فارم ورکرز کی تحریک کے شہرہ آفاق رہنما قیصر چاویز کے حوالے سے ہونے والے حالیہ انکشافات نے دنیا بھر کو حیرت زدہ کر دیا ہے۔ انا مرگویا ان تلخ یادوں کے حصار سے نکلنا چاہتی ہیں جو برسوں سے ان کے ذہن کو مفلوج کیے ہوئے ہیں۔ وہ لمحات ان کے لیے کسی بھیانک خواب سے کم نہ تھے جب یونائیٹڈ فارم ورکرز کے بانی اور لاطینو سول رائٹس تحریک کے معتبر نام قیصر چاویز نے انہیں اپنے گھر بلایا۔ اس وقت قیصر کی عمر 45 سال جبکہ انا محض 13 برس کی تھیں۔ انا جب ان کے کمرے میں داخل ہوئیں تو قیصر نے دروازہ بند کر کے ان کے ساتھ نازیبا حرکات شروع کر دیں۔ انا اس وقت اتنی سہمی ہوئی تھیں کہ ان میں مزاحمت کی ہمت نہ تھی اور وہ شاید یہ سمجھ رہی تھیں کہ قیصر انہیں کوئی خاص مقام دیں گے۔ اس موقع پر قیصر نے انہیں خاموش رہنے کی تاکید کی تاکہ دوسری لڑکیاں حسد نہ کریں۔اب 50 سال گزرنے کے بعد جب انا مرگویا کو معلوم ہوا کہ کیلیفورنیا کے شہر بیکرز فیلڈ میں ان کے گھر کے قریب ایک سڑک کا نام تبدیل کر کے قیصر چاویز کے نام پر رکھا جا رہا ہے تو ان کے زخم تازہ ہو گئے۔ مس انا مرگویا اور ایک دوسری خاتون ڈیبرا روہاز نے انکشاف کیا ہے کہ قیصر چاویز 1972 سے 1977 تک مسلسل ان کا جسمانی استحصال کرتا رہا۔ اس دور میں وہ دونوں کمسن لڑکیاں تھیں جبکہ قیصر ایک سحر انگیز شخصیت کے طور پر فارم ورکرز کے حقوق کا علمبردار مانا جاتا تھا۔ ان خواتین نے طویل عرصے تک خاموشی اختیار کیے رکھی مگر میڈیا کی وسیع تحقیقات اور دیگر خواتین کے الزامات سامنے آنے کے بعد انہوں نے اپنی زبان کھولی۔ واضح رہے کہ قیصر چاویز کا انتقال 1993 میں 66 سال کی عمر میں ہوا تھا۔ان الزامات کے منظر عام پر آتے ہی میکسیکن امریکن حلقوں اور متعلقہ تنظیموں میں شدید بے چینی پھیل گئی ہے اور بیشتر اداروں نے چاویز سے دوری اختیار کر لی ہے۔ یونائیٹڈ فارم ورکرز نے ان کے اعزاز میں منعقد ہونے والی سالانہ تقریبات موخر کر دی ہیں جبکہ ٹیکساس اور ایریزونا سمیت دیگر شہروں میں ہونے والے جلوس بھی منسوخ کر دیے گئے ہیں۔ امریکی ریاستوں کے حکام اب سڑکوں کے ناموں کی تبدیلی پر نظرثانی کر رہے ہیں۔ کیلیفورنیا کے گورنر گیوین نیوسم نے اس معاملے پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ قانون سازوں سے مشاورت کریں گے تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ آیا 31 مارچ کو قیصر چاویز کے نام سے منسوب تعطیل کو برقرار رکھا جائے یا اسے ختم کر دیا جائے۔مِس مرگویا اور مِس روہاز جو اب خود 66 برس کی ہیں دراصل قیصر چاویز کے قریبی ساتھیوں کی بیٹیاں ہیں۔ انا مرگویا کا کہنا ہے کہ وہ چاویز کو 8 سال کی عمر سے جانتی تھیں اور وہ اپنے دفتر کو ناجائز تعلقات کے لیے استعمال کرتا تھا۔ ان مظالم کی وجہ سے وہ اس قدر ذہنی دباؤ کا شکار رہیں کہ 15 سال کی عمر میں کئی بار خودکشی کی کوشش بھی کی۔ اسی طرح مِس روہاز نے بھی اپنے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کا ذکر کرتے ہوئے شدید رنج و غم کا اظہار کیا۔
تحقیقات سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ قیصر چاویز نے متعدد ملازمہ خواتین اور رضاکاروں کو اپنی ہوس کا نشانہ بنایا۔ ان کی ایک قریبی ساتھی ڈولیریس ہوہرتو نے بھی اعتراف کیا کہ 1966 کی ایک سرد رات کو چاویز انہیں زبردستی ایک سنسان انگور کے باغ میں لے گیا اور وہاں ان کی آبرو ریزی کی۔ انہوں نے اس وقت پولیس کو اس لیے اطلاع نہیں دی کیونکہ پولیس اہلکار خود ان کی تحریک کے مخالف تھے۔ بیشتر خواتین نے سماجی بدنامی کے ڈر سے خاموشی اختیار کی تاکہ لاطینی امریکہ کے اس شخص کا چہرہ مسخ نہ ہو جس کی تصاویر اسکولوں کی دیواروں پر آویزاں ہیں اور جس کے نام پر سرکاری تعطیل کی جاتی ہے۔











