عزت، بلیک میلنگ اور قتل کی کہانی!!!

0
6
سید کاظم رضوی
سید کاظم رضوی

محترم قارئین کرام سید کاظم رضا نقوی کی جانب سے آپ کی خدمت میں سلام پہنچے موجودہ دور میں جو کچھ دیکھنے اور سننے کو مل رہا ہے اس پر الامان الحفیظ ہی کہا جا سکتا ہے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ لوگوں کے دلوں سے ایمان رخصت ہو چکا ہے یا پھر حد درجہ کمزور پڑ گیا ہے لوگ یہ بھول چکے ہیں کہ اس فانی دنیا کے بعد ایک اور ابدی زندگی بھی ہے جہاں انسان کو اپنے اعمال کی فصل کاٹنی ہوگی آپ دنیاوی قانون اور ججوں کو تو دھوکہ دے سکتے ہیں لیکن کاندھوں پر بیٹھے ان فرشتوں کی گواہی کو کون جھٹلا سکے گا جو لمحہ بہ لمحہ ہمارا نامہ اعمال لکھ رہے ہیں اسی لیے ابن آدم کے لیے یہی بہتر ہے کہ وہ اس دنیا میں ایسے کاموں سے اجتناب برتے جو اس کی دنیا اور آخرت دونوں کو تباہ کر دیں
آج کل محبت اور شادی کے جھوٹے وعدوں پر بنت حوا کی عزت سے کھیلنا اور غیر اخلاقی ویڈیوز بنا کر انہیں بلیک میل کرنا ایک ناسور بن چکا ہے اسی حوالے سے آج لاہور کی ایک پڑھی لکھی مگر مجبور لڑکی کی کہانی پیش خدمت ہے جس نے حالات سے تنگ آ کر قتل جیسا سنگین قدم اٹھایا لاہور کے علاقے شاہدرہ میں ایک ہوٹل کے کمرے میں اپنے ہی دوست کو قتل کرنے والی ایم اے کی طالبہ کا موقف انتہائی چونکا دینے والا ہے گزشتہ ماہ جب ہوٹل میں گولی چلنے کی آواز آئی تو انتظامیہ ایک گھنٹے تک کمروں کی تلاشی لیتی رہی اور اسی دوران ملزمہ علینہ اپنے دوست کو قتل کر کے باآسانی فرار ہونے میں کامیاب ہو گئی تاہم سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے پولیس نے 72 گھنٹوں کے اندر اسے گھر سے گرفتار کر لیا ملزمہ نے اعتراف جرم کرتے ہوئے بتایا کہ اس شخص کو قتل کرنا اس پر واجب ہو چکا تھا کیونکہ وہ اسے ذہنی اور جسمانی طور پر نوچ رہا تھا ایک سال قبل رابطہ ہونے پر اس نے اسے ایک اچھا انسان سمجھا تھا لیکن وہ ہوس کا پجاری نکلا جو ہر دوسرے دن ملاقات پر مجبور کرتا اور خفیہ طور پر بنائی گئی تصاویر اور ویڈیوز کے ذریعے بلیک میل کرتا تھا علینہ کے مطابق اس نے بارہا منت سماجت کی کہ ویڈیوز حذف کر دی جائیں لیکن اس شخص نے انکار کر دیا جس کے بعد علینہ نے پستول چلانا سیکھا اور اپنے والد کا لائسنسی اسلحہ لے کر ہوٹل پہنچی وہاں آخری بار ویڈیوز مٹانے کا مطالبہ کیا مگر جواب نفی میں ملنے پر اس نے اس کے سر اور سینے میں گولیاں مار دیں اور اس کی موت کا یقین کرنے کے بعد وہاں سے نکل گئی پولیس نے ملزمہ کو چالان کر کے جیل بھیج دیا ہے
اس واقعے پر غور کیا جائے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس لڑکی کو کسی نے پہلی بار زبردستی ہوٹل بھیجا تھا یا وہ خود گئی تھی کسی کو اچھا انسان سمجھنے اور حقیقت میں اچھا ہونے میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے جس وقت پہلی بار عزت ہاتھ سے گئی اسی وقت سب کچھ ختم ہو گیا تھا اس لیے جہاں وہ ہوس پرست مقتول قصوروار ہے وہاں وہ لڑکی بھی ذمہ دار ہے جو معاشرے میں روزانہ پیش آنے والے ایسے واقعات سے آگاہ ہونے کے باوجود احتیاط نہیں برتتی میڈیا اور سوشل میڈیا پر آگاہی کے اتنے پروگراموں کے باوجود ایسی غلطیاں سمجھ سے باہر ہیں میرا مقصد کسی سیاسی وابستگی کا اظہار نہیں بلکہ معاشرے میں بڑھتے ہوئے ان سفاکانہ جرائم کی نشاندہی کرنا ہے تاکہ کوئی اور معصوم بچی ایسی دلدل میں نہ پھنسے مقتول سے کوئی ہمدردی نہیں ہے بلکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ قانون میں ایسی اصلاحات کی جائیں کہ بلیک میلنگ سے تنگ آ کر انتہائی قدم اٹھانے والی خواتین کو رعایت دی جائے اس لڑکی نے اس ذہنی مریض کو ختم کر کے شاید کئی دوسری لڑکیوں کی زندگیاں بچا لی ہیں دعا ہے کہ یہ لڑکی جلد رہا ہو کر توبہ کے ساتھ ایک بہتر زندگی گزار سکے۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here