امریکہ اور ایران عارضی جنگ بندی پر رضا مند

0
9

نیویارک (پاکستان نیوز) پاکستان کی انتھک سفارتی کوششوں کے باعث مشرق وسطیٰ میں منڈلاتے ہوئے ایک ہولناک جنگ کے بادل چھٹ گئے ہیں اور امریکہ و ایران دو ہفتوں کی مشروط جنگ بندی پر رضا مند ہو گئے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر تباہ کن حملوں کے لیے دی گئی ڈیڈ لائن ختم ہونے سے محض دو گھنٹے قبل جنگ بندی کا اعلان کیا جس کے بعد عالمی سطح پر تناؤ میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ اس اہم پیش رفت کے فوری بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں گر کر 93 ڈالر فی بیرل تک آگئی ہیں جبکہ امریکی ڈالر کی قدر میں بھی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ صدر ٹرمپ نے اپنی ایک سوشل میڈیا تحریر میں واضح کیا ہے کہ انہوں نے وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی مخلصانہ درخواست پر یہ فیصلہ کیا ہے تاکہ سفارت کاری کو ایک آخری موقع دیا جا سکے۔ اس معاہدے کی بنیادی شرط یہ ہے کہ ایران آبنائے ہرمز کو عالمی بحری ٹریفک کے لیے فوری اور مکمل طور پر کھول دے گا جس کی تصدیق ایرانی حکام کی جانب سے کر دی گئی ہے۔ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکہ ایران کے ساتھ ایک طویل مدتی امن معاہدے کے بہت قریب پہنچ چکا ہے اور فریقین کے درمیان ماضی کے تقریباً تمام متنازع نکات پر اتفاق رائے ہو چکا ہے۔ انہوں نے تہران کی جانب سے موصول ہونے والی 10 نکاتی تجویز کو مذاکرات کی ایک ٹھوس اور عملی بنیاد قرار دیا ہے۔ دوسری جانب ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے بھی پاکستان کی اس تجویز کی توثیق کر دی ہے جس کے بعد ایرانی مسلح افواج نے اپنی تمام دفاعی کارروائیاں معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پاکستان کی قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایران پر حملے روک دئیے جائیں تو ان کی فوج بھی کسی قسم کی پیش قدمی نہیں کرے گی۔ اس جنگ بندی میں اسرائیل نے بھی شامل ہونے کی یقین دہانی کرائی ہے اور اسرائیلی ذرائع کے مطابق یہ سیز فائر لبنان پر بھی لاگو ہوگا۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے اس عالمی کامیابی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے تمام متعلقہ فریقین کو مذاکرات کے پہلے باقاعدہ دور کے لیے جمعہ 10 اپریل کو اسلام آباد آنے کی دعوت دی ہے۔ پاکستان کی اس کامیاب ثالثی کو عالمی سطح پر بے حد سراہا جا رہا ہے کیونکہ اس سے قبل صدر ٹرمپ نے دھمکی دی تھی کہ اگر ڈیڈ لائن کے اندر معاہدہ نہ ہوا تو ایک پوری تہذیب مٹ جائے گی۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری کردہ بیانات میں بھی وزیر اعظم پاکستان کی شخصیت اور ان کے عالمی وقار کی تعریف کی گئی ہے۔ اس وقت مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر براہ راست حساس مذاکرات کی نگرانی کر رہے ہیں تاکہ خطے کو کسی بڑی تباہی سے بچا کر پائیدار امن کی بنیاد رکھی جا سکے۔ اس عارضی جنگ بندی کے دوران عالمی تجارتی جہاز اور آئل ٹینکرز ایرانی سمندری حدود سے باحفاظت گزر سکیں گے جس سے عالمی معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہونا شروع ہو گئے ہیں۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here