نیویارک (پاکستان نیوز)ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے واضح کیا ہے کہ ان کا ملک اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ جاری جنگ کو ختم کرنے کی ضروری سیاسی قوت رکھتا ہے، تاہم اس مقصد کے لیے ان بنیادی شرائط کی تکمیل ناگزیر ہے جو مستقبل میں کسی بھی قسم کی جارحیت کے اعادے کو روکنے کی ٹھوس ضمانت فراہم کر سکیں۔ یورپی کونسل کے سربراہ کے ساتھ ٹیلیفونک گفتگو کے دوران ایرانی صدر نے تہران کے اس دیرینہ مطالبے کو دہرایا کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے سیکیورٹی کی یقینی دہانیاں فراہم کی جائیں۔ یہ اہم بیان ایک ایسے نازک وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تہران پر تزویراتی دباؤ میں مسلسل اضافہ کیا جا رہا ہے اور دوسری جانب پاکستان اور چین اس سنگین تنازع کے حل کے لیے ایک جامع اور مشترکہ امن اقدام پر مشاورت مکمل کر چکے ہیں۔ واشنگٹن کی جانب سے فوجی دباؤ کی پالیسی کے تحت پینٹاگون نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ امریکی بی 52 بمبار طیاروں نے ایران کی فضائی حدود کے قریب تزویراتی پروازیں شروع کر دی ہیں، جبکہ خلیجی پانیوں میں ہزاروں امریکی میرینز کی موجودگی تہران کو کسی بڑے فوجی آپریشن کا واضح اشارہ دے رہی ہے تاکہ اسے مطلوبہ شرائط پر مذاکرات کی میز پر لایا جا سکے۔ پاکستان میں تعینات ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے اسلام آباد کی فعال سفارتی کوششوں کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران نیک نیتی پر مبنی ان تمام اقدامات کو سراہتا ہے جو خطے میں پائیدار استحکام اور امن کی بحالی کے لیے کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر اپنے پیغامات میں خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے احترام کو کلیدی قرار دیتے ہوئے زور دیا کہ پائیدار استحکام کے لیے تمام عالمی فریقین کو بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کرنی ہوگی۔ 28 فروری کو جنگ کے آغاز کے بعد سے امریکہ نے ایک دوہری حکمت عملی اپنا رکھی ہے جس میں ایک طرف فوجی قوت کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے اور دوسری طرف مخصوص شرائط کے تحت مذاکرات کی گنجائش برقرار رکھی گئی ہے۔ امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ نے اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر ایرانی قیادت دانشمندی کا مظاہرہ کرے تو وہ فوری معاہدہ کر لیں گے کیونکہ صدر ٹرمپ اپنے اہداف سے پیچھے نہیں ہٹتے۔ انہوں نے ایرانی حکومت پر زور دیا کہ وہ موجودہ صورتحال کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے سابقہ ادوار سے مختلف اور بہتر فیصلے کرے۔ اسی تناظر میں پاکستان اور چین نے مشرقِ وسطیٰ اور خلیج میں استحکام کی واپسی کے لیے ایک پانچ نکاتی جامع امن منصوبہ پیش کیا ہے جو واشنگٹن کے تجارتی مفادات اور تہران کے خودمختاری کے تحفظ کے مطالبات میں توازن پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ بیجنگ میں پاکستانی نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور چینی وزیر خارجہ وانگ ای کے درمیان ہونے والی اعلیٰ سطح کی ملاقات میں اس منصوبے کے خدوخال طے کیے گئے ہیں۔ اس مشترکہ اقدام کے پانچ بنیادی ستونوں میں فوری طور پر جنگ بندی کا مطالبہ، سفارتی مذاکرات کا آغاز، ایران اور خلیجی ریاستوں کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام، بین الاقوامی انسانی قوانین کے تحت عام شہریوں اور غیر فوجی ڈھانچے بشمول توانائی اور ایٹمی تنصیبات کا تحفظ، اور آبنائے ہرمز جیسی عالمی تجارتی گزرگاہوں کی حفاظت شامل ہے۔ پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق مذاکرات اور سفارت کاری ہی تنازعات کے حل کا واحد پائیدار راستہ ہے، اور اس عمل کے دوران تمام فریقین کو طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے گریز کرنا چاہیے۔ دونوں ممالک نے اقوام متحدہ کے چارٹر کی روشنی میں کثیر جہتی تعاون کو مضبوط بنانے پر زور دیا ہے تاکہ عالمی توانائی کی ترسیل اور علاقائی سیکیورٹی کو یقینی بنایا جا سکے۔











