واشنگٹن (پاکستان نیوز) برطانوی بادشاہ چارلس سوم اور صدر ٹرمپ کے درمیان ہونیوالی ایک دلچسپ جملہ بازی نے بین الاقوامی میڈیا کی توجہ حاصل کر لی ہے۔ وائٹ ہاؤس میں منعقدہ ایک پروقار سرکاری ضیافت کے دوران برطانوی بادشاہ نے امریکی صدر کے ایک پرانے اور مشہور بیان کا نہ صرف برجستہ جواب دیا بلکہ تاریخی حوالوں سے اپنی بات میں وزن بھی پیدا کیا۔تقریب کے دوران گفتگو کرتے ہوئے بادشاہ چارلس نے صدر ٹرمپ کو مخاطب کیا اور مسکراتے ہوئے کہا کہ اگر ماضی میں برطانیہ کا وجود نہ ہوتا تو آج امریکہ کے شہری انگریزی کے بجائے فرانسیسی زبان بول رہے ہوتے۔ برطانوی بادشاہ کا یہ تبصرہ دراصل صدر ٹرمپ کے اس دعوے کا ردعمل تھا جو انہوں نے جنوری میں ڈیووس کے عالمی اقتصادی اجلاس کے موقع پر کیا تھا۔ صدر ٹرمپ نے اس وقت موقف اختیار کیا تھا کہ اگر دوسری جنگ عظیم میں امریکہ مداخلت نہ کرتا اور یورپ کی مدد کو نہ پہنچتا تو آج پورے براعظم یورپ میں جرمن زبان بولی جا رہی ہوتی اور بعض علاقوں میں لوگ جاپانی زبان میں گفتگو کر رہے ہوتے۔ بادشاہ چارلس نے تاریخ کے اوراق پلٹتے ہوئے صدر ٹرمپ کو یاد دلایا کہ امریکہ کی آزادی سے قبل تقریباً 250 سال تک برطانیہ اور فرانس کے درمیان شمالی امریکہ کے خطے پر قبضے اور بالادستی کے لیے طویل جنگیں لڑی گئیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس دور میں برطانیہ کی کامیابی ہی وہ بنیادی وجہ تھی جس کے باعث امریکہ میں انگریزی زبان اور ثقافت کو فروغ ملا۔ بادشاہ کے اس ہلکے پھلکے طنز کو محفل میں موجود شرکاء نے بہت دلچسپی سے سنا۔ اس گفتگو نے جہاں دونوں رہنماؤں کے درمیان دوستانہ تعلقات کی عکاسی کی، وہاں تاریخی حقائق کے ذریعے عالمی طاقتوں کے باہمی اثر و رسوخ کو بھی ایک نئے انداز میں اجاگر کیا۔











