ایران اور امریکہ کے مابین جاری طویل کشیدگی عالمی امن اور استحکام کے لیے ایک مستقل خطرہ بن چکی ہے جس کے اثرات اب محض سیاسی نہیں بلکہ عالمی معیشت کے لیے بھی تباہ کن ثابت ہو رہے ہیں۔ اگرچہ یہ تنازع فی الوقت ایک بھرپور جنگ میں تبدیل نہیں ہوا تاہم اس کی بدولت پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ اس سنگین صورتحال کا تقاضا ہے کہ فریقین ضبط و تحمل سے کام لیں کیونکہ کسی بھی ممکنہ تصادم کی صورت میں عالمی معاشی ڈھانچہ بری طرح لڑکھڑا سکتا ہے۔ اس ضمن میں سب سے زیادہ تشویشناک پہلو تیل کی عالمی منڈی سے وابستہ ہے کیونکہ ایران تیل کی پیداوار کے حوالے سے کلیدی اہمیت رکھتا ہے اور آبنائے ہرمز جیسے حساس بحری راستے پر اس کا اثر و رسوخ عالمی سپلائی لائن کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ اگر اس خطے میں جنگ کے بادل گہرے ہوتے ہیں تو تیل کی ترسیل میں تعطل کے باعث قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں گی جس کا براہ راست نتیجہ عالمی سطح پر بے قابو مہنگائی کی صورت میں نکلے گا اور اس کا سب سے زیادہ بوجھ عام آدمی کو اٹھانا پڑے گا۔تیل کے بحران کیساتھ ساتھ عالمی تجارت کا پہیہ بھی اس کشیدگی کی وجہ سے سست روی کا شکار ہو سکتا ہے کیونکہ جنگی حالات میں بحری راستے غیر محفوظ ہونے سے انشورنس کے اخراجات میں کئی گنا اضافہ ہو جاتا ہے۔ جب مال بردار جہازوں کی آمد و رفت متاثر ہوتی ہے تو نہ صرف سامان کی فراہمی میں تاخیر ہوتی ہے بلکہ اس سے اشیائ کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے جو پہلے سے معاشی دباؤ کے شکار ترقی پذیر ممالک کے لیے کسی المیے سے کم نہیں ہوتا۔ یہی غیر یقینی صورتحال سرمایہ کاری کے ماحول کو بھی پراگندہ کرتی ہے جس سے سرمایہ کار اپنا پیسہ نکال کر محفوظ اثاثوں کی جانب منتقل کرنے لگتے ہیں اور یوں اسٹاک مارکیٹیں مندی کا شکار ہو جاتی ہیں۔ جب کاروباری سرگرمیاں محدود ہوتی ہیں تو روزگار کے مواقع ختم ہونے لگتے ہیں اور مجموعی معاشی ترقی کا عمل رک جاتا ہے۔ مزید برآں یہ سیاسی رسہ کشی دیگر علاقائی ممالک کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے جس سے سفارتی پیچیدگیاں بڑھتی ہیں اور عالمی امن کا توازن بگڑ جاتا ہے۔ لہٰذا یہ کہنا وقت کی اہم ضرورت ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان تنازعات کا حل محض طاقت کے استعمال میں نہیں بلکہ سنجیدہ مذاکرات اور سفارت کاری میں پوشیدہ ہے تاکہ دنیا کو ایک بڑے معاشی اور انسانی بحران سے بچایا جا سکے۔
٭٭٭











