یتیموں کی ماں: حوریہ کی زندگی کا نیا سفر!!!

0
5

حوریہ کا تعلق الجزائر سے ہے، جنہیں دورانِ تعلیم اپنے ایک ہم جماعت سے محبت ہوئی اور یہ رشتہ جلد ہی نکاح میں بدل گیا۔ شادی کے بعد پندرہ سال کا طویل عرصہ گزر گیا اور اس دوران ان کے ہاں آٹھ بچوں کی ولادت ہوئی، مگر قدرت نے ان کی مامتا کا امتحان کچھ اس طرح لیا کہ کوئی بچہ چھ ماہ بعد خالقِ حقیقی سے جا ملا تو کوئی سال دو سال بعد وفات پا گیا۔ اس طرح یکے بعد دیگرے ان کے تمام آٹھ بچے دنیا سے رخصت ہو گئے۔ اولاد کے بچھڑنے کا صدمہ ابھی تازہ ہی تھا کہ حوریہ کے شوہر بھی ان کا ساتھ چھوڑ کر منوں مٹی تلے جا سوئے۔ ان پے در پے صدمات نے حوریہ کی زندگی کو بوجھل بنا دیا تھا کہ اسی اثنا میں انہیں کینسر جیسی مہلک بیماری کی تشخیص ہوئی۔ اسپتال کے بستر پر زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا حوریہ اکثر سوچتیں کہ اگر وہ اس بیماری کو شکست دے کر چند سال مزید جی بھی لیں تو آخر کس کے لیے؟ ان کے والدین بچپن میں ہی انتقال کر گئے تھے، اولاد بھی داغِ مفارقت دے چکی تھی اور جیون ساتھی بھی بچھڑ گیا تھا۔ ان کے سامنے اب مستقبل مکمل طور پر تاریک تھا اور زندگی کا کوئی مقصد نظر نہیں آتا تھا۔انہی مایوس کن سوچوں سے لڑتے ہوئے اچانک حوریہ کے ذہن میں ایک منفرد خیال آیا جس نے ان کی ہمت کو مہمیز کیا۔ وہ اسپتال سے نکل کر سیدھی گھر پہنچیں اور ایک نئی توانائی کے ساتھ اپنے گھر کی ترتیب و صفائی میں جٹ گئیں۔ انہوں نے اضافی چادریں اور بستر منگوا لیے کیونکہ اب انہیں اپنی زندگی کا وہ مقصد مل چکا تھا جس کے لیے جینا لازم تھا۔ حوریہ نے اپنے گھر کو دارالایتام قرار دے کر یتیم بچوں کی کفالت، تربیت اور پرورش کا بیڑا اٹھا لیا۔ وہ ایک مہربان ماں بن کر ان بچوں کی نگہداشت کرنے لگیں اور دیکھتے ہی دیکھتے وہاں یتیم بچوں کی ایک بڑی تعداد جمع ہو گئی۔ وہ اپنا دن رات ان بچوں کے ساتھ گزارتیں، ان کی چھوٹی چھوٹی خوشیوں کے لیے دوڑ دھوپ کرتیں اور ان کے لیے کھلونے لا کر ان کے ساتھ گھنٹوں کھیلتیں۔ اس خدمتِ خلق کے دوران اللہ تعالی کی خاص مدد شاملِ حال رہی اور حوریہ نے نہ صرف کینسر کو شکست دی بلکہ ان کے کام کی شہرت پورے ملک میں پھیل گئی۔ الجزائر کے عوام میں وہ ام الایتام یعنی یتیموں کی ماں کے نام سے مشہور ہوئیں اور حکومتی سطح پر بھی ان کی خدمات کا اعتراف کیا گیا۔آج حوریہ کی نگرانی میں ملک بھر میں درجنوں یتیم خانے کامیابی سے چل رہے ہیں اور وہ یتیموں کی کفالت کے علاوہ دیگر فلاحی کاموں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہی ہیں۔ وہ اب اپنی زندگی سے نہ صرف مطمئن ہیں بلکہ بے حد خوش بھی ہیں۔ ان کی کہانی اس حقیقت کی عکاس ہے کہ زندگی ایک عجیب گورکھ دھندا ہے جہاں بظاہر سب کچھ ختم ہوتا دکھائی دے، وہیں سے ایک نئے اور بھرپور آغاز کی راہ نکل سکتی ہے۔ زندگی بے شک خوبصورت ہے بشرطیکہ انسان کو اسے جینے کا سلیقہ آ جائے۔ جو لوگ دوسروں کی خوشیوں کو اپنا مقصدِ حیات بنا لیتے ہیں، قدرت انہیں کبھی مستقل غموں میں مبتلا نہیں رہنے دیتی کیونکہ یہ ایک آفاقی سچائی ہے کہ دوسروں کے راستے میں پھول اگانے والے ہمیشہ خوشبوؤں کے حصار میں رہتے ہیں۔
٭٭٭

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here