نیویارک (پاکستان نیوز)خلیج فارس کے تزویراتی میدان میں ایک ایسی بڑی تبدیلی رونما ہوئی ہے جس نے پینٹاگون اور وائٹ ہاؤس کے حکام کو شدید پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔ دفاعی ماہرین اور خفیہ اداروں کی رپورٹس کے مطابق شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان نے ایران کے ساتھ دہائیوں پرانے تعلقات کو ایک نئی اور خطرناک سطح پر پہنچا دیا ہے۔ اس خفیہ تعاون کے تحت شمالی کوریا نے خام تیل لے جانے والے عام تجارتی جہازوں کے ذریعے ایران کو 500 کے قریب بین البراعظمی بیلسٹک میزائل فراہم کیے ہیں جن میں ٹھوس ایندھن سے چلنے والے جدید ترین ہاسانگ 18 میزائل بھی شامل ہیں۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ اور اسرائیل ایرانی دفاعی نظام کو کمزور کرنے کی کوششیں کر رہے تھے لیکن شمالی کوریا کی مداخلت نے جنگ کا نقشہ ہی بدل دیا ہے۔ اسٹریٹجک تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تہران میں شمالی کوریا کے ایٹمی ماہرین اور فوجی مشیروں کی موجودگی سے ایران کی دفاعی صلاحیت میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ حالیہ 72 گھنٹوں کے دوران امریکی فضائیہ کو ہونے والے نقصانات نے دنیا کو حیران کر دیا ہے کیونکہ ایران نے شمالی کوریا کے جدید فضائی دفاعی نظام کی مدد سے کئی امریکی جیٹ طیارے مار گرائے ہیں۔ ان طیاروں میں جدید ترین ایف 35 بھی شامل ہے جسے اب تک ناقابل تسخیر سمجھا جاتا تھا۔ اس نظام کی خاص بات یہ ہے کہ یہ امریکی جامنگ سسٹم اور الیکٹرانک جنگی حربوں کے خلاف انتہائی موثر ثابت ہو رہا ہے اور اس نے خلیج فارس کے اوپر ایک ایسا علاقہ بنا دیا ہے جہاں امریکی طیاروں کا داخلہ ناممکن ہو چکا ہے۔ شمالی کوریا کے اس اقدام کے پیچھے صرف ایران کی ہمدردی نہیں بلکہ اس کے اپنے مفادات بھی وابستہ ہیں۔ کم جونگ ان ایران کے میدان جنگ کو ایک تجربہ گاہ کے طور پر استعمال کر رہے ہیں جہاں وہ یہ دیکھ رہے ہیں کہ ان کے میزائل اور دفاعی نظام امریکی پیٹریاٹ اور اسرائیلی دفاعی نظام کے خلاف کتنی کامیابی سے کام کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ چین بھی پس پردہ اس اتحاد کی حمایت کر رہا ہے اور ایران کے ساتھ تیل کی تجارت میں امریکی ڈالر کے بجائے اپنی کرنسی یوآن کو فروغ دے رہا ہے تاکہ عالمی معیشت پر امریکی ڈالر کی گرفت کو کمزور کیا جا سکے۔ ماہرین کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے شمالی کوریا کو مذاکرات اور معاشی مراعات کا لالچ دے کر اس تنازع سے دور رکھنے کی تمام کوششیں ناکام ہو چکی ہیں کیونکہ پیانگ یانگ کا ماننا ہے کہ ایران کی بقا ہی ان کی اپنی بقا کی ضمانت ہے۔ اگر ایران اس جنگ میں کمزور پڑتا ہے تو امریکہ کا اگلا ہدف شمالی کوریا ہو سکتا ہے اس لیے وہ ایران کو ہر ممکن فوجی امداد فراہم کر کے امریکہ کو ایک ایسی دلدل میں پھنسانا چاہتے ہیں جہاں سے نکلنا مشکل ہو جائے۔













