غیر قانونی تارکین وطن کی حفاظت کیلئے نئی قانون سازی کا آغاز

0
12

نیویارک (پاکستان نیوز)امریکہ میں غیر قانونی تارکین وطن کے لیے امیگریشن اور کسٹمز انفورسمنٹ یعنی آئس کے ساتھ معمول کی ملاقاتوں کو محفوظ بنانے کے لیے ایک نئی وفاقی قانون سازی کا آغاز کیا گیا ہے۔ امریکی ایوان نمائندگان کی رکن گریس مینگ نے ایک نیا بل متعارف کروایا ہے جس کا مقصد تارکین وطن کو اپنی لازمی حاضری ویڈیو کال یا زوم جیسے پلیٹ فارمز کے ذریعے مکمل کرنے کی اجازت دینا ہے۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد ان افراد کو ملاقات کے دوران اچانک گرفتاریوں سے بچانا ہے جو اپنی قانونی ذمہ داریاں پوری کرنے کے لیے سرکاری دفاتر کا رخ کرتے ہیں۔ سیف چیک انز فار امیگرنٹس ایکٹ نامی یہ بل ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امیگریشن دفاتر اور عدالتوں کے باہر سے تارکین وطن کی گرفتاریوں میں تیزی سے اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اس قانونی مسودے کے مطابق ہوم لینڈ سیکیورٹی کے سیکرٹری اس بات کے پابند ہوں گے کہ وہ تارکین وطن کو ویڈیو ٹیلی کانفرنسنگ کے ذریعے اپنی موجودگی درج کرانے کی سہولت فراہم کریں۔ اس سے قبل بھی کچھ ارکان پارلیمنٹ نے ایسے قوانین متعارف کرانے کی کوشش کی تھی جو عدالتی وارنٹ کے بغیر ایسی جگہوں سے گرفتاریوں پر پابندی عائد کرنے کی بات کرتے تھے لیکن گریس مینگ کا یہ نیا بل ٹیکنالوجی کے استعمال سے اس مسئلے کا مستقل حل تلاش کرنے کی کوشش ہے۔ رکن پارلیمنٹ کا دعویٰ ہے کہ موجودہ انتظامیہ کے دور میں ان گرفتاریوں میں 4 گنا اضافہ ہوا ہے اور زیادہ تر نشانہ بننے والے وہ افراد ہیں جن کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں ہے۔ انہوں نے انتظامیہ کی پالیسیوں پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ قانون کی پاسداری کرنے والے افراد کو ہراساں کرنا انصاف نہیں بلکہ خوف و ہراس پھیلانا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ بل تارکین وطن کو بغیر کسی خوف کے اپنی قانونی حیثیت کی جانب سفر جاری رکھنے میں مددگار ثابت ہوگا۔ اس بل کو نیویارک امیگریشن کولیشن اور ایشین امریکن فیڈریشن سمیت کئی اہم سماجی تنظیموں کی بھرپور حمایت حاصل ہے جو تارکین وطن کے حقوق کے لیے سرگرم عمل ہیں۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here