نیویارک (پاکستان نیوز)پاکستانی اور قطری ثالثی کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی امن معاہدہ طے پا گیا ہے جس کے بعد دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز کو بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے دوبارہ کھول دیا گیا ہے۔ اس اہم پیش رفت کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں تیزی سے گر گئی ہیں جس کا براہ راست اثر امریکا میں گیس کی قیمتوں پر پڑے گا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی ہے کہ تیل سے لادے بحری جہاز اب محفوظ جنوبی شاہراہ کے ذریعے آبنائے ہرمز سے گزر رہے ہیں جس سے سپلائی کی معطلی کا خطرہ ٹل گیا ہے۔ گزشتہ چند ماہ سے جاری کشیدگی اور ناکہ بندی کی وجہ سے عالمی سطح پر توانائی کی ترسیل بری طرح متاثر تھی جس نے امریکا میں پٹرول اور گیس کی قیمتوں کو ریکارڈ سطح پر پہنچا دیا تھا۔ اب آبنائے ہرمز کھلنے سے برینٹ کروڈ کی قیمت 4 فیصد سے زائد کمی کے ساتھ 83 ڈالر جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی قیمت 5.5 فیصد گراوٹ کے ساتھ 80 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ خام تیل کی قیمتوں میں اس بڑی کمی کے بعد امریکی صارفین کو گیس اسٹیشنوں پر فوری ریلیف ملے گا اور گیس کی قیمتیں نمایاں حد تک کم ہو جائیں گی۔ دونوں ممالک 19 جون کو اس معاہدے پر باقاعدہ دستخط کریں گے جس سے عالمی معیشت اور امریکی توانائی کی مارکیٹ میں استحکام کی نئی لہر شروع ہو گئی ہے۔











