تجزیہ : اسمبلی ممبر امنڈا سیپٹیمو
نیویارک میں گھریلو تشدد محض ایک عام معاشرتی مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک ایسا سنگین عوامی تحفظ اور صحت کا بحران ہے جس کی جڑیں گہری اور شاخیں مختلف کمیونٹیز میں الگ الگ صورتوں میں پھیلی ہوئی ہیں۔ اعداد و شمار کی خشک زبان سے ہٹ کر اگر ہم زمینی حقائق کا جائزہ لیں تو یہ تلخ حقیقت سامنے آتی ہے کہ رنگدار نسل کی خواتین کے لیے یہ صورتحال کہیں زیادہ بھیانک اور جان لیوا ہے۔ سیاہ فام خواتین میں شریکِ حیات کے ہاتھوں قتل ہونے کی شرح دیگر تمام گروہوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر بلند ہے جبکہ ہسپانوی نڑاد خواتین کی اموات میں سے تقریباً نصف کا تعلق براہِ راست گھریلو تشدد سے ہوتا ہے۔ یہ صورتحال اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ موجودہ حفاظتی نظام ان مخصوص طبقات کو وہ تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہا ہے جس کے وہ حقدار تھے۔ نیویارک شہر میں ہونے والے گھریلو تشدد کے نتیجے میں ہونے والے قتل کے واقعات میں سے تراسی فیصد متاثرین کا تعلق سیاہ فام اور ہسپانوی بستیوں سے ہے جو کہ موجودہ بچاؤ اور روک تھام کے طریقہ کار کی ناکامی کا واشگاف ثبوت ہے۔
تشدد کا یہ سلسلہ محض جسمانی اذیت تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کے پیچھے نسل پرستی، معاشی عدم مساوات، امیگریشن کے خوف، زبان کی رکاوٹ اور سرکاری اداروں پر عدم اعتماد جیسے عوامل کا ایک جال بچھا ہوا ہے جو متاثرہ خواتین کے لیے مدد حاصل کرنا ناممکن بنا دیتا ہے۔ نیویارک کی ریاستی حکومت اگرچہ اس ضمن میں کثیر رقم خرچ کر رہی ہے اور سینکڑوں امدادی پروگرام اور پناہ گاہیں موجود ہیں، تاہم اصل مسئلہ رقم کی مقدار کا نہیں بلکہ اس کی تقسیم کے رخ کا ہے۔ ریاست کے دفتر برائے خدماتِ متاثرین سے مالی معاونت حاصل کرنے والے سینکڑوں اداروں میں سے دس سے بھی کم ایسے ہیں جو مخصوص ثقافتی بنیادوں پر قائم ہیں اور رنگدار نسل کی برادریوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ یہ چھوٹے اور مقامی ادارے ان خواتین کے لیے امید کی آخری کرن ہوتے ہیں جو زبان کی تفریق یا سماجی بدنامی کے خوف سے بڑے سرکاری اداروں کا رخ نہیں کر پاتیں۔
کوریائی، لاطینی، جنوبی ایشیائی اور اسلامی مراکز کے زیرِ انتظام چلنے والے یہ مخصوص ادارے نہ صرف متاثرین کو ان کی مادری زبان میں مشاورت فراہم کرتے ہیں بلکہ وہ ان نفسیاتی اور سماجی پیچیدگیوں کو بھی سمجھتے ہیں جو ایک تارکینِ وطن یا مخصوص مذہبی پس منظر رکھنے والی خاتون کو درپیش ہوتی ہیں۔ بدقسمتی سے ان اہم اداروں کو بڑے اداروں کے مقابلے میں انتہائی محدود وسائل پر گزارا کرنا پڑتا ہے جس کی وجہ سے ان کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔ اگر ہم واقعی اس انسانی بحران کا خاتمہ چاہتے ہیں تو نیویارک کو چاہیے کہ وہ ان مخصوص ثقافتی تنظیموں کے لیے مستقل اور علیحدہ فنڈز مختص کرے۔ جب تک ان مقامی گروہوں کو مالی استحکام نہیں دیا جائے گا جو متاثرہ برادریوں کے سب سے قریب ہیں، تب تک تشدد کی شکار وہ خواتین ہمیشہ نظام کی نظروں سے اوجھل رہیں گی جو آج خاموشی سے ظلم سہنے پر مجبور ہیں۔ گھریلو تشدد سے نمٹنے کا کوئی بھی ایک واحد فارمولا تمام طبقات پر لاگو نہیں کیا جا سکتا بلکہ ہر کمیونٹی کی مخصوص ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہی اس ناسور کا خاتمہ ممکن ہے۔













