واشنگٹن (پاکستان نیوز) مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کی نوعیت حالیہ ہفتوں میں یکسر بدل چکی ہے اور دونوں فریقین ایک دوسرے پر بھاری اقتصادی ناکہ بندی نافذ کر کے طویل جنگ بندی کے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں مگر وائٹ ہاؤس کے بیانیے میں کوئی تبدیلی دیکھنے میں نہیں آئی۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ مسلسل اپنے ان مخصوص نکات کو دہرا رہے ہیں جن کے مطابق امریکہ مکمل طور پر صورتحال پر قابو پائے ہوئے ہے اور ایرانی عسکری قوت مکمل طور پر مفلوج ہو چکی ہے۔ صدر کے ان دعووں نے سیاسی ماہرین اور تجزیہ کاروں کو اس کشمکش میں ڈال دیا ہے کہ آیا ان کے بیانات زمینی حقائق کی عکاسی کرتے ہیں یا یہ محض ایک مخصوص سیاسی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔ صدر ٹرمپ اپنے حالیہ عوامی اجتماعات اور ذرائع ابلاغ سے گفتگو میں مسلسل یہ موقف اپنائے ہوئے ہیں کہ یہ جنگ بہت جلد اپنے منطقی انجام کو پہنچ جائے گی۔ انہوں نے اس طویل فوجی مہم کو محض ایک مختصر سیر یا عارضی موڑ سے تشبیہ دی ہے جبکہ حقیقت میں کانگریس کی اجازت کے بغیر جاری یہ مسلح تنازعہ ایک سنگین جنگ کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ صدر کا ایک اہم دعویٰ یہ بھی ہے کہ ایرانی بحریہ، فضائیہ اور دفاعی نظام کو مکمل طور پر نیست و نابود کر دیا گیا ہے اور وہاں کی قیادت اب کسی بھی قسم کی مزاحمت کے قابل نہیں رہی۔ ان کے بقول ایرانی حکام اب کسی بھی قیمت پر معاہدہ کرنے کے لیے بے چین ہیں اور پس پردہ مذاکرات کامیابی کی جانب گامزن ہیں۔ دوسری جانب صدر ٹرمپ اپنے ہر بیان میں سابقہ دور حکومت کے ایٹمی معاہدے کو نشانہ بنانا نہیں بھولتے اور اس عزم کا اظہار کرتے ہیں کہ ان کے دور میں ہونے والا نیا معاہدہ ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ جامع اور بہتر ہو گا۔ وہ اس جنگ کو ایران کے ایٹمی عزائم کو روکنے کے لیے ناگزیر قرار دیتے ہوئے اسے عالمی امن کے لیے ضروری گردانتے ہیں۔ تاہم رائے عامہ کے جائزوں میں ان کے اس بیانیے کی مقبولیت میں کمی دیکھی گئی ہے کیونکہ جنگ بندی کے باوجود تہران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش نے عالمی سطح پر تیل کی ترسیل اور معیشت کے لیے نئے چیلنجز پیدا کر دیے ہیں جن کا ذکر صدر کے سرکاری بیانات میں کم ہی ملتا ہے۔













