سان ڈیاگو میں اسلامی مرکز پر حملہ، 3 مسلمان شہید

0
21

نیویارک (پاکستان نیوز) کیلیفورنیا ریاست کے شہر سان ڈیاگو سے انسانیت کو لرزا دینے والا ایک انتہائی دلخراش واقعہ سامنے آیا ہے جہاں اسلامک سینٹر آف سان ڈیاگو نامی کاؤنٹی کی سب سے بڑی مسجد اور اسلامی مرکز پر دو مسلح کم عمر نوجوانوں کی جانب سے کی جانے والی اندھا دھند فائرنگ کے نتیجے میں سیکیورٹی گارڈ اور عملے کے دو ارکان سمیت 3 بے گناہ مسلم شہری شہید ہو گئے ہیں۔ مقامی پولیس اور وفاقی تحقیقاتی ادارے کے حکام کے مطابق یہ لرزہ خیز واقعہ اس وقت پیش آیا جب 17 اور 18 سال کی عمر کے دو نوجوانوں نے، جو بظاہر شدید نفرت انگیز نظریات اور نسلی تعصب سے متاثر تھے، مرکز کے باہر موجود لوگوں پر اچانک خودکار ہتھیاروں سے فائرنگ شروع کر دی۔ اس انتہائی نازک اور ہولناک صورتحال میں وہاں تعینات مسلم سیکیورٹی گارڈ امین عبداللہ نے بے مثال شجاعت، جرأت اور بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی جان کی پروا نہ کی اور حملہ آوروں کا راستہ روک لیا۔ انہوں نے فائرنگ لائن کے سامنے کھڑے ہو کر دہشت گردوں کو مسجد کے مرکزی حصے میں داخل ہونے سے روکے رکھا جس کی وجہ سے ایک بہت بڑی تباہی کو ٹالا جا سکا۔ عینی شاہدین اور سیکیورٹی اداروں کے مطابق حملے کے دوران جب امین عبداللہ شدید خطرے میں تھے، انہوں نے انتہائی دلیری کے ساتھ فوری طور پر مسجد کے اندر موجود تعلیمی ادارے کی انتظامیہ کو فون کیا اور انہیں تمام دروازے اندر سے بند کرنے کی سخت ہدایت کی، جس کے باعث دونوں حملہ آور معصوم بچوں تک پہنچنے میں مکمل طور پر ناکام رہے۔ واقعے کے وقت مسجد کے احاطے میں واقع برائٹ ہورائزن اکیڈمی یعنی الرشید اسکول میں کنڈرگارٹن سے لے کر تیسری جماعت تک کے درجنوں چھوٹے بچے، طالبات، طلبہ اور اساتذہ موجود تھے جن کی زندگیاں اس بروقت کارروائی کی بدولت محفوظ رہیں۔ اس بزدلانہ حملے میں جہاں سیکیورٹی گارڈ امین عبداللہ نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا، وہی مسجد کے عملے کے مزید دو مخلص ارکان منصور قضیحہ اور نادر عواد بھی شہید ہو گئے۔ فائرنگ کی اس وحشیانہ کارروائی کے بعد دونوں حملہ آور جائے وقوعہ سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے تھے تاہم پولیس کی تعاقب اور ناکہ بندی کے دوران کچھ ہی فاصلے پر ایک گاڑی کے اندر دونوں ملزمان مردہ حالت میں پائے گئے۔ قانون نافذ کرنیوالے اداروں کے مطابق انہوں نے گرفتاری کے خوف سے خود کو گولی مار کر خودکشی کر لی تھی۔ تحقیقاتی اداروں کو ایک حملہ آور کے گھر سے آخری تحریر ملی ہے جس میں شدید نسل پرستانہ اور مسلم دشمنی پر مبنی جذبات کا اظہار کیا گیا ہے جبکہ حملے میں استعمال ہونے والے ایک ہتھیار پر بھی نفرت انگیز پیغامات درج پائے گئے ہیں۔ 8 بچوں کے شفیق والد اور دائرہ اسلام میں داخل ہونیوالے امین عبداللہ کی اس عظیم شہادت پر مسلم برادری سمیت پورے امریکہ میں گہرے رنج و ملال اور سوگ کا سماں ہے۔ سوشل میڈیا پر انہیں ایک حقیقی ہیرو اور محافظ کے طور پر خراجِ عقیدت پیش کیا جا رہا ہے جنہوں نے اپنے خون سے بچوں کے مستقبل کی حفاظت کی۔ اس سانحے کے بعد مسجد انتظامیہ اور کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز کی جانب سے شہید کے سوگوار خاندان کی مالی کفالت اور مدد کے لیے ایک فنڈ ریزنگ مہم کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے۔ دوسری جانب سان ڈیاگو پولیس کے سربراہ نے اس مجرمانہ کارروائی کو باقاعدہ طور پر نفرت انگیز جرم کے طور پر شاملِ تفتیش کر لیا ہے اور شہر بھر میں مسلم عبادت گاہوں کی سیکیورٹی کو انتہائی سخت کرنے کے احکامات جاری کر دئیے گئے ہیں۔ یہ اندوہناک واقعہ امریکی معاشرے میں پھیلتی ہوئی مذہبی منافرت اور اسلحے کی آسان دستیابی جیسے دیرینہ اور سنگین مسائل کی جانب ایک بار پھر توجہ مبذول کرواتا ہے۔ نیویارک اسٹیٹ اور خصوصاً نیویارک سٹی میں میئر ظہران ممدانی اور گورنر کیتھی ہوشل کے زیر سرپرستی اس قسم کے جرائم کی روک تھام کے لیے نہایت اہم اور ٹھوس اقدامات کیے جا رہے ہیں جن کے معاشرے پر دوررس اثرات مرتب ہوں گے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ امریکہ کی دیگر تمام ریاستیں اور بڑے میٹرو شہر بھی ایسی سخت قانون سازی اور پالیسی اپنائیں تاکہ ملک کے کثیر الثقافتی نظام کو نقصان پہنچانے والی سازشیں ہمیشہ کے لیے ختم ہو سکیں اور مستقبل میں کسی اور معصوم کو اس قسم کی درندگی کا نشانہ نہ بننا پڑے۔ واضح رہے کہ دونوں حملہ آوروں نے کارروائی کے بعد خود کو گولی مار کر ہلاک کر لیا۔ اس واقعے کے وقت قریبی اسکولوں کو فوری طور پر بند کر دیا گیا اور خوفزدہ والدین اپنے بچوں کو لینے کے لیے جائے وقوعہ پر پہنچے۔ اسلامی مرکز کے امام طٰہٰ حسان نے اس سانحے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی زندگی میں کبھی ایسا خوفناک منظر نہیں دیکھا، یہ منظر ایک بھیانک خواب دکھائی دے رہا تھا، وہ نہایت خوفزدہ، بے بس اور تذبذب کا شکار تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عبادت گاہیں میدان جنگ نہیں ہونی چاہئیں بلکہ انہیں ہمیشہ تحفظ فراہم کیا جانا چاہیے۔ مسجد کے امام طہٰ حسان نے مقتولین کو زبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے انہیں پوری کمیونٹی کا ہیرو قرار دیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حملے کے وقت اسلامی مرکز کے اسکول میں تدریسی عمل جاری تھا اور اگر حفاظتی نگہبان جان پر کھیل کر حملہ آوروں کا راستہ نہ روکتے تو وہ آسانی سے کلاس رومز تک پہنچ کر بچوں کو نقصان پہنچا سکتے تھے۔ امام حسان نے ملکی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ برسوں میں سان ڈیاگو اور پورے ملک میں سفید فام بالادستی پسندوں اور اسلاموفوبیا کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ شہری حقوق کی تنظیموں کی رپورٹس کے مطابق 2023 اور 2025 کے دوران امریکہ میں مسلمانوں کے خلاف شکایات کی تعداد اب تک کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔ اس سانحے کے بعد سان ڈیاگو کی مسلم برادری کو دیگر تمام مذاہب کے رہنماؤں کی طرف سے یکجہتی اور ہمدردی کے پیغامات موصول ہو رہے ہیں۔مسجد میں موجود دیگر عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ اس وحشیانہ کارروائی کا مقصد مسلمانوں میں خوف پھیلانا تھا لیکن اس قسم کی دہشت گردی انہیں اپنے دین پر عمل کرنے اور پانچ وقت کی نماز ادا کرنے سے نہیں روک سکتی۔ مقامی پولیس اس لرزہ خیز واقعے کی تفتیش نفرت انگیز جرم کے زاویے سے کر رہی ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here