” لا اکراہ ”کتاب کا تنقیدی جائزہ اور تجزیہ!!!

0
7
عامر بیگ

یہ کالم آٹھ سال قبل نیویارک کے ممتاز کالم نگار جناب واصف حسین واصف کی کتاب لا اکراہ کے مطالعے اور مصنف کی فرمائش پر لکھا گیا تھا۔ اس عہد میں حلقہ ارباب ذوق نیویارک کے زیر اہتمام کتاب کی تقریب رونمائی پر پیدا ہونے والی بحث ایک الگ موضوع ہے جس پر پھر کبھی بات ہوگی۔ فی الوقت اس کتاب کی ایک بڑی تعداد میرے پاس موجود ہے جو شائقین مطالعہ کو صرف ڈاک کے اخراجات کی ادائیگی پر فراہم کی جا سکتی ہے کیونکہ یہ کتاب سنجیدہ مطالعے کا تقاضا کرتی ہے۔واصف حسین واصف کی تصنیف لا اکراہ اس پیغام کے ساتھ موصول ہوئی کہ اسے پڑھ کر اس پر اظہار خیال کیا جائے۔ اگرچہ حکم کی مکمل تعمیل ایک کٹھن مرحلہ ہے تاہم لکھنے کے شوق کو مہمیز دیتے ہوئے اس پر بات کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ یہ کتاب بلاشبہ ایک سنجیدہ محقق کی طویل ریاضت اور عمیق مطالعے کا نچوڑ ہے۔ ایک عام قاری کے طور پر یہ احساس ہوتا ہے کہ جہاں مصنف نے مروجہ انداز فکر سے ہٹ کر مختلف رائے قائم کی ہے وہاں اگر مستند حوالہ جات شامل ہوتے تو تحریر مزید معتبر ہو جاتی۔ اگرچہ کتاب کو طوالت سے بچانے کے لیے حواشی سے گریز کیا گیا ہے لیکن مطالعے کے دوران اس تشنگی کا احساس بارہا ہوتا رہا۔مصنف نے اسلامی تشخص پر جمی برسوں کی گرد کو جس جرات اور منطق سے جھاڑنے کی کوشش کی ہے وہ لائق تحسین ہے۔ اس کاوش کی کامیابی کا دارومدار قاری کے علمی ذوق اور دلیل کو قبول کرنے کے حوصلے پر ہے۔ کتاب میں ایسے چونکا دینے والے انکشافات موجود ہیں کہ انسان خود کو گویا سر بازار بے نقاب محسوس کرتا ہے۔ کئی سچائیاں ایسی ہیں جن سے نظریں ملانا دشوار ہے اور کچھ حقائق دیسی معاشرے میں ہضم کرنا آسان نہیں۔ مصنف نے ان بدعات اور سماجی رویوں کی نشاندہی نہایت بے باکی سے کی ہے جو اس قدر جڑیں پکڑ چکے ہیں کہ ان سے معمولی انحراف بھی معاشرتی بے چینی کا باعث بن سکتا ہے۔یہ کتاب مصنف کے علمی مقام کو نئے زاویے سے متعین کرے گی کیونکہ انہوں نے فکر کے کئی نئے در وا کیے ہیں۔ ان خیالات کی درستی کا فیصلہ وقت ہی کرے گا لیکن بعض مقامات پر قاری کی کم علمی اسے خوفزدہ بھی کرتی ہے کہ کہیں کوئی بات شدید ردعمل کا باعث نہ بنے۔ تاہم مصنف نے کمال مہارت سے مختصر مگر ٹھوس وضاحتیں پیش کر کے قاری کو قائل کرنے کی کوشش کی ہے۔ تحریر کے کچھ حصوں میں غصہ اور تندی ہے تو کہیں گہرائی اور درویشانہ انداز نمایاں ہوتا ہے گویا ایک ہی قلم کبھی تیز دھار تلوار بن جاتا ہے اور کبھی علم و حکمت کا منبع۔مصنف نے بیک وقت کئی حساس موضوعات کو چھیڑا ہے جس سے یہ خدشہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسے خیالات کو ہر معاشرہ آسانی سے قبول نہیں کرتا۔ اگر ان افکار کو وسیع سطح پر درست طریقے سے نہ سمجھا گیا تو ردعمل شدید ہو سکتا ہے۔ آج کے دور میں مطالعے کا رجحان کم ہو چکا ہے اس لیے یہ سوال بھی اہم ہے کہ کتنے لوگ اس کے مندرجات کی روح تک پہنچ پائیں گے۔ اگر یہ تحریر کسی سطحی فہم رکھنے والے طبقے تک غلط انداز میں پہنچی تو نتائج پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔ مصنف نے جن طبقات پر تنقید کی ہے وہ اگر خود کو اس آئینے میں دیکھ لیں تو شاید اپنی صورت برداشت نہ کر سکیں۔ بعض مقامات پر انہی طبقات کے حوالے سے ایسے لطیف اشارے بھی ہیں جو لبوں پر مسکراہٹ بکھیر دیتے ہیں۔
کتاب میں مشرق و مغرب کا تقابلی جائزہ نہایت مدلل انداز میں پیش کیا گیا ہے جس سے اختلاف کی گنجائش کم رہ جاتی ہے۔ یہ کتاب ہر اس شخص کے لیے مفید ہے جو مذہبی اور معاشرتی تعصب کی عینک اتار کر سچائی کی تلاش میں ہو۔ نئی نسل کو اس کا مطالعہ خاص طور پر کرنا چاہیے کیونکہ وہ ابھی تعصبات سے پاک اور کھلے ذہن کے ساتھ سوچنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ کتاب کے مندرجات کی سنگینی کا اندازہ اس اقتباس سے لگایا جا سکتا ہے جہاں مصنف صفحہ 3 پر لکھتے ہیں کہ پاکستان میں مسلمانوں کی اخلاقیات کے بارے میں ایک سروے کے مطابق 97 فیصد لوگ جھوٹ بولتے ہیں 93 فیصد کم تولتے ہیں 74 فیصد ناجائز ذرائع سے پیسہ کماتے ہیں اور 91 فیصد عورت کو جائیداد سمجھتے ہیں۔ اسی طرح 87 فیصد دھوکہ دہی کو برا نہیں سمجھتے 88 فیصد انتہا پسند ہیں اور جبر پر یقین رکھتے ہیں۔ مزید برآں 72 فیصد عورت پر تشدد کو جائز سمجھتے ہیں 44 فیصد بچے مدارس میں بدفعلی کا شکار ہوتے ہیں اور 23 فیصد ناجائز جنسی تعلقات رکھتے ہیں جبکہ 17 فیصد لڑکیاں باکرہ نہیں۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here