عمارت کے صدر دروازے پر ان کی ایک فارسی رباعی تحریر ہے جس میں وہ فرماتے ہیں کہ
باز آ، باز آ، ہر آنچہ ہستی باز آ
گر کافر و گبر و بت پرستی، باز آ
این درگہ ما درگہ نومیدی نیست
صد بار اگر توبہ شکستی باز آ
اس کا اردو مفہوم یہ ہے کہ واپس آجا، تو جو کوئی بھی ہے واپس آجا، اگر تو کافر، مشرک یا بت پرست بھی ہے تو واپس آجا کیونکہ ہماری یہ درگاہ ناامیدی کی جگہ نہیں ہے اور اگر تو سو بار بھی توبہ توڑ چکا ہے تب بھی واپس لوٹ آ۔ مولانا رومی اپنے دور کے اکابر علمائ میں شمار ہوتے تھے اور فقہ و مذہب کے بہت بڑے عالم تھے لیکن ان کی شہرت ایک صوفی شاعر کے طور پر زیادہ ہوئی۔ دیگر علوم میں بھی انہیں مکمل دسترس حاصل تھی اور دورانِ طالب علمی ہی پیچیدہ مسائل میں علمائے وقت مولانا کی طرف رجوع کیا کرتے تھے۔ شمس تبریز مولانا کے پیر و مرشد تھے جن کی صحبت میں رہ کر انہوں نے لوگوں کی اصلاح کے لیے شاعری کے ساتھ ساتھ سبق آموز حکایات بھی قلمبند کیں۔آپ نے ایک عابد شخص کا واقعہ تحریر کیا ہے کہ ایک بوڑھا عابد نہایت شب زندہ دار تھا جو پوری رات عبادت میں مصروف رہتا تھا مگر صبح اٹھتے ہی لوگوں پر کڑوے کسیلے جملے کستا تھا کہ وہ ساری رات سوتے رہتے ہیں۔ وہ اپنی عبادت پر غرور کرتا اور بڑے فخر سے کہتا کہ درویش تو ماشائ اللہ 40 سال سے شب زندہ دار ہے اور اسی پندار میں وہ اپنے خدا سے تعلق کے معاملے میں نفس کے دھوکے کا شکار ہو گیا۔ روحانی سفر میں اتنے خطرات باہر سے نہیں ہوتے جتنے انسان کے اندر سے پیدا ہوتے ہیں کیونکہ یہ بہت نازک مرحلہ ہوتا ہے جہاں نفس یہ گمان پیدا کر دیتا ہے کہ انسان بہت بڑی شے بن گیا ہے اور اس جیسا عبادت گزار کوئی دوسرا نہیں۔ اسی ذہنی کیفیت کے دوران ایک شب ان کے دل میں یہ بات آئی کہ ان کی ایک بھی عبادت قبول نہیں ہوئی جس پر وہ صبح اٹھ کر زار و قطار رونے لگے اور کسی سے بات کرنا چھوڑ دی۔اسی دوران جب ان کے ایک بے تکلف دوست نے رونے کی وجہ پوچھی تو انہوں نے بتایا کہ ان کی 40 سالہ عبادت منہ پر مار دی گئی ہے اور وہ سب نامنظور ہو چکی ہے اس لیے ان کے پاس رونے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ اس پر دوست نے عجیب بات کہی کہ جب عبادت کی کوئی قیمت نہیں پڑی تو اسے چھوڑ کر دنیاوی مزے کیوں نہیں کرتے جس پر عابد تڑپ اٹھے اور فارسی اشعار کی صورت میں اپنے جذبات کا اظہار کیا کہ!
توانی اذنِ دل بہ پر داختن
تو دانی کہ بیاؤ تما ساختن
ان کا موقف تھا کہ وہ محبوب ہی ایسا ہے جسے چھوڑا نہیں جا سکتا خواہ وہ قبول کرے یا نہ کرے یا وہ ناراض ہو یا خوش، کیونکہ اس کے آستانے پر سجدہ کرنے والوں اور آنسو بہانے والوں کی کوئی کمی نہیں ہے اور کائنات کا ذرہ ذرہ اس کی حمد و ثنا میں مصروف ہے مگر ان کے لیے اس در کے سوا کوئی دوسرا در موجود نہیں۔!
تنگ دستی کے ہاتھوں سے جو میں گھبراتا ہوں
پر درِ غیر پہ جاتے ہوئے شرماتا ہوں
ہاتھ پھیلانے میں محتاج کو غیرت کیسی
شرم اتنی ہے کہ بندہ تیرا کہلاتا ہوں
اس لیے وہ سجدے کی حالت میں پڑے رہے اور پورا دن روتے ہوئے گزار دیا۔ اسی گریہ و زاری کے بعد جب وہ دوبارہ سجدہ ریز ہوئے تو غیب سے آواز آئی کہ
قبول است گرچہ ہنر نیست
کہ جز ما پناہِ دگر نیست
انہیں بتایا گیا کہ ان کا یہ سجدہ اور گزشتہ 40 سالہ تمام عبادات قبول کر لی گئی ہیں کیونکہ جب خالق نے بندے کے منہ سے یہ سنا کہ اس کے سوا اس کا کوئی ٹھکانہ نہیں تو رحمت الٰہی جوش میں آگئی۔ حقیقت یہی ہے کہ اگر گناہ گار سو بار بھی توبہ توڑ دے تب بھی اسے گھبرانے کی ضرورت نہیں بلکہ اسے صرف ایک بار ندامت کے آنسو بہا کر طلب کا دامن پھیلانے کی ضرورت ہے کیونکہ بندے کے آنے میں تو دیر ہو سکتی ہے مگر خالق کے راضی ہونے میں دیر نہیں لگتی۔










