گذشتہ شام بین الاقوامی سیاست کے افق پر ایک ایسا اہم موڑ ثابت ہوئی جس نے خطے کے جیو پولیٹیکل منظرنامے کی چولہیں ہلا کر رکھ دیں۔ امریکہ اور ایران کے درمیان تزویراتی مفاہمت کی یادداشت کا باقاعدہ اعلان بظاہر سفارت کاری کی فتح نظر آتا ہے، لیکن گہرائی میں جھانکنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ خطے میں امریکی اثر و رسوخ کے زوال اور تہران کی غیر لچکدار مزاحمتی پالیسی کی کامیابی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس تزویراتی معاہدے کے فوری بعد خلیجی ریاست کا ایک نجی طیارہ تہران کے مہرآباد ہوائی اڈے پر اترا، جس کے ذریعے ایران کے بیرون ملک منجمد اثاثوں میں سے تین ارب ڈالر کی پہلی قسط نقدی کی شکل میں تہران پہنچائی گئی۔ یہ نقد رقم محض بینکوں کے کھاتوں کی منتقلی نہیں تھی بلکہ اس بات کا واضح مادی ثبوت تھی کہ تہران پر اقتصادی دباؤ ڈالنے کی مغربی کوششیں بری طرح ناکام ہو چکی ہیں۔ اگرچہ امریکی محکمہ خزانہ اور ان کے مخصوص ابلاغی ادارے اب بھی یہ دعوے کر رہے ہیں کہ جب تک تہران اپنی جوہری اور فوجی ذمہ داریاں پوری نہیں کرتا، تب تک مزید فنڈز جاری نہیں کیے جائیں گے، لیکن زمین پر موجود حقائق اور بیانات کا یہ تضاد دونوں طاقتوں کے درمیان گہری بداعتمادی کو بے نقاب کرتا ہے۔ اس پورے منظرنامے کا سب سے حساس اور تزویراتی پہلو آبنائے ہرمز کے کنٹرول اور وہاں سے گزرنے والے عالمی بحری جہازوں پر محصول یا خدمات کے چارجز لگانے کے نقطے پر کھڑا ہے۔ ایران اور عمان نے پس پردہ یہ فیصلہ کیا ہے کہ اس اہم آبی گزرگاہ کو عارضی طور پر صرف ساٹھ دنوں کے لیے محصول سے پاک کھولا جائے گا، جس کے بعد اس کا پورا انتظام اور سیکیورٹی نگرانی کا نظام دونوں ممالک کے مشترکہ بورڈ کے تحت چلایا جائے گا اور ایران ایک ساحلی ریاست ہونے کے ناطے بحری جہازوں سے باقاعدہ اخراجات وصول کرنا شروع کرے گا۔
دوسری طرف، اس مفاہمت کے اعلان نے اسرائیل کی داخلی سیاست اور عسکری حلقوں کے اندر ایک ایسا زلزلہ برپا کر دیا ہے جس نے تل ابیب کی قیادت کو دنیا کے سامنے تماشا بنا دیا ہے۔ اسرائیلی فوج کے سابق اعلیٰ حکام نے اس معاہدے کو اسرائیل کیلئے تاریخ کی سیاہ ترین صبح قرار دیتے ہوئے اپنی حکومت پر شدید غصے کا اظہار کیا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ امریکہ نے اسرائیل کی پیٹھ پیچھے یہ معاہدہ طے کیا ہے جس سے اسرائیلی پائلٹوں اور فوجیوں کی تمام تر عسکری کامیابیاں مٹی میں مل گئی ہیں۔ اسرائیلی اشرافیہ کا یہ احساسِ محرومی دراصل اس گہرے خوف کا نتیجہ ہے کہ اب خطے پر اپنی مرضی کی طاقت مسلط کرنے اور عظیم تر اسرائیل کا خواب کبھی پورا نہیں ہو سکے گا، کیونکہ تہران اب ایک ایسی دیوار بن کر کھڑا ہو چکا ہے جسے عبور کرنا واشنگٹن اور تل ابیب کے بس میں نہیں رہا۔ یہی وجہ ہے کہ جنگ بندی اور مفاہمت کی خبروں کے باوجود اسرائیل نے جنوبی لبنان کے پرامن دیہات پر شدید گولا باری اور بمباری کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے تاکہ کسی بھی طرح اس امن کی کوشش کو سبوتاڑ کیا جا سکے۔
اگر امریکی خارجہ پالیسی کے زاویے سے دیکھا جائے تو جو قیادت کبھی ایران کو غیر مشروط طور پر ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنے کے دعوے کرتی تھی، وہ اب خود تہران کے سامنے گھٹنے ٹیک چکی ہے۔ مہینوں کی شدید معاشی و عسکری جنگ اور اربوں ڈالر کے ضیاع کے بعد امریکی انتظامیہ بغیر کسی بڑے ہدف کو حاصل کیے اسی جگہ واپس آ کھڑی ہوئی ہے جہاں وہ جنگ شروع ہونے سے پہلے تھی۔ ٹرمپ نے یہ قدم کسی اخلاقی اصول یا امن پسندی کے تحت نہیں اٹھایا، بلکہ وہ اپنے ملک کے اندر ہونیوالے وسط مدتی انتخابات کے خوف، پٹرولیم کی آسمان چھوتی قیمتوں کو روکنے کے عوامی دباؤ اور امریکی عوام میں جنگ کے خلاف بڑھتی ہوئی بے چینی کے تحت یہ معاہدہ کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ اس معاشی اور سیاسی رسہ کشی کے متوازی، غزہ کی سرزمین پر جاری اسرائیلی جارحیت کے دلدوز انسانی اثرات بدستور نمایاں ہیں۔ بین الاقوامی امدادی اداروں کے مطابق غزہ کی تین چوتھائی عمارات مکمل طور پر ملبے کا ڈھیر بن چکی ہیں اور اس ملبے کی مقدار پچھلی دو دہائیوں کے تمام حملوں کے مجموعی ملبے سے بیس گنا زیادہ ہے۔ جنگ بندی کے تمام تر بین الاقوامی دعووں کے باوجود اسرائیلی فوج غزہ میں ملبہ ہٹانے والی بھاری مشینری لے جانے کی اجازت نہیں دے رہی، جس کی وجہ سے امدادی کارکن اپنے ننگے ہاتھوں سے ملبہ ہٹانے پر مجبور ہیں اور ملبے تلے دبی ہزاروں لاشیں گل سڑ رہی ہیں جن کی شناخت اب شاید کبھی ممکن نہ ہو سکے۔ یہ ہولناک زمینی حقائق ثابت کرتے ہیں کہ عالمی طاقتوں کے دستخطوں سے پہلے مشرق وسطیٰ کی زمین کتنی سنگین، تلخ اور انسان سوز صورتحال سے دوچار ہے۔











