امن معاہدے پر اسرائیل شدیدناراض ؛ ریپبلکنزپرانتخابی شکست کا خوف طاری

0
11

واشنگٹن (پاکستان نیوز)امریکی اور ایرانی حکام کے مابین طے پانے والے اس حالیہ امن معاہدے کے بعد اسرائیل کے سیاسی اور عسکری حلقوں میں شدید مایوسی اور غصہ پایا جاتا ہے کیونکہ اسرائیلی رہنما اس سفارتی اقدام کو اپنی قومی سلامتی کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دے رہے ہیں۔ اسرائیلی حزب اختلاف اور حکومتی اتحاد کے بعض ارکان نے مشترکہ طور پر وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے امریکی صدر کی جنگی حکمت عملی کا غلط اندازہ لگایا جس کی وجہ سے ایران خطے میں مزید مضبوط ہو کر ابھرا ہے اور اسرائیل تزویراتی طور پر کمزور ہوا ہے۔ اسرائیلی حکام کا موقف ہے کہ اس معاہدے میں تہران کے جوہری پروگرام اور بیلسٹک میزائلوں کے نیٹ ورک کو مکمل طور پر ختم کرنے کی کوئی ضمانت نہیں دی گئی بلکہ پابندیاں ہٹنے سے ایران کو اربوں ڈالر کے منجمد اثاثے واپس مل جائیں گے جو خطے میں اس کے اثر و رسوخ کو مزید بڑھائیں گے۔ اس صورت حال کے باوجود اسرائیلی وزارت دفاع نے واضح کیا ہے کہ ان کی فوجیں جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے خلاف بفر زون قائم رکھنے کے لیے غیر معینہ مدت تک وہاں موجود رہیں گی جو کہ اس امن معاہدے کے پائیدار ہونے پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ دوسری جانب واشنگٹن میں ریپبلکن پارٹی کے انتخابی ماہرین اور امیدواروں میں یہ خوف گہرا ہوتا جا رہا ہے کہ صدر ٹرمپ کا یہ امن معاہدہ وسط مدتی انتخابات میں ان کی سیاسی بقا کے لیے ناکافی ثابت ہو گا۔ سیاسی پنڈتوں کا ماننا ہے کہ فروری کے آخر سے شروع ہونے والی اس جنگ کے نتیجے میں امریکی عوام جس شدید معاشی بحران اور پیٹرولیم مصنوعات کی مہنگائی کا شکار ہوئے ہیں، اس کے اثرات ووٹرز کے ذہنوں پر اس حد تک نقش ہو چکے ہیں کہ اب انہیں تبدیل کرنا ناممکن ہے۔ اگرچہ وائٹ ہاؤس اس وقت اس بیانیے پر کام کر رہا ہے کہ جنگ کے خاتمے سے ملکی معیشت دوبارہ مستحکم ہو جائے گی اور ایندھن کی قیمتیں کم ہوں گی، لیکن آزاد معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر تیل کے ذخائر چند دہائیوں کی کم ترین سطح پر پہنچ چکے ہیں جس کی وجہ سے منڈیوں میں عدم استحکام برقرار رہے گا اور عارضی ریلیف بھی ووٹرز کی معاشی پریشانی کو دور نہیں کر سکے گا جس کے باعث ریپلکنز کو بیلٹ بکس پر سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here