فیضانِ غوثِ اعظم
کی دینی وضاحت!!!
اللہ تبارک و تعالیٰ کی اطاعت و فرمانبرداری کا حقیقی مفہوم تمام نیکیوں کو اپنی ذات کا حصہ بنا لینا ہے۔ قرآن مجید کی متعدد آیاتِ مبارکات میں انسانیت کو اسی راستے کی ترغیب دی گئی ہے اور انبیائ کرام علیہم السلام کی بعثت کا بنیادی مقصد بھی یہی رہا ہے کہ انسان کو نفس کی تاریکیوں سے نکال کر معرفتِ الٰہی کی روشنیوں سے روشناس کرایا جائے۔ اس کا ثمر وہ ابدی جنت ہے جس کی رعنائیوں کا تصور کسی انسانی دل میں نہیں گزرا اور نہ ہی کسی آنکھ نے اس کا مشاہدہ کیا ہے۔ کائنات کی تخلیق کا مقصد عبث نہیں بلکہ جزا و سزا کا ایک مربوط نظام ہے جہاں نیکوکاروں کو ان کے عمل کا اجر اور بروں کو ان کی برائی کی سزا دی جائیگی۔خالقِ کائنات انسانی عبادت سے مکمل طور پر بے نیاز ہے اور کسی کی نافرمانی سے اس کی کبریائی میں کوئی نقص واقع نہیں ہوتا۔ اگر تمام مخلوق عبادت ترک کر دے تب بھی اس کی بارگاہ میں ایسے فرشتے موجود ہیں جو تھکن سے ناآشنا ہو کر تسبیح و تقدیس میں مصروف رہتے ہیں۔ یہاں یہ نکتہ اہم ہے کہ نیکی کا فائدہ اور گناہ کا وبال خود انسان کی اپنی ذات پر ہوتا ہے۔ انسانی رویوں کا تضاد دیکھیے کہ اگر وہ معمولی قیمت پر کوئی غلام خریدتا ہے تو اس کی ذرا سی خطا پر برہم ہو کر اسے رزق سے محروم کر دیتا ہے یا فروخت کر دیتا ہے، لیکن انسان اس مالکِ حقیقی کی نافرمانی میں اس قدر آگے بڑھ جاتا ہے کہ اس کے گناہ بارش کے قطروں سے بھی تجاوز کر جاتے ہیں مگر وہ ربِ کریم اپنی نعمتوں اور رحمتوں کے دروازے کبھی بند نہیں کرتا۔وہ قادرِ مطلق ہے کہ ایک گناہ پر گرفت فرما لے لیکن وہ انسان کو مہلت دیتا ہے تاکہ وہ توبہ کے ذریعے اپنے عیوب کو ڈھانپ لے۔ ایک دانشمند شخص وہی ہے جو توبہ و استغفار کے ذریعے اپنے خالق سے رجوع کرے اور اس کی رحمت سے کبھی ناامید نہ ہو۔ جب بندہ اس مقام پر پہنچتا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کے مقرب بندوں میں شامل ہو جاتا ہے اور اس کے دل میں دیدارِ الٰہی کی تڑپ پیدا ہو جاتی ہے۔ حضرت کتب رضی اللہ عنہ کی روایت کے مطابق تورات میں درج ہے کہ پروردگار ان نیکوکاروں کی ملاقات کا مشتاق ہے جو اس کی دید کی تمنا رکھتے ہیں۔ حضرت ابوالدردائ رضی اللہ عنہ نے بھی اس امر کی تصدیق فرمائی کہ انہوں نے یہی پیغام حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبانِ مبارک سے سماعت فرمایا۔
سیدنا داؤد علیہ السلام کی طرف ہونے والی وحی الٰہی بھی اسی محبت اور یگانگت کی گواہی دیتی ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کا دوست ہے جو اسے دوست رکھتے ہیں اور وہ ان کی التجا کو شرفِ قبولیت عطا فرماتا ہے جنہوں نے دنیا کے دھوکے کو ترک کر کے معرفت کی طلب اختیار کی۔ صلحائ اور صدیقین کے بارے میں الہامی پیغام یہی ہے کہ جو ان کے نقشِ قدم پر چلے گا وہ محبوبِ الٰہی ٹھہرے گا۔ ایسے نفوسِ قدسیہ کی نشانی یہ ہے کہ وہ دن کے وقت رب کی یاد میں ایسے بے قرار رہتے ہیں جیسے کوئی چرواہا اپنی بکریوں کے لیے فکر مند رہتا ہے۔ جب رات کی تاریکی چھا جاتی ہے اور دنیا خوابِ خرگوش کے مزے لیتی ہے، تب یہ برگزیدہ بندے بستروں کو تیاگ کر اپنے مالک کے حضور قیام و سجود میں مشغول ہو جاتے ہیں۔ ان کی راتیں گریہ زاری، تلاوتِ کلام اور شوقِ دیدار میں بسر ہوتی ہیں۔ دعا ہے کہ باری تعالیٰ ہمیں بھی ان صادقین کے فیض سے مالا مال فرمائے۔










