نیویارک (پاکستان نیوز)نیویارک کے بالائی علاقوں میں قائم مخصوص مذہبی اور نسلی آبادیوں میں غربت اور فلاحی بجٹ پر غیر معمولی انحصار کے حوالے سے حالیہ دنوں میں ایک نئی سماجی اور سیاسی بحث چھڑ گئی ہے۔ فلاحی امور کے ماہرین اور صحافتی حلقوں کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ان الگ تھلگ علاقوں میں 40 فیصد کے قریب آبادی خطِ غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے جس کی وجہ سے یہ مقامات ملک کے غریب ترین قصبوں میں شمار ہونے لگے ہیں۔ اس معاشی صورتحال کی بنیادی وجہ ان برادریوں میں شرح پیدائش کا غیر معمولی طور پر بلند ہونا ہے جہاں اوسطاً ایک خاندان میں 7 سے 10 بچے ہوتے ہیں۔ اتنے بڑے خاندانوں کے اخراجات پورے کرنے کے لیے یہ مقامی لوگ بڑے پیمانے پر سرکاری صحت کی سہولیات، راشن کارڈ اور رہائشی وظائف کا سہارا لیتے ہیں جس پر ناقدین کی جانب سے سخت اعتراضات اٹھائے جا رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جدید دنیا میں جہاں معاشی خود کفالت کو اولیت دی جاتی ہے، وہاں کسی ایک مخصوص گروہ کا اس حد تک سرکاری خزانے پر انحصار کرنا فلاحی ریاست کے قوانین کا غلط فائدہ اٹھانے کے مترادف ہے۔ دوسری طرف ان برادریوں کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ ان علاقوں میں جرائم کی شرح نہ ہونے کے برابر ہے اور ان کا داخلی امدادی نظام بہت مضبوط ہے، اس لیے انہیں صرف سرکاری امداد کے ترازو میں نہیں تولا جانا چاہیے۔ اس پیچیدہ صورتحال نے اب ریاستی پالیسی سازوں کو مجبور کر دیا ہے کہ وہ مذہبی آزادی اور عوامی فنڈز کے منصفانہ استعمال کے مابین توازن قائم کرنے کے لیے نئے قوانین پر غور کریں۔











