ٹرمپ کو بڑا جھٹکا، سینیٹ نے ایران کیخلاف جنگ کو غیر قانونی قرار دیدیا

0
23

واشنگٹن (پاکستان نیوز)سینیٹ نے سابقہ پالیسیوں کو مسترد کرتے ہوئے ایک تاریخی اور اہم ترین قرارداد منظور کر لی ہے، جس کے تحت صدر کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف جنگ شروع نہیں کر سکتے اور ایسی کسی بھی فوجی کارروائی کو غیر قانونی تصور کیا جائے گا۔ سینیٹ میں ہونیوالے اس انتہائی سخت مقابلے میں قرارداد کے حق میں 50 اور مخالفت میں 47 ووٹ آئے۔ عالمی مبصرین اور بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق اس قرارداد کی منظوری کو ایران کے ساتھ جاری کشیدگی پر صدر ٹرمپ کی سفارتی اور فوجی حکمت عملی کی واضح اور بڑی ناکامی قرار دیا جا رہا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ماضی میں صدر ٹرمپ کی اپنی ہی پارٹی کے قریبی ساتھیوں نے ایسی ہی 7 مختلف کوششوں کو کامیابی سے روکا تھا، لیکن اس بار 8 ریپبلکن سینیٹرز نے اپنی پارٹی پالیسی سے انحراف کرتے ہوئے ڈیموکریٹس کے ساتھ مل کر اس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا، جس نے ڈیموکریٹس کی جیت کو آسان بنا دیا۔ قرارداد کے اصل اسپانسر ورجینیا سے تعلق رکھنے والے سینیٹر ٹم کین نے سینیٹ میں بحث کے دوران ارکان کو متوجہ کرتے ہوئے کہا کہ جنگ شروع ہونے سے پہلے بحث کرنے کا یہ بہترین اور موزوں ترین وقت ہے، کیونکہ امریکی آئین کے تحت جنگ کا اعلان کرنے کا حتمی اختیار صدر کے پاس نہیں بلکہ صرف کانگریس کے پاس ہونا چاہیے۔ دوسری جانب اس قرارداد کو اب ریپبلکن پارٹی کی اکثریت والے ایوان نمائندگان یعنی کانگریس سے بھی منظور ہونا پڑے گا جہاں اس حساس معاملے پر رواں ہفتے ہی ووٹنگ متوقع ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ قرارداد کانگریس سے بھی منظور ہو جاتی ہے تو صدر ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ ویٹو کو غیر مؤثر کرنے کے لیے امریکی پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں دو تہائی اکثریت کی ضرورت ہوگی، جو موجودہ سیاسی صورتحال میں ڈیموکریٹس کے لیے کافی مشکل نظر آتا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ایران کے ساتھ اس جاری تنازع نے نہ صرف امریکہ بلکہ دنیا بھر کی معیشتوں کو نصف ٹریلین ڈالر کا شدید معاشی جھٹکا دیا ہے، یہی وجہ ہے کہ اب کانگریس کے ارکان کسی طویل اور واضح حکمت عملی کے بغیر امریکہ کو کسی نئی جنگ میں دھکیلنے کے سخت خلاف ہیں۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here