نیویارک (پاکستان نیوز) ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای عوامی نظروں سے اوجھل ہونے کے باوجود ریاست کے اہم فیصلے کر رہے ہیں اور امریکی انٹیلی جنس کے مطابق وہ جنگی حکمت عملی اور امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی سمت متعین کرنے میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔ وہ جنگ کے آغاز میں ایک ایسے حملے کے دوران شدید زخمی ہوئے تھے جس میں ان کے والد اور کئی اعلیٰ عسکری حکام ہلاک ہو گئے تھے۔ ان کی صحت کے حوالے سے متضاد اطلاعات گردش کر رہی ہیں کیونکہ وہ ایک طویل عرصے سے منظر عام پر نہیں آئے۔ امریکی حکام کا ماننا ہے کہ وہ اپنی سیکیورٹی کی خاطر الیکٹرانک آلات کا استعمال نہیں کر رہے اور صرف قاصدوں کے ذریعے پیغامات منتقل کر رہے ہیں۔
ایران کے اعلیٰ حکام کا دعویٰ ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت اب بہتر ہے اور وہ اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں، تاہم امریکی انٹیلی جنس اب تک ان کی موجودگی کی تصویری تصدیق کرنے میں ناکام رہی ہے۔ اس دوران صدر ٹرمپ کی انتظامیہ ایران کے ساتھ جاری تنازع کے سفارتی حل کے لیے کوشاں ہے، جبکہ ایک ماہ سے زائد عرصے سے جاری جنگ بندی کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان تناؤ برقرار ہے۔ رپورٹ کے مطابق امریکی ناکہ بندی سے ایرانی معیشت پر دباؤ بڑھ رہا ہے، لیکن ایران اب بھی اپنی فوجی صلاحیتوں کو بحال کرنے اور 4 ماہ تک مزاحمت کرنے کی پوزیشن میں ہے۔ دوسری جانب ایرانی پاسداران انقلاب کے حکام اور پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف روزمرہ کے حکومتی امور چلا رہے ہیں۔ امریکی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ایران کا اقتدار اس وقت منقسم ہے اور حتمی فیصلوں کے لیے نئے سپریم لیڈر کی منظوری لی جاتی ہے تاکہ مذاکرات کاروں کو اندرونی تنقید سے تحفظ مل سکے۔ اگرچہ ایران کی عسکری طاقت کو نقصان پہنچا ہے، مگر اس کے 2 تہائی میزائل لانچرز اب بھی محفوظ ہیں جو کسی بھی وقت جوابی کارروائی کی صلاحیت رکھتے ہیں۔












