تہران (پاکستان نیوز)ایران کے صدر مسعود پزیشکیان نے دعویٰ کیا ہے کہ ایک کروڑ چالیس لاکھ سے زائد ایرانی شہری امریکہ اور اسرائیل کے خلاف جنگ میں ملک کے دفاع کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے کے لیے تیار ہیں۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے ایک پیغام میں انہوں نے کہا کہ اب تک چودہ ملین سے زیادہ غیرت مند ایرانیوں نے ایران کی حفاظت کی خاطر اپنی زندگیاں قربان کرنے کی آمادگی ظاہر کی ہے اور وہ خود بھی ملک و قوم کی خاطر اپنی جان فدا کرنے کے لیے ہمیشہ تیار رہے ہیں۔ شہریوں کو متحرک کرنے کی یہ مہم گزشتہ ماہ ایران پر مسلط ہونے والی جنگ کے آغاز میں شروع کی گئی تھی جس کا مقصد قومی یکجہتی کو فروغ دینا اور بیرونی جارحیت کے خلاف عوام کو متحد کرنا ہے۔ یہ صورتحال ایک ایسے وقت میں پیدا ہوئی ہے جب ایران امریکہ کی جانب سے ممکنہ بڑے پیمانے کے حملے کی تیاری کر رہا ہے کیونکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تہران کو آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے لیے منگل تک کی مہلت دے رکھی ہے۔ ایرانی قیادت کے مطابق اس مہم کے ذریعے عوام نے یہ واضح پیغام دیا ہے کہ وہ کسی بھی بیرونی دباؤ کے سامنے سر تسلیم خم نہیں کریں گے اور ملکی خود مختاری کے تحفظ کے لیے ہر قسم کی قربانی دینے کے لیے پرعزم ہیں۔ بین الاقوامی سطح پر بڑھتی ہوئی اس کشیدگی نے خطے میں ایک نئی جنگ کے خطرات کو جنم دیا ہے جبکہ ایرانی صدر کے بیان کو ملکی دفاعی حکمت عملی اور عوامی جذبات کی عکاسی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اس مہم کے تحت ملک بھر میں رجسٹریشن کا عمل جاری ہے جہاں نوجوان اور بزرگ یکساں طور پر اپنی خدمات پیش کر رہے ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں دفاعی افواج کا ساتھ دیا جا سکے۔ ایران کا موقف ہے کہ وہ اپنی سمندری حدود اور تجارتی راستوں پر مکمل اختیار رکھتا ہے اور کسی بھی غیر ملکی مداخلت کا منہ توڑ جواب دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ دوسری جانب امریکی انتظامیہ نے اپنی بحری اور فضائی افواج کو الرٹ رہنے کی ہدایات جاری کر رکھی ہیں جس کی وجہ سے مشرق وسطیٰ میں صورتحال انتہائی تشویشناک ہو چکی ہے۔












