عزت، بلیک میلنگ اور قتل کی کہانی!!!

0
112
سید کاظم رضوی
سید کاظم رضوی

محترم قارئین کرام سید کاظم رضا نقوی کی جانب سے آپ کی خدمت میں سلام پہنچے موجودہ دور میں جو کچھ دیکھنے اور سننے کو مل رہا ہے اس پر الامان الحفیظ ہی کہا جا سکتا ہے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ لوگوں کے دلوں سے ایمان رخصت ہو چکا ہے یا پھر حد درجہ کمزور پڑ گیا ہے لوگ یہ بھول چکے ہیں کہ اس فانی دنیا کے بعد ایک اور ابدی زندگی بھی ہے جہاں انسان کو اپنے اعمال کی فصل کاٹنی ہوگی آپ دنیاوی قانون اور ججوں کو تو دھوکہ دے سکتے ہیں لیکن کاندھوں پر بیٹھے ان فرشتوں کی گواہی کو کون جھٹلا سکے گا جو لمحہ بہ لمحہ ہمارا نامہ اعمال لکھ رہے ہیں اسی لیے ابن آدم کے لیے یہی بہتر ہے کہ وہ اس دنیا میں ایسے کاموں سے اجتناب برتے جو اس کی دنیا اور آخرت دونوں کو تباہ کر دیں
آج کل محبت اور شادی کے جھوٹے وعدوں پر بنت حوا کی عزت سے کھیلنا اور غیر اخلاقی ویڈیوز بنا کر انہیں بلیک میل کرنا ایک ناسور بن چکا ہے اسی حوالے سے آج لاہور کی ایک پڑھی لکھی مگر مجبور لڑکی کی کہانی پیش خدمت ہے جس نے حالات سے تنگ آ کر قتل جیسا سنگین قدم اٹھایا لاہور کے علاقے شاہدرہ میں ایک ہوٹل کے کمرے میں اپنے ہی دوست کو قتل کرنے والی ایم اے کی طالبہ کا موقف انتہائی چونکا دینے والا ہے گزشتہ ماہ جب ہوٹل میں گولی چلنے کی آواز آئی تو انتظامیہ ایک گھنٹے تک کمروں کی تلاشی لیتی رہی اور اسی دوران ملزمہ علینہ اپنے دوست کو قتل کر کے باآسانی فرار ہونے میں کامیاب ہو گئی تاہم سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے پولیس نے 72 گھنٹوں کے اندر اسے گھر سے گرفتار کر لیا ملزمہ نے اعتراف جرم کرتے ہوئے بتایا کہ اس شخص کو قتل کرنا اس پر واجب ہو چکا تھا کیونکہ وہ اسے ذہنی اور جسمانی طور پر نوچ رہا تھا ایک سال قبل رابطہ ہونے پر اس نے اسے ایک اچھا انسان سمجھا تھا لیکن وہ ہوس کا پجاری نکلا جو ہر دوسرے دن ملاقات پر مجبور کرتا اور خفیہ طور پر بنائی گئی تصاویر اور ویڈیوز کے ذریعے بلیک میل کرتا تھا علینہ کے مطابق اس نے بارہا منت سماجت کی کہ ویڈیوز حذف کر دی جائیں لیکن اس شخص نے انکار کر دیا جس کے بعد علینہ نے پستول چلانا سیکھا اور اپنے والد کا لائسنسی اسلحہ لے کر ہوٹل پہنچی وہاں آخری بار ویڈیوز مٹانے کا مطالبہ کیا مگر جواب نفی میں ملنے پر اس نے اس کے سر اور سینے میں گولیاں مار دیں اور اس کی موت کا یقین کرنے کے بعد وہاں سے نکل گئی پولیس نے ملزمہ کو چالان کر کے جیل بھیج دیا ہے
اس واقعے پر غور کیا جائے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس لڑکی کو کسی نے پہلی بار زبردستی ہوٹل بھیجا تھا یا وہ خود گئی تھی کسی کو اچھا انسان سمجھنے اور حقیقت میں اچھا ہونے میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے جس وقت پہلی بار عزت ہاتھ سے گئی اسی وقت سب کچھ ختم ہو گیا تھا اس لیے جہاں وہ ہوس پرست مقتول قصوروار ہے وہاں وہ لڑکی بھی ذمہ دار ہے جو معاشرے میں روزانہ پیش آنے والے ایسے واقعات سے آگاہ ہونے کے باوجود احتیاط نہیں برتتی میڈیا اور سوشل میڈیا پر آگاہی کے اتنے پروگراموں کے باوجود ایسی غلطیاں سمجھ سے باہر ہیں میرا مقصد کسی سیاسی وابستگی کا اظہار نہیں بلکہ معاشرے میں بڑھتے ہوئے ان سفاکانہ جرائم کی نشاندہی کرنا ہے تاکہ کوئی اور معصوم بچی ایسی دلدل میں نہ پھنسے مقتول سے کوئی ہمدردی نہیں ہے بلکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ قانون میں ایسی اصلاحات کی جائیں کہ بلیک میلنگ سے تنگ آ کر انتہائی قدم اٹھانے والی خواتین کو رعایت دی جائے اس لڑکی نے اس ذہنی مریض کو ختم کر کے شاید کئی دوسری لڑکیوں کی زندگیاں بچا لی ہیں دعا ہے کہ یہ لڑکی جلد رہا ہو کر توبہ کے ساتھ ایک بہتر زندگی گزار سکے۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here