ایوارڈ کی تعریف یہ ہے جو آپ کے کسی کارنامے پر یا تاریخی کام ریفارمز کھیلوں میں اعلیٰ کارکردگی سرحدوں پر حفاظت کرنے پر کسی کی جان بچانے پر ادب میں اعلیٰ خدمات پر سفارتی کامیابی پر صحافتی دیانتداری پر تعلیمی خدمات پر دینی خدمات پر انٹر فیتھ خدمات سیاسی خدمات زندگی کے کسی شعبے میں ایسی کارکردگی پر جو پہلے شاندار ہو اس کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے جو انعام دیا جاتا ہے اس کو ایوارڈ کہتے ہیں لیکن پاکستان میں اس کا معیار کیا ہے سمجھ سے بالاتر ہے ناموار دانشور نسیم حجازی نے سفید جزیرہ کے عنوان سے کتاب انہوں نے کئی اور شاندار کتابیں بھی لکھیں لیکن کتاب سفید جزیرہ میں انہوں نے سکندر مرزا کے دور کی صورت کچھ یوں بیان کی لکھتے ہیں کہ پنڈت جواہر لال نہرو نے بیان دیاکہ وہ اتنے پاجامے نہیں بدلتے جتنے پاکستانی حکومت اپنے وزیر بدلتی ہے۔نسیم حجازی ایک جزیرے کا منظر پیش کرتے ہیں۔جس میں بادشاہ نے یہ شرط رکھی کہ جو بھی سب سے زیادہ جوتے کھائے گا اس کو وزیر بنا لوں گا بڑی حیران کن شرط تھی لیکن اس بڑھ کر ایسا ہوا کئی وزارتی امیدوار آگے بڑھے انہوں نے کہا کہ عالم پناہ آپ جوتوں کے نیچے کیل لگا کر ہمیں ماریں لیکن وزیر بنا لیں موجودہ پاکستان میں یہی صورتحال ہے سترہ سیٹوں والے لوگوں کو فیلڈ مارشل نے اس شرط پر حکومت بنا دی کہ جوتے کھائو اور پالش کرو سکندر مرزا کے دور کی شرائط کو بدل کرکے تبدیلی کے ساتھ جوتے کھانے کے ساتھ ساتھ جوتے پالش بھی شامل ہے۔موجودہ سیاسی حکومت جس طرح جوتے پالش کرنے میں مصروف ہے۔ سب کے سامنے ہے موجودہ سیاسی حکومت ناکام کارکردگی پر جوتے پالش کرنے کے ساتھ ساتھ جوتے کھا بھی رہی ہے۔23 مارچ یوم پاکستان گزرا ہے اس موقع پر تمغہ حسن کارکردگی دیا جاتا جس طرح راقم الحروف نے پہلے عرض کیا بہترین کارکردگی وہ کسی بھی شعبے میں ہو۔ اس پر تمغہ حسن کارکردگی دیا جاتا ہے جس کو صدارتی ایوا رڈ بھی کہتے ہیں۔تمغہ کے ساتھ لاکھوں روپے بھی دیے جاتے شرط یہ ہے ایسا کارنامہ کیا ہو جو کمیونٹی کی بہتری کیلئے ملک کی بہتری کے لئے صحت کے شعبے میں تعلیم کے شعبے سیاسی شعبے میں فوج میں پولیس صحافت میں لیکن یہاں پہیہ الٹا چل رہا ہے۔ جو بندہ بھی سیاسی رہنمائوں اور اسٹیبلشمنٹ کے جوتے زیادہ پالش کرتا ہے یا جوتے یعنی جھڑکیاں زیادہ کھاتا ہے اس کو ایوارڈ دیا جاتا ہے۔ اگر پچاس ایوارڈ دیئے گئے ہیں تو صرف پانچ لوگ ایسے ہیں جو مستحق ہیں چند اورسیز پاکستانیوں کو بھی صدارتی تمغہ حسن کارکردگی سے نوازا گیا ہے اس میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو امریکی عدالتوں میں مقدمات میں ملوث ہیں ان کی کوئی خدمت نہیں تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود جہالت کی کارکردگی ہے صرف جوتے پالش کئے اور سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ ثابت کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ یہاں واشنگٹن میں کئی تنظمیںہیں ان کے جعلی فیک رہنما جو فیس بک پر ایک ایونٹ کی دس دس دفعہ پوسٹیں جاری کرکے لیڈر بننے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کے تقاریب میں اگر پچاس لوگ آجائیں تو 49 کو ایوارڈ دیتے ہیں اور سب کو تقریر کا موقع دیتے ہیں اگر کبھی انڈین ایمبسی کے سامنے کشمیر کے لئے احتجاج کرنا ہو تو ان کے پاس دس سے پندرہ لوگوں کے علاوہ کوئی نہیں ہوتا۔ ایک اور پاکستانی امریکن جو اپنی تنظیم کے زیراہتمام امن کا پرچار کرتے ہیں۔ انہوں نے آدھے پاکستانی آبادی کو امن کے سفیر کے ایوارڈ سے نواز دیا ہے۔ یہ مختصر سی گزارش کا مقصد یہ ہے اس کی طرح کے ایوارڈ جو بغیر کارکردگی کے صرف جوتے پالش کرتے خوشامد کرنے پر ملیں یہ ایوارڈ کی بے حرمتی ہے نہ صرف ایوارڈز کو بے وقت کیا جارہا ہے اس کے ساتھ ساتھ نئی پاکستانی نسل اور اورسیز پاکستانی تمغوں کا تمسخر اڑاتے ہیں اوورسیز پاکستانیوں کا موقف یہ ہے کہ بجائے عدالتوں بے روزگاری لاء آرڈر ہے۔ صحافت کھیل تعلیم صحت کاروبار اور انسانی حقوق پر توجہ دینے کی بجائے جعلی فیک لوگوں کو جھوٹی اور خوشامدی کارکردگی دینے پر ایوارڈ کی ویلیو ختم ہو رہی ہے، یہ سراسر صدارتی ایوارڈ کی بے حرمتی ہے۔
٭٭٭٭٭














