نیویارک (پاکستان نیوز) نیویارک کے میئر زہران ممدانی نے شہر کی تاریخ کے پہلے بلدیاتی ملکیتی گروسری اسٹور کے مقام کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے جو ان کی پہلی مدتِ حکومت کے ختم ہونے سے پہلے فعال کر دیا جائے گا۔ میئر کے مطابق یہ بیس ہزار مربع فٹ پر محیط وسیع اسٹور اگلے سال جنوبی برونکس میں واقع ہنٹس پوائنٹ کے ایک رہائشی منصوبے دی پیننسولا میں کھولا جائے گا، جس کا بنیادی مقصد غریب اور متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے شہریوں کے لیے ماہانہ راشن اور روزمرہ کی غذائی اشیا کو انتہائی سستا اور قابلِ رسائی بنانا ہے۔ میئر زہران ممدانی نے واضح کیا ہے کہ ان کا ہدف سال 2029 تک شہر کے تمام 5 اضلاع یعنی ہر ایک بورہ میں ایک ایک سرکاری گروسری اسٹور قائم کرنا ہے۔ اس سلسلے میں مشرقی ہارلم کے مقام لا مارکیٹا کا انتخاب بھی کیا گیا ہے جہاں تعمیراتی اور انتظامی کاموں پر لگ بھگ 30 ملین ڈالر لاگت کا تخمینہ لگایا گیا ہے کیونکہ وہ جگہ پہلے ہی سے سٹی ہال کی ملکیت ہے۔ اگرچہ بعض نجی تاجروں اور کاروباری رہنماؤں نے حکومت کے اس اقدام پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے، لیکن بلدیاتی انتظامیہ اس منصوبے کو ہر صورت آگے بڑھانے کے لیے پرعزم ہے۔ معاشی انصاف کی ڈپٹی میئر جولی سو نے اس حوالے سے زور دے کر کہا ہے کہ برونکس کے کسی بھی خاندان کو کرایے اور راشن میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے پر مجبور نہیں کیا جانا چاہیے اور یہ عوامی سرمایہ کاری کی بہترین مثال ہے جہاں حکومت براہ راست غریب خاندانوں کی فلاح و بہبود کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ یہ تمام اسٹورز بلدیاتی نگرانی میں کسی تیسرے فریق یعنی نجی آپریٹر کے ذریعے چلائے جائیں گے۔












