جنت کے پھول !!!
خوش خلقی انسانی شخصیت کا وہ خوبصورت پہلو ہے جس کا بنیادی تقاضا اللہ کی مخلوق کے ساتھ خوش دلی اور خندہ پیشانی سے پیش آنا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو بولنے کی قوت کے ساتھ ساتھ خوش رہنے کی صلاحیت سے بھی نوازا ہے اور اس صلاحیت کا بہترین استعمال یہ ہے کہ دوسروں کے ساتھ میل جول میں حلاوت اور گفتگو میں شائستگی اختیار کی جائے۔ خاص طور پر وہ عورت جسے اللہ نے اولاد جیسی عظیم نعمت عطا کی ہے اس پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ نامناسب اور تکلیف دہ حالات میں بھی اپنے اعصاب پر قابو رکھے۔ اگر ایک ماں مشکل وقت میں بھی خود کو متحرک رکھتی ہے اور اپنے فرائض دلجمعی سے سرانجام دیتی ہے تو اس کا براہ راست مثبت اثر اس کی اولاد پر پڑتا ہے۔ حالات ہمیشہ یکساں نہیں رہتے بلکہ وقت کے ساتھ بدلتے رہتے ہیں لہذا ایک ماں کا جذباتی طور پر مضبوط ہونا اور حالات کو سنبھالنے کی اہلیت رکھنا بچوں کی شخصیت سازی میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ اس کے برعکس ہر وقت شکوہ و شکایت کرنے والی اور غصے میں رہنے والی ماں اپنے بچوں کو بھی بے چینی اور چڑچڑے پن کا شکار کر دیتی ہے۔
اس ضمن میں ایک ایسی خاتون کی مثال نہایت متاثر کن ہے جو سقوط ڈھاکہ کے بعد اپنے شوہر کے ہمراہ پاکستان منتقل ہوئیں۔ ان کے تمام عزیز و اقارب بنگلہ دیش میں رہ گئے تھے لیکن انہوں نے اس نئے ملک اور سسرالی رشتوں کو کمال ہمت سے اپنا لیا۔ انہوں نے نہ صرف اسکول میں تدریس کے شعبے سے وابستگی اختیار کی بلکہ گھر میں بھی ٹیوشن پڑھا کر اپنی قابلیت کا بھرپور استعمال کیا۔ انہوں نے کسی محرومی کا ذکر کرنے کے بجائے ہر ضرورت مند کی مدد کی اور اپنی بیٹیوں کی پرورش ایسے خطوط پر کی کہ وہ بھی زندگی کے سرد و گرم کا مقابلہ کرنے کے قابل بن گئیں۔ ان کی بڑی بیٹی جو شادی کے بعد ایک دور افتادہ جزیرے پر مقیم ہے وہ بھی اپنی ماں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے کسی شکوے کے بغیر اپنے شوہر کے ساتھ بھرپور جدوجہد کر رہی ہے۔ یہی وہ کامیابی ہے جو دلوں کا سکون برقرار رکھتی ہے کیونکہ ایک پرسکون ماں کے سائے میں پروان چڑھنے والے بچے بھی ذہنی سکون سے مالا مال ہوتے ہیں۔بچے اپنی ماں کی عادات اور رویوں کا گہرا اثر قبول کرتے ہیں اس لیے اگر کوئی ماں اپنی اولاد کی حقیقی خوشی چاہتی ہے تو اسے خود خوش رہنا اور صبر و شکر کا دامن تھامنا سیکھنا ہوگا۔ خود کو معذور یا مظلوم تصور کرنے کے بجائے محنت اور لگن کو اپنا شعار بنانا ایک بہترین نعمت ہے جو دنیا کو بہترین انسان عطا کرنے کا ذریعہ بنتی ہے۔ حالات کی تبدیلی انسان کے بس میں نہیں ہوتی لیکن اپنی تربیت اور رویوں پر انسان کو مکمل اختیار حاصل ہوتا ہے۔ ایک خوش خلق ماں نہ صرف اپنے بچوں بلکہ ان کے دوستوں اور رشتہ داروں میں بھی یکساں مقبول اور محترم ہوتی ہے۔ جب ایک ماں کو معاشرے میں عزت و محبت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے تو اس کی اولاد فخر محسوس کرتی ہے اور یہی فخر انہیں دوسروں کو عزت دینے اور ایک مضبوط خاندان تشکیل دینے کی ترغیب دیتا ہے۔ اولاد جنت کے پھولوں کی مانند ہے جس کی آبیاری کے لیے ماں کا ہر حال میں خوش رہنا اور دوسروں میں خوشیاں بانٹنا ناگزیر ہے۔
٭٭٭٭٭












