رشتوں کی ناکامی اور شادی کے مسائل!!!

0
4
سید کاظم رضوی
سید کاظم رضوی

رشتوں کی ناکامی اور خانگی زندگی میں بڑھتے ہوئے بگاڑ نے عصرِ حاضر کے والدین اور نوجوانوں کو ایک اہم فکری موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔ دورِ جدید میں جہاں نوجوان نسل نے تعلیم اور ہنر کے میدان میں نمایاں ترقی کی ہے، وہیں مسلم معاشرے میں طلاق کی بڑھتی ہوئی شرح اور گھریلو ناچاقیوں کے انبار نے کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ اس صورتحال میں سحر نامی خاتون کے مشاہدات نے سکے کے اس رخ کو نمایاں کیا ہے جسے عام طور پر نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بدلتے ہوئے سماجی تقاضوں کے ساتھ اگر ہم نے اپنی سوچ اور رویوں کو نہ بدلا تو تباہی سے بچنا ممکن نہ ہوگا۔نوجوان نسل کو شادی کے متعلق جو سبق پڑھایا جا رہا ہے وہ نہ صرف ادھورا ہے بلکہ کئی حوالوں سے گمراہ کن بھی ہے۔ بدقسمتی سے شادی کے تصور کو محض جنسی تعلقات کے قیام تک محدود کر دیا گیا ہے جبکہ اس کے ساتھ جڑی سماجی اور اخلاقی ذمہ داریوں سے انہیں مکمل طور پر لاعلم رکھا جاتا ہے۔ اس کی ایک واضح مثال بیس سالہ نوجوانوں کا وہ رجحان ہے جو یونیورسٹی کے پہلے سمسٹر میں ہوتے ہوئے اور معاشی طور پر غیر مستحکم ہونے کے باوجود محض گناہ سے بچنے کی دلیل دے کر نکاح کے خواہشمند ہوتے ہیں۔ یہ امر حیرت انگیز ہے کہ جس عمر میں انسان کو اپنی تعلیم اور مستقبل کی فکر ہونی چاہیے، وہاں وہ اپنی جنسی خواہشات پر قابو پانے کی ہمت نہیں رکھتا۔ نکاح کے اصل مفہوم اور قوام کی بھاری ذمہ داری سے ناآشنا یہ نسل محض جسمانی تسکین کی خاطر اپنی اور دوسروں کی زندگی برباد کرنے نکل پڑتی ہے۔جب ایک مرد مہر ادا کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا، معاشی طور پر خود کفیل نہیں ہے اور اپنے اخراجات کے لیے والدین کا دستِ نگر ہے، تو وہ اپنی شریکِ حیات کے حقوق کیسے پورے کرے گا؟ ایسی صورت میں بیوی کا خرچ بھی والدین سے ہی لیا جاتا ہے جس کے نتیجے میں وہ عورت اپنی عزتِ نفس کا سودا کرنے پر مجبور ہو جاتی ہے۔ جسمانی کشش کا جادو تو وقت کے ساتھ ختم ہو جاتا ہے لیکن اصل امتحان اس وقت شروع ہوتا ہے جب اولاد کی صورت میں مزید اخراجات سر پر آتے ہیں۔ کسی کے ٹکڑوں پر پلنے والی نسل اور اس کے اخراجات کا حساب کتاب ہی وہ بنیاد ہے جہاں سے معاشی تنگی اور خانگی جھگڑے جنم لیتے ہیں۔ والدین اپنے خرچ کے بدلے بہو پر رعب جماتے ہیں اور اسے طعنوں کا نشانہ بناتے ہیں، جبکہ کم عمر لڑکے ان پیچیدہ مسائل کو سنبھالنے کی بجائے فرار کی راہ اختیار کر لیتے ہیں۔جو مرد اپنی بیوی کے لیے محافظ اور سہارا ثابت نہیں ہو پاتے اور معمولی چپقلش پر ظلم یا ذمہ داریوں سے بیزاری کا اظہار کرتے ہیں، وہ دراصل ذہنی ناپختگی کا شکار ہوتے ہیں۔ شادی کوئی پریوں کی کہانی نہیں بلکہ ایک مستحکم خاندان کی بنیاد ہے جس کے لیے معاشی اور ذہنی پختگی بنیادی شرط ہے۔ جو نوجوان اپنی خواہشات پر قابو نہیں پا سکتا، وہ زندگی کے کٹھن چیلنجز کا سامنا کیسے کرے گا؟ لہذا یہ ضروری ہے کہ اس ادھورے سبق کو ترک کر کے پہلے تعلیم مکمل کی جائے اور معاشی طور پر مضبوط ہوا جائے۔ ان لایعنی باتوں پر کان دھرنا چھوڑ دیں کہ شادی کے بعد سب کچھ خود بخود ٹھیک ہو جائے گا، کیونکہ مسائل کبھی خود حل نہیں ہوتے بلکہ انہیں حل کرنے کے لیے پختہ سوچ کی ضرورت ہوتی ہے۔شادیوں میں ناکامی اور تشدد کی ایک بڑی وجہ یہی ادھورے نظریات ہیں۔ دعا ہے کہ ہر شادی شدہ جوڑا عزت و وقار کے ساتھ زندگی بسر کرے اور اپنے جیون ساتھی کے حقوق کا پاسبان بنے۔ موجودہ دور کا تقاضا ہے کہ جوڑے سنجیدگی کے ساتھ جوائنٹ فیملی سسٹم کے مسائل، معاشی بوجھ اور مستقبل کی منصوبہ بندی پر کھل کر بات کریں۔ محض جنسی تسکین اور ایسی نسل کی پیدائش جس کا مستقبل غیر یقینی ہو، کسی طور معاشرے کے لیے فائدہ مند نہیں ہو سکتی۔ والدین اور بزرگوں کو بھی چاہیے کہ وہ نئی نسل کو صرف نکاح کے بندھن میں نہ باندھیں بلکہ انہیں زندگی کی کٹھن راہوں پر چلنے کا ہنر اور حوصلہ بھی سکھائیں۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here