جے ڈی وینس کا 10نکاتی تجاویز پرمشتمل 3 مختلف مسودوں کا انکشاف

0
7

واشنگٹن (پاکستان نیوز)نائب صدر جے ڈی وینس نے اخباری نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ اس وقت تین مختلف دس نکاتی تجاویز گردش کر رہی ہیں جس کی وجہ سے مذاکراتی عمل کی بنیاد کے حوالے سے کافی غلط فہمیاں پیدا ہو رہی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ پہلی دس نکاتی تجویز اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کو پیش کی گئی تھی جس کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ وہ مصنوعی ذہانت کے پروگرام کے ذریعے لکھی گئی تھی اور اسے فوری طور پر مسترد کرتے ہوئے کوڑے دان کی نذر کر دیا گیا تھا۔ نائب صدر کے مطابق دوسری دس نکاتی تجویز بہت زیادہ معقول تھی جو امریکہ، پاکستان اور ایران کے درمیان ہونے والے تبادلہ خیال کا نتیجہ تھی اور یہی وہ مسودہ ہے جس کا تذکرہ صدر نے گزشتہ روز اپنے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم پر کیا تھا۔ جے ڈی وینس نے ایک تیسری تجویز پر بھی کڑی تنقید کی جو سوشل میڈیا پر دیکھی گئی ہے اور ان کے بقول یہ پہلی تجویز سے بھی زیادہ انتہا پسندانہ نوعیت کی ہے۔ انہوں نے ذرائع ابلاغ کی کوریج کو ہدف بناتے ہوئے کہا کہ ابتدائی تجویز ایران میں کسی غیر اہم شخص کی جانب سے پیش کی گئی تھی تاہم میڈیا نے اسے غیر ضروری اہمیت دی ہے۔ دوسری جانب وہ بیانات جن میں ایران کی عظیم فتح اور امریکہ کو ایرانی دس نکاتی منصوبے پر مذاکرات کے لیے مجبور کرنے کا دعویٰ کیا گیا تھا وہ مختلف ایرانی سرکاری میڈیا اداروں کی جانب سے نشر کیے گئے اور دیگر عالمی خبر رساں اداروں نے بھی ایرانی حکام کے حوالے سے ان کی تصدیق کی ہے۔ نائب صدر نے زور دے کر کہا کہ انتظامیہ صرف ان تجاویز کو سنجیدگی سے لے رہی ہے جو باہمی مشاورت سے تیار کی گئی ہیں نہ کہ ان کو جو محض پروپیگنڈے یا غیر مستند ذرائع سے سامنے آ رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سفارتی کوششوں میں شفافیت ضروری ہے تاکہ عالمی سطح پر کسی قسم کے ابہام کی گنجائش باقی نہ رہے۔ یہ صورتحال ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے پس پردہ مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے اور مختلف ممالک اس عمل میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ جے ڈی وینس کے اس بیان سے یہ بھی اشارہ ملتا ہے کہ امریکی انتظامیہ مستقبل کے کسی بھی ممکنہ معاہدے کے لیے صرف ان نکات پر غور کرے گی جو معقولیت اور باہمی مفادات پر مبنی ہوں گے۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here