اسرائیل کے لبنان پر شدید حملے، ایران نے آبنائے ہرمز دوبارہ بند کر دی

0
9

نیویارک (پاکستان نیوز)وائٹ ہاؤس نے اپنے حالیہ بیان میں اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ بندی کا سلسلہ اس صورت میں برقرار رہے گا جب تک آبنائے ہرمز جیسی اہم بحری گزرگاہ کھلی رہے گی۔ امریکی انتظامیہ کے مطابق تہران کی جانب سے یہ یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ وہ عالمی تجارت کے لیے اس اہم آبی راستے سے بحری جہازوں کی نقل و حرکت میں رکاوٹ نہیں ڈالے گا حالانکہ حالیہ دنوں میں ایسی اطلاعات موصول ہوئی تھیں کہ لبنان پر اسرائیلی جارحیت کے جواب میں ایران نے اس گزرگاہ کو دوبارہ بند کر دیا ہے۔ دوسری جانب اسرائیلی فوج کی جانب سے لبنان میں اب تک کی سب سے بڑی مربوط کارروائی کی گئی ہے جس میں لبنانی وزارت صحت کے اعداد و شمار کے مطابق کم از کم 112 افراد جاں بحق اور سینکڑوں زخمی ہو چکے ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس حوالے سے اپنے بیان میں واضح کیا ہے کہ لبنان پر جاری اسرائیلی حملے ایران کے ساتھ کیے گئے دو ہفتوں کے جنگ بندی معاہدے کا حصہ نہیں ہیں جس کی وجہ سے خطے میں بے یقینی کی فضا پیدا ہو رہی ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے واشنگٹن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسے جنگ بندی برقرار رکھنے یا اسرائیل کے ذریعے جاری جنگ کے تسلسل میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔ ایرانی پارلیمان کے اسپیکر نے بھی امریکہ کے ساتھ باقاعدہ مذاکرات شروع ہونے سے پہلے ہی یہ سنگین الزام عائد کیا ہے کہ ایران کی جانب سے پیش کردہ تجاویز کے بعض حصوں کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔ تہران کا موقف ہے کہ اسرائیل کی جانب سے لبنانی سرزمین پر کی جانے والی بمباری اس سفارتی عمل کو سبوتاڑ کر رہی ہے جس کا مقصد خطے میں قیام امن تھا جبکہ وائٹ ہاؤس کا تمام تر زور بحری تجارت کے تحفظ اور آبنائے ہرمز کو ہر صورت کھلا رکھنے پر ہے۔ ان حالات میں جب فریقین ایک دوسرے پر وعدوں سے انحراف کے الزامات لگا رہے ہیں یہ جنگ بندی ایک انتہائی نازک مرحلے میں داخل ہو گئی ہے اور عالمی برادری کی نظریں اب اس بات پر لگی ہیں کہ کیا سفارتی کوششیں بارود کے شور میں اپنی جگہ بنا پائیں گی یا خطہ ایک وسیع تر تنازعے کی لپیٹ میں آ جائے گا۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here