ایران کے بیانیۂ مزاحمت کی فتح!!!

0
4
شمیم سیّد
شمیم سیّد

مشرق وسطیٰ کی بساط پر حالیہ برسوں کے دوران جو خونی کھیل کھیلا جا رہا ہے اس نے خطے کے جیو پولیٹیکل منظر نامے کو ایک ایسے دوراہے پر لا کھڑا کیا ہے جہاں طاقت کے توازن اور نظریاتی برتری کے درمیان ایک لامتناہی جنگ جاری ہے۔ اسرائیل کی جانب سے ایرانی فوجی تنصیبات، پاسداران انقلاب کے مراکز اور تزویراتی اثاثوں پر کیے جانے والے فضائی حملوں نے بظاہر تہران کی حربی صلاحیتوں کو ایک محدود دائرے میں لا کر کھڑا کر دیا ہے۔ ان حملوں کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات نے یہ تاثر عام کیا ہے کہ شاید ایرانی دفاعی حصار میں ایسی دراڑیں پڑ چکی ہیں جن کا دفاع اب روایتی جنگی وسائل سے ممکن نہیں۔ تاہم اگر ہم سطحی نتائج سے ہٹ کر اس پورے منظر نامے کا گہرائی سے مشاہدہ کریں تو یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ جہاں اسرائیل ایران کو عسکری میدان میں پیچھے دھکیلنے کی کوشش کر رہا ہے، وہاں غیر ارادی طور پر وہ تہران کے مزاحمتی بیانیے کو ایک نئی توانائی اور جلا بخش رہا ہے۔ تہران نے اپنی فوجی کمزوریوں کو اخلاقی اور نظریاتی برتری میں بدلنے کا جو ہنر سیکھا ہے وہ اسے خطے کی دیگر قوتوں سے ممتاز کرتا ہے۔ اسرائیل کی جدید ترین ٹیکنالوجی اور فضائی برتری نے یقیناً ایران کے مادی ڈھانچے کو نقصان پہنچایا ہے لیکن یہی بمباری ایرانی حکمرانوں کے اس موقف کو عوامی سطح پر تقویت دینے کا باعث بن رہی ہے کہ وہ استعماری قوتوں کے خلاف تن تنہا سینہ سپر ہیں۔ایرانی عسکری نظام پر لگنے والی ضربیں اگرچہ اس کی آپریشنل صلاحیتوں کو وقتی طور پر متاثر کرتی ہیں لیکن اس سے پیدا ہونے والا نفسیاتی ردعمل مزاحمتی بلاک کے اندر اتحاد کی ایک نئی لہر پیدا کر رہا ہے۔ جب بھی اسرائیل کسی ایرانی ہدف کو نشانہ بناتا ہے تو ایران کا میڈیا اور سفارتی مشینری اسے ایک ایسی ریاست کی مظلومیت کے طور پر پیش کرتی ہے جو عالمی استعمار کے سامنے جھکنے سے انکاری ہے۔ یہ بیانیہ نہ صرف ایران کے اندر قوم پرستی کے جذبات کو ابھارتا ہے بلکہ پورے عالم اسلام اور خاص طور پر عرب دنیا کے ان طبقات میں بھی پزیرائی حاصل کرتا ہے جو اسرائیل کی توسیع پسندانہ پالیسیوں سے نالاں ہیں۔ تہران اس حکمت عملی پر گامزن ہے کہ میدان جنگ میں ہونے والے مادی نقصان کا ازالہ پروپیگنڈا کی جنگ میں فتح سے کیا جائے۔ وہ اپنے عوام اور حامیوں کو یہ باور کرانے میں کامیاب رہا ہے کہ ان کی قربانیاں محض زمین کے ایک ٹکڑے کے لیے نہیں بلکہ ایک عظیم تر نظریاتی مقصد کی تکمیل کے لیے ہیں۔ اس طرح عسکری کمزوری ایک سیاسی ہتھیار میں تبدیل ہو جاتی ہے جو ایران کو خطے میں مظلوموں کا مسیحا ثابت کرنے میں مدد دیتی ہے۔دوسری جانب اسرائیل کی مسلسل جارحیت نے ایران کو یہ موقع فراہم کیا ہے کہ وہ اپنے میزائل پروگرام اور ڈرون ٹیکنالوجی کو ناگزیر دفاعی ضرورت کے طور پر پیش کر سکے۔ ایران یہ دلیل دیتا ہے کہ اگر اس کے پاس یہ دفاعی صلاحیتیں موجود نہ ہوتیں تو اسرائیل اس کی خودمختاری کو مکمل طور پر پامال کر چکا ہوتا۔ اس منطق نے ایران کے اندر موجود ان حلقوں کو بھی خاموش کر دیا ہے جو معاشی بدحالی کے باعث فوجی اخراجات پر معترض تھے۔ اب مزاحمت محض ایک فوجی اصطلاح نہیں رہی بلکہ یہ ایرانی شناخت کا ایک لازمی جزو بن چکی ہے۔ اسرائیل کی ہر کارروائی کے بعد تہران کی گلیوں میں ہونے والے مظاہرے اور حکومتی بیانات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ مادی شکست کے ملبے سے ایک نیا نظریاتی ڈھانچہ تعمیر کیا جا رہا ہے۔ یہ بیانیہ اتنا طاقتور ہے کہ اس نے ایران کے حریف عرب ممالک کو بھی ایک دفاعی پوزیشن پر لا کھڑا کیا ہے کیونکہ وہ اپنی عوام کے سامنے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو جواز فراہم کرنے میں مشکل محسوس کرتے ہیں۔
بین الاقوامی سیاست کے تناظر میں دیکھا جائے تو ایران کی بیانیہ مزاحمت نے اسے ایک ایسی اخلاقی بلندی عطا کی ہے جس کا مقابلہ کرنا اسرائیل کے لیے مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ اسرائیل اپنی جدید ترین فوجی طاقت کے باوجود اس تاثر کو ختم کرنے میں ناکام رہا ہے کہ وہ خطے میں عدم استحکام کا اصل ذمہ دار ہے۔ جب ایران کی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا جاتا ہے تو عالمی برادری میں تہران کے خلاف ہمدردی پیدا ہو یا نہ ہو لیکن اسرائیل کے خلاف نفرت میں اضافہ ضرور ہوتا ہے۔ ایران نے بڑی مہارت سے اس نفرت کو اپنی بقا کے لیے ڈھال بنا لیا ہے۔ تہران کا یہ موقف کہ وہ فلسطینیوں اور لبنانیوں کا واحد حقیقی پشت پناہ ہے، اسے ان لاکھوں لوگوں کی نظر میں معتبر بناتا ہے جو عالمی نظام کی ناانصافیوں سے تنگ ہیں۔ اس طرح اسرائیل کی ہر عسکری کامیابی ایران کی ایک سیاسی جیت میں بدل جاتی ہے۔ مزاحمت کا یہ سفر اب صرف بارود اور گولیوں تک محدود نہیں رہا بلکہ یہ اب ذہنوں کی جنگ بن چکا ہے جہاں ایران اپنے ا?پ کو ایک نہ جھکنے والی قوت کے طور پر منوانے میں کامیاب نظر آتا ہے۔ عسکری حملوں نے ایران کو دفاعی طور پر شاید محتاط کر دیا ہو لیکن اس کے بیانیے کی بنیادیں پہلے سے زیادہ مستحکم ہو چکی ہیں۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here