جنگ عظیم دوم کے بعد اس دنیا میں متعدد جنگیں لڑی گئیں لیکن ان تمام تنازعات کے متاثرین کرہ ارض کے مخصوص حصوں تک ہی محدود رہے۔ بڑی طاقتوں کی باہمی کشیدگی کو دہائیوں تک صرف سرد جنگ کے نام سے پکارا جاتا رہا۔ اس دوران ویت نام، کوریا، خلیج، افغانستان، لیبیا، شام اور یوکرین جیسی جنگیں بھی وقوع پذیر ہوئیں جن میں عالمی قوتیں براہ راست یا بالواسطہ ملوث رہیں مگر ان کے اثرات عالمی سطح پر ہمہ گیر ثابت نہ ہو سکے۔ افریقہ کے مختلف خطوں میں ہونے والی ہولناک نسل کشیاں تو موجودہ عالمی نظام کی جنبش لب کا باعث بھی نہ بن سکیں جبکہ عام ممالک کی باہمی لڑائیاں عالمی منظر نامے پر کسی جھیل میں پتھر پھینکنے سے پیدا ہونے والے معمولی ارتعاش سے زیادہ اہمیت حاصل نہ کر سکیں۔ اقوام عالم کی بے حسی اس وقت اپنے عروج پر پہنچی جب امریکہ اور اسرائیل نے غزہ کی ایک چھوٹی سی پٹی میں محصور فلسطینیوں پر دن رات بمباری کر کے معصوم بچوں اور خواتین سمیت ہزاروں بے گناہ افراد کو شہید اور لاکھوں نہتے انسانوں کو زخمی کر دیا۔ عالمی ضمیر نے صرف اپنے مادی مفادات کی خاطر اس سفاکیت کو نظر انداز کیا اور بین الاقوامی نظام معمول کے مطابق چلتا رہا جس پر جاں نثار اختر کا یہ تبصرہ نہایت برمحل معلوم ہوتا ہے کہ!
وہ ذوق ہوسِ ملکیت آفریں
وہ ٹکڑوں میں تقسیم ہوتی زمیں
گراں بار طبقے ابھرتے ہوئے
زمیں پر وہ صدمے گزرتے ہوئے
زمانے کے دامن میں پلتے تضاد
وہ سوتے میں کروٹ بد لتے فساد
فضا زہر آمیز ہوتی ہوئی
زمیں فتنہ انگیز ہوتی ہوئی
عالمی برادری کی اسی مجرمانہ خاموشی نے امریکہ اور اسرائیل کے حوصلے اس قدر بلند کر دیے کہ ٹرمپ اور نتن یاہو نے ایران کے خلاف بھی غزہ طرز کے آپریشن کا آغاز کر دیا۔ اگرچہ ابتدائی طور پر ایران کے لیے ان عالمی طاقتوں کا مقابلہ کرنا ناممکن دکھائی دے رہا تھا لیکن خلیج فارس کے قدرتی جغرافیے نے جنگی حالات کو یکسر تبدیل کر دیا ہے۔ اس جغرافیائی الجھاؤ نے اس جنگ کو اتنا حساس بنا دیا ہے کہ اب پوری دنیا کے معاشی مفادات اس کی زد میں آ چکے ہیں۔ اپنے مالیاتی تحفظ کی خاطر اب تمام ممالک اس جنگ سے اٹھنے والی چیخیں سننے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ جس دنیا نے مظلوموں کا لہو بڑی آسانی سے فراموش کر دیا تھا وہی بے حس دنیا اب اپنے معمولی معاشی نقصان کے خدشے پر واویلا کر رہی ہے۔ فیض احمد فیض نے اسی صورتحال کی ترجمانی کرتے ہوئے کہا تھا کہ!
اے ظلم کے ماتو لب کھولو چپ رہنے والو چپ کب تک
کچھ حشر تو ان سے اٹھے گا کچھ دور تو نالے جائیں گے
یہ امر نہایت افسوسناک ہے کہ عالم اسلام کے پچاس سے زائد ممالک غزہ پر ہونے والی وحشیانہ بمباری پر طویل عرصے تک خاموش تماشائی بنے رہے۔ حالانکہ انسانیت سوز مظالم کی شدت دیکھ کر خود مغرب کے عام شہری سڑکوں پر نکل آئے تھے مگر کسی مسلم ملک کو اتنی توفیق نہ ہوئی کہ وہ ان جنگی جرائم کے خلاف کوئی مؤثر عملی قدم اٹھاتا۔ آج جب لبنان کی بستیاں اجاڑی جا رہی ہیں تو عالمی سطح پر انسانی جانوں کے زیاں سے زیادہ فکر تیل کی رسد میں ممکنہ تعطل پر ظاہر کی جا رہی ہے کیونکہ اس کے بغیر عالمی معیشت کا پہیہ جام ہو جائے گا۔ یہ مفاد پرست دنیا اس وقت کہاں تھی جب غزہ کے پیاسے اور بھوکے لوگ چند کلو اناج کے حصول کے لیے گولیوں کا نشانہ بن رہے تھے اور نو مولود بچے اپنے والدین کے ہاتھوں میں دم توڑ رہے تھے۔ مبارک صدیقی نے کیا خوب کہا ہے کہ
یاد ہے رْستم و سہراب ہوا کرتے تھے
عشق اور جنگ کے آداب ہوا کرتے تھے
آج طاقت کے نشے میں چور قوتیں روایتی میڈیا پر اثر انداز ہو کر اپنی جارحیت کو چھپانے کی کوشش کر رہی ہیں جبکہ ایران اور لبنان کی شہری آبادیاں جدید ترین میزائلوں کے نشانے پر ہیں۔ عالمی رہنماؤں کی تمام تر تڑپ صرف آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے تک محدود ہے تاکہ ان کی معیشت کو زک نہ پہنچے۔ اس دوران بھارت اور پاکستان جیسی حکومتیں عوامی امنگوں کے برعکس صیہونی طاقتوں کے ساتھ اپنی وفاداریاں نبھانے میں مصروف ہیں۔ ایسے کٹھن حالات میں ابلاغ کے نئے اور متبادل ذرائع امید کی ایک کرن بن کر ابھرے ہیں جو روایتی میڈیا کے برعکس حقائق کو سامنے لا رہے ہیں۔ وقت کا تقاضا ہے کہ موجودہ عالمی نظام کے خلاف رائے عامہ کو اس قدر منظم کیا جائے کہ ظلم کی بنیادیں ہل جائیں کیونکہ فیض کے بقول
ہم پرورشِ لوح و قلم کرتے رہیں گے
جو دل پہ گزرتی ہے رقم کرتے رہیں گے
منظور یہ تلخی، یہ ستم ہم کو گوارا
دم ہے تو مداوائے الم کرتے رہیں گے












