پاکستان کی ثالثی پرفیلڈ مارشل عاصم منیرکیخلاف اسرائیل کی کڑی تنقید

0
12

ممبئی (پاکستان نیوز)ممبئی میں تعینات اسرائیلی قونصل جنرل یانیو ریواچ کے حوالے سے سوشل میڈیا پر گردش کرنیوالے بیانات اور مشرق وسطی کی تقسیم سے متعلق اسرائیلی قونصل جنرل نے کسی بھی سطح پر مشرق وسطی کو چھوٹے حصوں میں تقسیم کرنے یا گریٹر اسرائیل کے قیام جیسی گفتگو نہیں کی۔ مئی 2026 کے دوران سامنے آنیوالے ان کے اصل بیان میں صرف پاکستان کے ثالثی کردار پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا۔ انہوں نے بھارتی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے واضح کیا کہ اسرائیل امریکہ اور ایران کے مابین کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان کے بطور ثالث کردار سے بالکل مطمئن نہیں ہے کیونکہ اسے ایک غیر معتبر فریق سمجھا جاتا ہے۔ دوسری جانب پاکستان کے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کے خلاف کسی قسم کی نازیبا زبان کے استعمال کے شواہد بھی موجود نہیں ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان اس وقت مشرق وسطی میں جنگ بندی کے لیے ایک فعال سفارتی پل کا کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ مئی 2026 کی تازہ ترین اطلاعات کے مطابق ایران نے امریکہ کی جانب سے موصول ہونے والی امن تجویز کا جواب پاکستان کے ذریعے ہی ارسال کیا ہے۔ پاکستانی قیادت اور عسکری حکام اس وقت تہران اور واشنگٹن کے درمیان ڈیڈ لاک ختم کرنے کے لیے کوشاں ہیں تاکہ خطے کو ایک بڑی جنگ سے بچایا جا سکے۔ اسرائیلی سفیر کے بیانات کو توڑ مروڑ کر پیش کرنا دراصل اس سفارتی عمل کو سبوتاڑ کرنے کی ایک کوشش معلوم ہوتی ہے جبکہ اسرائیل کا سرکاری موقف صرف علاقائی سلامتی اور تزویراتی مفادات تک محدود ہے۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here