واشنگٹن (پاکستان نیوز)صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ ہونیوالے امن معاہدے کی تفصیلات فراہم نہ کرنے پر خود ان کی جماعت کے اہم ترین ریپبلکن اراکین پارلیمنٹ شدید مایوسی اور تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ پولیٹیکو کی رپورٹ کے مطابق یہ بے چینی اس وقت مزید بڑھ گئی جب نائب صدر جے ڈی وینس نے انکشاف کیا کہ یہ تاریخی سمجھوتہ محض ڈیڑھ صفحے پر مشتمل ایک انتہائی عمومی دستاویز ہے۔ سینیٹ کی منظوری کے بغیر جے ڈی وینس کو یہ معاہدہ ڈیجیٹل طور پر دستخط کرنے کے لیے بھیجنے پر ریپبلکن اراکین بالخصوص ایران کے معاملے پر سخت موقف رکھنے والے دفاعی رہنما شدید برہم ہیں اور وہ فوری طور پر معلومات کی فراہمی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس وقت معلوماتی خلا کی وجہ سے وائٹ ہاؤس اور ریپبلکن سینیٹرز کے درمیان فاصلے بڑھ رہے ہیں اور اراکین حکومت پر غیر معمولی تنقید کر رہے ہیں۔ اس صورتحال پر دونوں جماعتوں کے اراکین یک زبان ہیں کہ ایران کے جوہری پروگرام پر اثر انداز ہونے والے کسی بھی طویل مدتی معاہدے کے لیے کانگریس کی منظوری لازمی ہے۔ سینیٹر جیمز لینک فورڈ کا کہنا ہے کہ مستقل معاہدے کے لیے صدارتی حکم نامے کے بجائے کانگریس میں ووٹنگ ضروری ہے۔ سینیٹر لِنڈسے گراہم نے بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اس معاہدے کے تحت ایران کو تھوڑی سی بھی یورینیئم افزودگی کی اجازت ملتی ہے تو یہ اوباما کے دور کے اسی پرانے جے سی پی او اے معاہدے جیسا ہوگا جسے ٹرمپ نے اپنے پہلے دور میں منسوخ کیا تھا، لہٰذا جب تک مکمل متن سامنے نہیں آتا وہ اس پر یقین نہیں کر سکتے۔ سینیٹ کے اکثریتی رہنما جان تھون اور سینیٹر تھام ٹِلس نے بھی کھل کر اعتراف کیا ہے کہ اس خفیہ معاہدے کی تفصیلات سے تاحال کوئی بھی واقف نہیں ہے جس کی وجہ سے اس کی حیثیت پر سنجیدہ سوالات اٹھ رہے ہیں۔










