امریکہ ؛پیٹرول کی قیمت 4.14 فی گیلن

0
9

نیویارک (پاکستان نیوز)امریکہ میں عام پیٹرول کی اوسط قیمت میں مزید 2 سینٹ کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جس کے بعد ٹرپل اے کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق قیمت 4.14 ڈالر فی گیلن کی سطح پر پہنچ گئی ہے۔ اس حالیہ اضافے کا مطلب یہ ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ کے آغاز سے اب تک ایندھن کی قیمتوں میں 39 فیصد تک بڑا اضافہ ہو چکا ہے۔ گزشتہ ہفتے کے دوران اوسط قیمت نے 2022 کے بعد پہلی بار 4 ڈالر فی گیلن کی حد عبور کی تھی۔ یکم مارچ سے اب تک صرف تین دن ایسے گزرے ہیں جب قیمتوں میں معمولی کمی دیکھنے کو ملی لیکن وہ گراوٹ اتنی کم تھی کہ اعشاریوں کی تبدیلی کے باوجود قیمتیں مستحکم ہی رہیں اور کوئی نمایاں فرق نہیں پڑ سکا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ اعلان کر رکھا ہے کہ اگر ایران نے منگل کی شام 8 بجے تک آبنائے ہرمز کو دوبارہ نہیں کھولا تو وہ ایران کے بجلی گھروں اور پلوں پر حملے کریں گے۔ یہ آبی گزرگاہ عالمی منڈی کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہے کیونکہ دنیا بھر میں تیل کی سپلائی کا تقریباً 20 فیصد حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے جو جنگ کے آغاز سے ہی بند ہے۔ منگل کی صبح تیل کے سودوں میں معمولی تیزی دیکھی گئی کیونکہ سرمایہ کار اس بات کا انتظار کر رہے ہیں کہ آیا صدر ٹرمپ اپنے الٹی میٹم پر قائم رہتے ہیں یا ماضی کی طرح اپنے فیصلے سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں کیونکہ ان کی سابقہ پسپائیوں کی وجہ سے تیل کی قیمتوں میں اچانک کمی واقع ہوئی تھی۔ اگرچہ مشرق وسطیٰ کا بہت کم تیل امریکہ پہنچتا ہے کیونکہ امریکہ خود دنیا کا سب سے بڑا تیل پیدا کرنے والا ملک ہے لیکن اس گزرگاہ کی بندش نے عالمی اجناس کی منڈیوں میں شدید بے یقینی پیدا کر دی ہے جس سے یہاں اور دنیا بھر میں پیٹرول کی قیمتوں کا تعین ہوتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز کھل بھی جائے اور عالمی منڈی میں تیل کے نرخ کم ہونا شروع ہو جائیں تب بھی عام صارفین کے لیے پیٹرول پمپوں پر قیمتوں میں کمی آنے میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here