹی کے نام سے اپنی تحریک کی داغ بیل ڈال دی۔اِس کی ابتدا تو مذاق کے طور پر شروع ہوئی تھی لیکن جلد ہی یہ بھارت کے عوام کی مایوسی اور ناکامی کی علامت کے طور پر استعمال ہونے لگی۔ بھارت کے طول وعرض میں حکومت کے خلاف احتجاجی جلسے و جلوس کا سلسلہ شروع ہوگیا۔سڑکوں پر لوڈ اسپیکر کے ساتھ طلباء کارنر میٹنگ کرنے لگے اور اپنی مایوسی اور مسئلے مسائل سے عوام کو آگاہ کرنا شروع کردیا۔ گذشتہ ہفتے کے دِن دہلی میں طلباء کا ایک عظیم الشان احتجاجی جلسہ منعقد ہواجس میں لاکھوں کی تعداد میں طلبا نے شرکت کی۔ طلبا نہ صرف بھارت کے طول وعرض سے تشریف لائے تھے بلکہ امریکا ، برطانیہ اور آسٹریلیا سے بھی جلسے میں شرکت کیلئے بھارت کا سفر کیا تھا۔اگرچہ یہ تحریک تمام بھارتیوں کے جذبات کی ترجمان تھی لیکن اِس کے کرتے دھرتوں میں جنریشن زی سے تعلق رکھنے والوں کی نسل پیش پیش تھی اور جس کے رہنما ابھیجت دیپکے بن گئے تھے۔35 سالہ عبدل شکیل مجمع کو دیکھ کر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوے کہا کہ نوجوان اِس ملک کے مستقبل ہیں اگر وہ اِس تحریک کی حمایت نہیں کرے گا تو وہ اِس ملک کا شہری کہلانے کے قابل نہیں۔
عبدل شکیل بنگلور سے دہلی اپنے دوست کے ساتھ بذریعہ طیارہ سفر کیا تھا اور جو پیشہ کے لحاظ سے ایک آرکیٹکٹ ہے۔جلسے میں شرکاء کی اکثریت وزیر تعلیم دھرمیندرپردھان سے استعفی کا مطالبہ کر رہی تھی۔ 5 سالہ اسکول کے ایک ٹیچر مسٹر رام سانیہی جو تین گھنٹے کا سفر کرکے دہلی پہنچے تھے تاکہ وہ جلسے میں شرکت کر سکیں کہا کہ حکومت کے پاس نہ ہی ملازمت کے مواقع ہیں اور نہ ہی اُنہیں حکومت کرنے کا سلیقہ آتا ہے۔کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی و رہنما ابھیجت دیپکے نے اپنی صدارتی تقریر میں کہا کہ تاہنوز حکومتیں مسلمانوں کو ہندوؤں سے لڑا کر حکمرانی کر رہی ہے۔ اِس نے نوجوانوں کیلئے یا عوام کے لئے کچھ بھی نہیں کیا ہے۔ نوجوان بیروزگار ہیں اور اُنہیں اپنے مستقبل سے امید کی کوئی کرن نظر نہیں آرہی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ تحریک چلا کر اُن سبھوںکو اِس دلدل سے نکلنا ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here