مثل مشہور ہے کہ دوسرے کے پھٹے میں پڑنے سے خود اپنا نقصان تو ہوتا ہی ہے جس کے معاملے میں ٹانگ اڑائی جاتی ہے وہ بھی دھوکہ دے جاتا ہے، کچھ یہی حالات حالیہ امریکہ، اسرائیل اور ایران محاذ آرائی میں صدر ٹرمپ اور امریکی ایڈ منسٹریشن کے حوالے سے نظر آتے ہیں ۔ اس جنگ کو ایران کیلئے چار دن کی مار سمجھا گیا تھا لیکن اب ایک ماہ ہو نے کو آگیا ہے اور ایران امریکہ کیلئے حلق کی ہڈی بن گیا ہے جو نہ اُگلتے بن رہی سے نہ نگلتے۔ کہاوت ہے کہ لوہے کے چنے چبانا آسان نہیں ، کچھ یہی حالت اس وقت امریکہ بہادر اور صہیونی اسرائیل کی نظر آرہی ہے ۔ گریٹر اسرائیل اور امریکی وزیر جنگ کے گریٹر نارتھ امریکہ کے دعوے چکنا چور ہو رہے ہیں۔ صورتحال اس حد کو پہنچ چکی ہے کہ عالمی سطح تو در کنار امریکہ میں پرائی جنگ میں کودنے کے خلاف ”نوکنگ ” کی تحریک شروع ہے ۔ گذشتہ ہفتے لاکھوں کی تعداد میں اس جنگ کے خلاف مظاہرے حتیٰ کہ یہودی نژاد ڈیموکریٹ رہنما برنی سینڈر کی قیادت میں تین ملین لوگوں کا احتجاج اس سچائی کا مظہر ہے کہ عوام ٹرمپ کی رنگ بدلتی پالیسیوں، دھمکیوں اور اقدامات کے سبب ہونے والے اثرات و نقصانات سے نہ صرف متنفر ہیں بلکہ ٹرمپ سے جان چھڑانا چاہتے ہیں۔
حقیقت تو یہ بھی ہے کہ ترنوالا سمجھے جانے والے ایران نے اپنے مضبوط ، قومیتی اور تاریخی کردار کے تناظر میں نہ صرف اپنی بقاء کو قائم رکھا ہے بلکہ امریکہ و اسرائیل کی بدترین جارحیت ، قتال و تباہی کے باوجود وہ ردعمل دیا ہے جو ان دشمن طاقتوں ہی نہیں ساری دنیا کے سامنے استقلال ، جرأت اور متحد قوم کی روشن مثال ہے نیز امریکہ جیسی سپر طاقت کو مذاکرات پر مجبور کر دیا ہے۔ یہ الگ بات کہ مسلم اُمہ کو صفحہ ہستی سے مٹانے والا نیتن یاہو اپنے ایجنڈے کی تکمیل اور صیہونیت کے ناطے اسپائلر کے کردار سے باز نہیں آرہا ہے کہ اس کا واضح مقصد گریٹر اسرائیل ہے اور اس کیلئے مسلم ممالک کے درمیان تقسیم اس کا بنیادی مشن ہے ۔ ایک جانب ٹرمپ مذاکرات کا ڈرامہ کر رہا ہے تو دوسری طرف واشنگٹن پوسٹ کے مطابق پینٹاگون گرائونڈ فورس بھیجنے کی تیاریاں کر رہا ہے۔ یوں تو قارئین ہر پل کی خبروں سے آگاہ ہیں تاہم ٹرمپ کی غیر متوقع فطرت اور نیتن یاہو سے وفاداری کے ناطے پاکستان، ترکیہ، مصر و سعودی کی کوششو ںاور سہولت کاری نیز چین کی در پردہ سپورٹ کے باوجود مذاکرات کی بیل منڈھتے چڑھتی نظر نہیں آرہی ہے ۔ پاکستان دشمنی میں بھارت بھی ایک حوالے سے شیطنیت پر اترا ہوا ہے ۔ بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر کا پاکستان کو دلال قرار دینا اور خود اپنے ملک اور دنیا کے دیگر ممالک سے ذلیل ہونا اور پاکستانی سیکورٹی کی ڈی کوڈنگ کے بعد پاکستان کے بھارت میں قید قیدیوں کو رہا کر کے مقبوضہ کشمیر میں فالس فلیگ آپریشن کی سازش اس امر کی شہادت ہے کہ پاکستان جو اس وقت دنیا بھر میں اہم مقام و کردار کا حامل ہے۔ اسرائیلی ایجنڈے کے اتباع میں مطعون کرنے کے ساتھ اپنی دشمنی نکالی جائے اور مئی 2025 میں ہونے والی ذلت و رسوائی کا کچھ ازالہ کیا جائے ۔
الحمد اللہ پاکستان کو بھارت کا منہ کالا کرنے کے بعد جو عسکری ، سفارتی و قائدانہ عزت ملی ہے اس پر پاکستانیوں سمیت مسلم امہ کو تو فخر ہے ہی عالمی قوتیں بھی احترام و وقعت کا درجہ دیتی ہیں ۔ حالیہ بحران کے خاتمے کیلئے تعاون، سہولتکاری اور میزبانی کا اعزاز بڑی اہمیت ہے تاہم ا سرائیل و بھارت کی سازشوں اور کمینہ فطرت کے پیش نظر کہ وہ اسپائیلر کا کردار ادا کریں ہمارے خدشات ہیں۔ وقت کا تقاضہ ہے کہ عالمی اُفق پر وطن عزیز کی عزت و سیادت کے ساتھ اندرون وطن بھی حالات امن و محبت، اتحاد و سکون اور یکجہتی کا مظہر ہوں۔ فروعی معاملات پرمسائل و محرکات قومی یکجہتی کو متاثر کرنے کا سبب بن سکتے ہیں۔ وزیرا علیٰ پنجاب کی نسیم شاہ کی پوسٹ پر ناراضگی مناسب نہیں وہ ان کی اولاد کی طرح ہے اور بچوں کی غلطیوں کو نظر انداز کیا جاتا ہے ۔ اسی طرح سیاسی، ریاستی، عسکری و دیگر سطحوں پر یگانگت و اتحاد ملک و قوم کی عظمت و خوشحالی کی ضمانت اور دشمن قوتوں کی ناکامی کی کنجی ہے۔
جہاں تک امریکہ و ایران کے درمیان مذاکرات اور پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ و مصر کی سہولت کاری میزبانی اور مثبت و راست اقدامات نیز چین و دیگر کا تعاون کا تعلق ہے امید ہے کہ عالمی امن کی کوششیں بار آور ثابت ہوں گی، بقول شخصے یہی نیت صاف منزل آسان کا راستہ ہے۔
٭٭٭٭٭٭














