نئی دہلی (پاکستان نیوز)موجودہ دور میں جہاں ٹیکنالوجی نے زندگی کے ہر شعبے میں بے پناہ آسانیاں پیدا کی ہیں وہیں مصنوعی ذہانت یعنی آرٹیفیشل انٹیلیجنس کا غلط استعمال خواتین کے لیے ایک سنگین اور پریشان کن مسئلہ بن چکا ہے۔ ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کے ذریعے بھارت میں دیگر خواتین کے ساتھ ساتھ خاص طور پر مسلم خواتین کو انٹرنیٹ پر ہراساں کرنے اور ان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے واقعات میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ اس صورتحال کا شکار صرف مشہور شخصیات یا اداکارائیں ہی نہیں ہو رہیں بلکہ عام خواتین، صحافی اور سماجی کارکنان بھی اس کا مسلسل نشانہ بن رہی ہیں۔ معروف مراٹھی اداکارہ گریجا اوک نے حال ہی میں اپنے ایک انٹرویو میں انکشاف کیا کہ کس طرح ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے ان کی اور ان کے کم عمر بیٹے کی تصاویر کو نازیبا انداز میں تبدیل کر کے انٹرنیٹ پر پھیلا دیا گیا جس سے ان کے خاندان کو شدید ذہنی اذیت سے گزرنا پڑا۔ اعداد و شمار کے مطابق خواتین کے خلاف آن لائن جرائم کی شرح ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھ رہی ہے۔ بھارت کے قومی سائبر کرائم پورٹل کے مطابق سال 2025 میں خواتین کے خلاف سائبر جرائم کے 76000 سے زائد مقدمات درج کیے گئے جو اس بحران کی سنگینی کو واضح کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ ایک عالمی سروے سے معلوم ہوا ہے کہ 38 فیصد خواتین خود آن لائن بدسلوکی کا شکار ہو چکی ہیں جبکہ 85 فیصد خواتین نے دوسری خواتین کو اس عمل سے گزرتے دیکھا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس گھناونے عمل کا بنیادی مقصد خواتین کو ہراساں کرنا، ان کی تذلیل کرنا اور خاص طور پر ان خواتین کی آواز کو دبانا ہے جو معاشرے میں کھل کر اپنی رائے کا اظہار کرتی ہیں۔ اس بڑھتے ہوئے خطرے کے خلاف اب قانونی اقدامات اور سخت قوانین کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے تاکہ انٹرنیٹ کو خواتین کے لیے ایک محفوظ جگہ بنایا جا سکے۔












